پیش رفت سے مطمئن ہوں: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ہندوستانی رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت بامعنی رہی ہے اور اس میں پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ ہندوستان کی وزارتِ خارجہ کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے اب تک کے مذاکرات کا جائزہ لیا ہے اور بات چیت مثبت ماحول میں ہوئی ہے۔ صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد جب صدر مشرف باہر آئے تو انہوں نے غیر رسمی طور پر بات چیت میں کہا کہ صدر مشرف کے اس بیان کے تھوڑی دیر بعد ہی بھارتی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری شیام سرن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران اب تک کے مذاکرات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے کئی تجاویز پیش کی گئی ہیں اور دونوں ممالک نے اس پر غور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ شیام سرن کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے دونوں ملکوں کے درمیان عوامی رابطے بڑھانے پر زور دیا ہے لیکن انہون نے سرحدوں کی ازسرنو حد بندی کے امکانات سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بات چیت کے دوران صدر مشرف نے زیادہ زور کشمیر کے مسئلے کے حل پر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہندوستان اور پاکستان ایک بڑی طاقت ہیں اور اگر وہ دونوں ساتھ مل کر کام کریں تو خطے میں خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔ شیام سرن نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو مزید بہتر کرنے کے لیے ہندوستان نے کہا ہے کہ عوامی رشتوں کو فروغ ملنا چاہیے اور اس کے لیے کئی سڑک کے راستے کھولنے کی تجاویز پیش کی گئیں ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اور بھارت نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ مذاکرات کے اس عمل کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||