’پاکستان اپنے موقف سے ہٹ رہا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر پرویز مشرف حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد علی شاہ گیلانی نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بارے میں اپنے موقف سے ہٹ رہا ہے۔ البتہ حریت کانفرنس کے دوسرے دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ بات چیت سے مطمعن ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی کے ساتھ سعد اللہ تانترے ، آغا سید حسن بڈگامی، نعیم محمد خان اور شیخ علی محمد ایڈوکیٹ دِلّی آئے ہیں جبکہ دوسرے گروپ کی قیادت میر واعظ عمر فاروق مولوی فاروق کر رہے ہيں۔ ان کے وفد میں مولانا عباس انصاری ، بلال لون ، اور پروفیسر غنی بٹ شامل ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صدر مشرف سے جاننا چاہیں گے کہ کشمیر کے معاملے پر انہوں نے’ یک طرفہ لچک دار‘ رویہ اختیار کر رکھا ہے تو وہ کشیمر کے سلسلے میں ہندوستان کی طرف سے کیا پیش رفت دیکھ رہے ہيں؟ سید علی گیلانی نے کہا کہ صدر مشرف نے آگرہ سربراہی اجلاس کے دوران جو موقف اختیار کیا تھا وہ سبھی کشمیریوں کے دلوں کی ترجمانی کرتا تھا لیکن اب سارا زور اعتماد سازی کے اقدامات پر ہے۔ انہوں نے کہا:’ یہ اقدامات جزوی اور بےمعنی ہیں۔ اس سے کشمیر کا مسئلہ حل ہونے میں کوئی مدد نہیں ملے گی‘۔ دوسری طرف میر واعظ مولوی عمر فاروق نے موجودہ سازگار ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا ہے انہوں نے صدر مشرف سے بات چیت سے قبل ہندوستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اعتماد سازی کے ایک اور قدم کے طور پر کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید ان ہزاروں قیدیوں کو رہا کیا جائے جن کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ صدر مشرف سے جاننا چاہيں گے کہ کشمیر کے حل سے متعلق انکی کیا تجاویز ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ خود میر واعظ بھی بعض فارمولے کےساتھ دلی پہنچے ہیں۔ جے کے ایل ایف کے رہنما یاسین ملک کا کہنا تھا کہ کسی بھی بات چیت میں کشمیر یوں کو بھی شامل کیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ’ کشمیری ہی کشمیر کے مالک ہیں اور کشمیریوں کو نظر انداز کر کے ہندوستان اور پاکستان ان کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے‘۔ یاسین ملک نے یہ بھی کہا کہ حریت کے رہنماؤں کو متحد کر نے کا معاملہ کشمیری رہنماؤں کا اندرونی معاملہ ہے اور خود کشمیری رہنما بیٹھ کر یہ معاملہ حل کریں گے۔ اس میں صدر مشرف کے دخل کی ضرورت نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||