کرزئی کا پلہ بھاری: سروے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں انتخابات کے روز کرائے گئے ایک سروے کے مطابق پہلے نمبر پر آنے والے امیدوار حامد کرزئی کو اپنے سب سے قریبی حریف پر تینتالیس فیصد ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ جائزے کے مطابق تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کو پانچ فیصد جبکہ گیارہ امیدواروں کو ایک فیصد یا اس سے بھی کم ووٹ ملے ہیں۔ افغانستان میں یہ سروے امریکہ میں قائم ایک غیر سرکاری اور غیر تجارتی تنظیم انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ نے کروایا۔ یہ تنظیم جنوری دو ہزار دو سے افغانستان میں فعال ہے۔ اس جائزے میں پندرہ ہزار سوالنامے بھروائے گئے جن میں سے اب تک دس ہزار سے زیادہ کا مطالعہ کر لیا گیا ہے۔ یہ سروے پاکستان کے علاوہ افغانستان کے چھبیس صوبوں میں 177 مقامات پر کیا گیا۔ اب تک کے نتائج کے مطابق سروے میں شامل چھیاسی فیصد پختونوں، سینتیس فیصد تاجک، سترہ فیصد ازبک اور سترہ فیصد ہزارہ افراد نے حامد کرزئی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس کے برعکس محمد یونس قانونی کو ساڑھے چار فیصد پختونوں، سینتیس فیصد تاجک، دس فیصد ازبک اور سات فیصد ہزارہ افراد نے ووٹ دیا ہے۔ اس سروے میں شامل افراد کا ستائیس فیصد حصہ خواتین پر مشتمل تھا تاہم واحد خاتون امیدوار مسعودہ جلال کو خواتین کی سات فیصد تعداد نے ووٹ دیا۔ بیاسی فیصد افراد نے انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ قرار دیا ہے جبکہ بیشتر ازبک کی رائے اس سے متضاد ہے۔ ستانوے فیصد کا کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران پیش آنے والے مسائل سے نتائج پر اثر نہیں پڑے گا۔ پچاس فیصد افراد نے جنگجو سرداروں کو غیر مسلح کرنے کو پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔ نوے فیصد کا کہنا تھا کہ حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں جبکہ پچاسی فیصد نے کہا کہ طالبان کے بعد حالات زندگی میں بہتری آئی ہے۔ ترانوے فیصد نے توقع ظاہر کی کہ ایک سال کے اندر صورتحال اور بہتر ہو جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||