BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 May, 2005, 23:34 GMT 04:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر: بس سروس کی سیر

کشمیر بس سروس
کشمیر بس سروس (فائل فوٹو)
بس نہ ہوئی توپ کا گولہ ہوگیا، کوئی سوار ہونے کے لئے تیار ہی نہیں۔ کسی کی پسلی ٹوٹی ہوئی ہے تو کسی کی کمر میں موچ آئی ہے۔

جب سے سرینگر،مظفرآباد بس سروس پر چار عسکری تنظیموں نے پابندی عائد کردی ہے یہاں کے علیحدگی پسند سیاسی حلقے اسے شجر ممنوعہ سمجھنے لگے ہیں گو کہ دل ہی دل میں سب ہی اس سروس کو ایک تاریخی اقدام سمجھتے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ سے باقاعدہ دعوت موصول ہونے کے بعد کشمیری علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے مخمصے کا شکار ہیں۔

اعتدال پسند حریت کانفرنس جس کی رہنمائی کشمیر کے میر واعظ مولوی عمر فاروق کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی بھی وقت سرینگر- مظفرآباد بس کے ذریعہ سفر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ حریت کے دونوں گروپ اپنے اختلافات بھلا کر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہ جراتمندانہ قدم اٹھاتے۔

اگر ہم سب مل کر یہ سفر کریں تو اس قضیے کا ایسا قابل قبول حل ڈھونڈا جاسکتا ہے جو یہاں کے مظلوم عوام کی قربانیوں اور سیاسی امنگوں کے عین مطابق ہوگا۔

سخت گیر موقف کے حامل سید علی گیلانی کا جو حریت کانفرنس کے منقسم دھڑے کے راہنماہیں کہنا ہے کہ دو جون کو سرینگر ۔ مظفرآباد بس کے ذریعے مظفر آباد آنے کے کی دعوت ملی ہے لیکن ہم اس بارے میں ابھی غور وحوض کررہے ہیں۔

گیلانی کا کہنا ہے کہ بھارت نے انیس سو چونسٹھ میں شیخ محمد عبداللہ کو مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پاکستان جانے کی اجازت دی تھی مگر اس سفر کے مرحوم شیخ نے بین الاقوامی سرحد کااستعمال کرکے پاکستان کا سفر کیا تھا اور ان کے پاسپورٹ پر ان کی شہریت خالص کشمیری درج تھی۔

واضح رہے سرینگر،مظفرآباد جانے والے مسافروں پر ریاستی ضابطوں کے مطابق یہ لازم ہے کہ وہ اپنے پرمٹ (permit) فارم میں بھارتی شہریت کو تسلیم کریں۔

گیلانی اپنے سخت گیر موقف کی بنا پر بھارتی شہریت کو تسلیم کرنے پر آمادہ
نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے’میں پاکستان جانے کے لیےتیار ہوں مگر اس سفر کے
لئے بھارتی شہریت کو قبول کرنا میرے اصول کے منافی ہے۔‘

بھارت اور پاکستان دونوں سے مکمل آزادی چاہنے والے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک ابھی اپنے پتے نہیں کھول رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے، ’ہم اس دعوت کے حوالے سے کوئی قطعی فیصلہ کرنے سے قبل مشاورت سے کام لیں گے۔امید ہے جلدی ہی ہم کسی نتیجہ پر پہنچ کر سرینگر،مظفرآباد سفر کے حوالے سے کوئی ٹھوس موقف اختیار کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں سے یکساں دوری پر رہنے والی ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے صدر شبیر احمد شاہ بس میں سفرکر نے کی پاکستانی دعوت اصولی طور پر قبول کر چکے ہیں۔

تاہم وہ چاہتے ہیں کہ اس سفر میں ان کے ہمراہ ریاست کے تینوں خطوں یعنی جموں کشمیر اور لداخ سے تعلق رکھنے والا ایک نمائندہ وفد بھی ہو۔

مجموعی طور ایسا لگتا ہے کہ پہلے آپ، پہلے آپ جیسی صورتحال نے کشمیری علیحدگی پسند سیاستدانوں کے قدم ابھی تک روک رکھے ہیں۔حریت دھڑوں میں اس معاملے پر غیر یقینی صورتحال نے عوامی حلقوں میں کئی سوالات ابھارے ہیں۔

علاقہ لال چوک کے ایک تاجر محمد عبداللہ مسعودی کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ حریت کے دونوں دھڑے انا اور خودپسندی کے وائرس(virus)میں مبتلا ہیں اور اس بیماری کا نزلہ عوام کی بحالی پر گرایا جارہا ہے۔‘

گو کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد اور امن کی رفتار روز افزوں بڑھ رہی ہے جس میں سرینگر -مظفرآباد بس سروس کو اعتماد سازی کے تمام اقدامات کی ماں قرار دیاجا رہا ہے تاہم پچھلے چند ماہ میں چاروں اطراف میں تشددکی لہر تشویشناک حد تک بھڑک اٹھی ہے۔اس دوران انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے فوج اور سلامتی دستوں پر معصوم کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کئے ہیں۔

دوسری جانب علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں میں باہمی منافرت اور عدم اعتماد کافی حد تک بڑھ گیاہے۔

اس ساری صورتحال میں عام کشمیری حالات کا قیدی بن کے رہ گیا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مظفرآباد بس سروس بھی کہیں ایک سیاسی تنازعہ بن کر اسکے لیے و بال جان ہی نہ ثابت ہو جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد