روا نے کرزئی کی حمایت کردی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم روا نے نو اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے علاوہ حامد کرزئی کی مشروط حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔ قدرے پراسرار طریقے سے زیر زمین رہتے ہوئے افغان عورتوں کے حقوق کے لئے سرگرم اس تنظیم پہلی مرتبہ نو اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں اپنی رائے دے دی ہے۔ پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں جمیعت انقلابی زنان افغانستان کی سحر صبا، سہیلہ کریم اور صائمہ شیما کا کہنا تھا کہ اٹھارہ امیدواروں میں کوئی بھی اس کے معیار پر پورا نہیں اُترتا۔ ان کے مطابق ہر امیدوار کا پس منظر افغان عوام کے خون یا حقوق کی خلاف ورزیوں سے رنگا ہوا ہے جبکہ افغان انتخابی کمیشن بھی جنگجو سرداروں یا ان کے ایجنٹوں کے زیرقبضہ ہے۔ ان انتخابات میں واحد خاتون امیدوار مسودہ جلال بھی اس تنظیم کی حمایت نہیں جیت سکی ہے۔ روا کا کہنا ہے کہ وہ سابق صدر برہان ربانی کی متنازعہ جمیعت اسلامی سے تعلق رکھتی ہیں۔ سہیلہ کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے مسودہ کا تعلق کس گروہ سے ہے اور یہ کہ وہ افغان خواتین کی درست نمائندگی نہیں کر سکیں۔ انتخابی نتائج کے بارے میں روا کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی ہی فاتح ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے پاس کرزئی اور بقول ان کے جرائم پیشہ افراد کے درمیان میں سے کسی کا انتخاب ہی کرنا ہے۔ اسی لئے اس تنظیم نے کرزئی کی مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انتخابات کے بعد کرزئی کو جنگجو سرداروں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا۔ روا پر اس کے مخالفین عورتوں کے لئے مغربی طرز کی آزادی کے حصول کا الزام لگاتے ہیں البتہ روا اس سے انکار کرتی ہے۔ چند مبصرین روا پر ان اہم انتخابات کے اہم موقع پر عورتوں کی رہنمائی نہ کر سکنے یا انہیں کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع کر میں ناکامی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||