کرزئی فاتح ہیں مگر خوشیاں ابھی نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر کے حمایتی کہتے ہیں کہ حامد کرزئی ملک کے پہلے صدارتی انتخاب میں فتح کے راستے پر گامزن ہیں۔ اب تک ایک چوتھائی ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ سرکاری نتائج کے مطابق گنے جانے والے ووٹوں میں سے حامد کرزئی کے حق میں باسٹھ فیصد ووٹ پڑے ہیں۔ ان کے قریب ترین مدِ مقابل یونس قانونی کو صرف اٹھارہ فیصد ووٹ ملے ہیں۔ جنرل عبدالرشید دوستم کے ووٹوں کی تعداد تقریباً نو فیصد ہے۔ حامد کرزئی کے عملے کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ جناب کرزئی با آسانی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کے ترجمان حامد علمی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ اب ہم محفوظ ہیں۔ جب انتخابی نتائج کا رسمی اعلان ہو جائے گا تو ہم خوشیاں بھی منائیں گے۔‘ سابق وزیرِ تعلیم یونس قانونی نے پیر کے روز شکایت کی تھی کہ حامد کرزئی کی بظاہر فتح کا سبب بقول ان کے انتخابات سے پہلے، انتخابات کے دوران اور انتخابات کے بعد ہونے والی دھاندلی ہے۔ تاہم نائب صدر کے عہدے کے امیدوار کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی صدارتی انتخاب کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ انتخابات منعقد کرانے والے حکام کے مطابق انتخابی نتائج کا اعلان اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کسی ایک امیدوار کے بارے میں حتمی پتہ نہیں چل جاتا۔ پیر کے روز ایک انتخابی اہلکار سمیت پانچ افراد اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب انتخابی عملے کے زیرِ استعمال ایک گاڑی میں دھماکہ ہوگیا۔ انتخابات کے دوران مبینہ بے قاعدگیوں کی چھان بین اقوامِ متحدہ کا قائم کردہ ایک تین رکنی پینل کر رہا ہے۔ دس پولنگ سٹیشنوں کے بیلٹ باکس پہلے ہی الگ کر لیے گئے ہیں تاکہ مبینہ بے قاعدگیوں کی چھان بین کی جا سکے۔ نامہ نگار کہتے ہیں کہ اس بات کی شہادت ہے کہ لوگوں کی اہم تعداد نے ایک سے زیادہ مرتبہ اپنا ووٹ ڈالا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||