پہلےافغان انتخابات، تنازعہ پر اختتام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے عبوری صدر حامد کرزئی کے مدِمقابل پندرہ امیدواروں کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے اور نتائج کو تسلیم نہ کرنے کے اعلان کے بعد افغانستان کی تاریخ کے پہلے جمہوری انتخابات کا اختتام بھی تنازعہ پر ہوا ہے۔ صدر حامد کرزئی کے مخالف امیدواروں نے یہ اعلان انتخابات میں استعمال ہونے والی ان مٹ سیاہی کے ناقص ہونے کی شکایت موصول ہونے کے بعد کیا۔ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اٹھارہ میں سے پندرہ امیدواروں نے کیا جب کے دو امیدوار پہلے ہی دستبردار ہو چکے ہیں۔ دریں اثناء امریکی فوج نے کہا ہے کہ انتخابات کی مہم کے آخری دن یعنی جمعہ کے روز کم از کم چوبیس شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔ یہ افراد مرکزی صوبے اروزگان میں ہلاک کیے گئے۔ تاہم اس کے علاوہ انتخابات بظاہر پر امن رہے اور کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا۔ ایک لاکھ سے زیادہ مسلح سکیورٹی اہلکار جن میں امریکی فوجی اور نیٹو کی امن فوج کے دستے بھی شامل ہیں پورے ملک میں مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے۔ صدر حامد کرزئی نے، جن کی جیت اب یقینی نظر آتی ہے، کہا ہے کہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار رئے کینیڈی نے، جو ان انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں کہا کہ انتخابی عمل جاری رہے گا کیونکہ اس مرحلے پر اس کو روکنا بلا جواز ہوگا اور لوگوں کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا۔
انتخابات کا انعقاد کرنے والے ادارے جائنٹ الیکٹرورل مینجمنٹ باڈی کے سربراہ فاروق وردگ نے کہا ہے کہ انتخابی عمل جاری رہے گا تاہم انتخابات میں بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ تاہم بدعنوانیوں کے الزامات کے باوجود عام افغانوں میں انتخابات کے لیے بہت جوش و خروش دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک صدارتی امیدوار عبدالستار سیرت نے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات درست نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بیان صدارتی امیدواروں کے ایک اجلاس کے بعد دیا جس میں تمام امیدواروں نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان پر دستخط کیے تھے۔ عبدالستار نے کہا کہ وہ نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا جس کی بنیاد ووٹروں کے انگوٹھوں پر لگائی جانے والی ناقص سیاہی تھی جو آسانی سے مٹ رہی تھی۔ ووٹروں کا احترام کریں صدر کرزئی نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’کون زیادہ ضروری ہے، یہ پندرہ امیدوار یا لاکھوں افغان عوام جو ووٹ دینے آئے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’امیدواروں کو چاہیئے کہ ان لوگوں کا احترام کریں جنہوں نے دھول، برف اور بارش میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھنٹوں انتظار کیا‘۔ انتخابات میں حصہ لینے والی واحد خاتون امیدوار مسعود جلال نے کہا جو سیاہی استعمال کی جا رہی ہے وہ آسانی سے مٹ جاتی ہے اور ایک ووٹر دس مرتبہ بھی ووٹ ڈال سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صدارتی امیدواروں کو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ایک ووٹر دوست محمد نے کہا کہ افغانستان میں پہلی مرتبہ انتخابات ہو رہے ہیں اور اس طرح کے مسائل پیش آنا قدرتی بات ہے۔ اس سے قبل افغانستان میں پر امن انداز میں پولنگ جاری رہی اور ملک کے کسی حصہ سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی تاحال کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ کابل میں چند پولنگ اسٹیشوں پر ووٹروں کے انگوٹھوں پر لگائی جانے والی سیاہی کے بارے میں شکایات موصول ہونے کے بعد پولنگ کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ تاہم کچھ دیر بعد پولنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ افغان تاریخ کے پہلے انتخابات میں دارالحکومت کابل میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ کئی پولنگ اسٹیشوں پر ووٹ ڈالنے کے منتظر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ ووٹروں کی قطاریں مردوں کے علاوہ خواتین کے پولنگ اسٹیشنوں پر بھی دیکھی گئیں۔
ان انتخابات کے دوران ایک کروڑ سے زائد افغان ووٹروں کا اندراج کیا گیا تھا۔ پولنگ افغانستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور سہ پہر چار بجے تک جاری رہی۔ افغانستان کی تاریخ میں ہونے والے پہلے براہ راست انتخابات میں پہلا ووٹ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں افغان مہاجرین کے لیے قائم کیے جانے والے ایک پولنگ سٹیشن میں ایک انیس سالہ افغان خاتون نے ڈالا۔ ابتدائی نتائج کا اعلان گیارہ اکتوبر کو متوقع ہے جبکہ حتمی نتائج کا اعلان تیس اکتوبر کو ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||