افغان انتخابات اور طالبان کا ’زور‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے افغانستان میں نو اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں رخنہ ڈالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان کے جنوب مشرقی صوبوں میں اب بھی طالبان کا زور ہے۔ ان میں ہلمند، قندھار، زابل، غزنی، پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار اور کنڑ قابل ذکر ہیں۔ ان علاقوں میں ماضی میں بھی طالبان پرتشدد کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ شہروں کو چھوڑ کر دیہات ان کے کنٹرول میں ہے۔ گزشتہ دنوں میرا زابل جانا ہوا، جہاں اتفاق سے طالبان کی ایک جمعیت سے ملاقات ہوئی۔ اس میں شامل چار مسلح افراد نے اپنا تعارف، ملا معصوم، ملا بشیر، ملا نذیر، اور عثمان کہہ کر کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ زابل کے مختلف سیکٹرز میں سرگرم ہیں اور ان کے ساتھ پانچ درجن کے قریب دوسرے طالبان بھی ہیں جبکہ مختلف صوبوں میں الگ الگ طالبان کمانڈر کارروائیاں کرتے ہیں۔ حکومت طالبان کو ایک منظم قوت ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وزیر داخلہ علی احمد جلالی کہتے ہیں کہ اگر کسی سرحدی علاقے میں واقع ضلع میں ایک دو جھوپنڑیوں پر کوئی فائرنگ کرکے چلا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ یہ کام تو لٹیروں اور چوروں کا ہے۔
تاہم زابل میں سرُ غر کے جس مقام پر ہم گئے وہاں ان ہی لوگوں کی عملداری نظر آئی۔ ان لوگوں سے تفصیلی گفتگو کے دوران پتہ چلا کہ وہ الیکشن کے روز سنگین کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتے جن میں خودکش حملے بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ احمد جلالی کہتے ہیں کہ الیکشن کے روز حملوں کا احتمال ہے مگر وہ اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس روز ایک لاکھ فوجی اور پولیس کے سپاہی سکیورٹی کا نظام سنبھالیں گے۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس بھی موجود ہوگی۔
ملا معصوم کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک اپنی گوریلہ کارروائیاں جاری رکھیں گے جب تک ایک بھی امریکی افغانستان میں موجود ہے اور جب تک ملک میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہوجاتی۔ جب ان سے کہا گیا کہ پاکستان میں بھی اسلام پسند جماعتیں ہیں اور انہوں نے اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کیا ہے تو ملا بشیر کا جواب تھا۔ ’ہماری اور ان کی سیاست الگ ہے۔ پاکستان پر امریکہ نے سیاسی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ جبکہ افغانستان پر وہ فوجی طاقت کے ذریعے قابض ہے۔ یہاں بش کا قبضہ ہے۔ (حامد) کرزئی کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔‘
لیکن ان طالبان نے اس بات کی تردید کہ وہ عام لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کا نشانہ سرکاری کارندے، پولیس، افغان فوج اور وہ غیر ملکی ہیں جو حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کے بارے میں ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ان کی دشمن ہے لیکن عوام میں ان کی حمایت موجود ہے۔ بقول ان کے دنیا کے تمام مسلمان ملکوں میں ان کی حمایت موجود ہے۔ البتہ پاکستانی زیادہ دیندار ہیں۔ القاعدہ سے رابطوں کے بارے میں عثمان نے جواب دیا کہ ’کافروں‘ کے خلاف لڑنے والے تمام لوگوں سے ان کے رابطے ہیں۔ عثمان سے میں نے پوچھا کہ ملا عمر سے آپ لوگوں کا رابطہ کیسے ہوتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ’امیر المومین‘ کے ویڈیو، آڈیوں اور تحریری پیغامات اور فرمان آتے ہیں۔
عثمان نے کہا کہ سکیورٹی کی وجہ سے انہوں نے کبھی ملا عمر سے ملنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ گفتگو کے دوران نماز مغرب کا وقفہ کیا۔ انٹرویو کے بعد دو مسلح افراد ہمیں ’اپنی حدود‘ سے باہر چھوڑنے ساتھ آئے۔ جب ہم نے ان سے مزید ساتھ چلنے کو کہا کہ کہیں راستے میں کوئی طالبان سرکاری لوگ سمجھ کر حملہ نہ کر دے تو انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے تمام طالبان کو ہماری آمد کی خبر کر دی گئی ہے۔ البتہ ان کا اس سے آگے ہمارے ساتھ جانا خود ہمارے لیے خطرناک ہوگا۔ کیونکہ اگر راستے میں افغان فوج، پولیس یا امریکیوں کا سامنا ہوا تو وہ ان پر فائر کریں گے کیونکہ وہ زندہ گرفتاری پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد طالبان نے گوریلا جنگ کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔ گزشتہ تین برس کے دوران طالبان افغانستان میں درجنوں سرکاری اور غیر ملکی فوجیوں، ملازمین اور املاک کو اپنے حملے کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے ان میں سے اکثر کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||