BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 March, 2005, 06:12 GMT 11:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر بس سروس کیلیے مرمت جاری

مرمت
مرمت کے کام کا ٹھیکہ فوج کو بھی دیا گیا ہے
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت سرینگر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مقام مظفرآباد کے درمیان نصف صدی سے زائد عرصے بعد بس سروس بحال ہونے میں صرف دو ہفتے رہے گئے ہیں اور 7 اپریل کو کشمیر میں اس وقت ایک نئی تاریخ رقم ہوگی جب دونوں کشمیر کی درمیان بس سروس کا آغاز ہوگا ۔

میں نے مظفرآباد سے 59 کلومیڑ کےفاصلے پر واقع آخری سرحدی قصبے چکوٹھی کے بازارتک اس شاہراہ پر ایسے وقت پر سفر کیا جب اسکی مرمت اور اسکے ایک حصے کی نئے سرے سے تعمیر کا کام جاری ہے لیکن موسم کی خرابی کے باعث اس شاہراہ پر کام متاثر ہورہا ہے ۔

اس چکوٹھی بازار سے وہ پل صرف تین کلومیڑ کے فاصلے پر ہے جو کشمیر کے ان دو حصوں کو آپس میں ملاتا ہے ۔مظفرآباد سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول تک اس شاہراہ کا کل فاصلہ 62 کلومیڑ ہے ۔
چناری قصبے سے لائن آف کنڑول تک آخری گیارہ کلومیڑ لمبی سڑک کا ٹکڑا بہت خراب حالت میں ہے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اس حصے کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا ٹھیکہ پاکستان کی فوج کے فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن یعنی ایف ۔ڈبلیوں۔او کو دیا ہے ۔جبکہ مظفرآباد سے چناری قصبہ تک 51 کلومیڑ لمبی سڑک کی حالت قدرے بہتر ہے اور کشمیر کے اس علاقے کا محکمہ شاہرات اسکی مرمتی میں مصروف ہے ۔

حکام یہ مانتے ہیں کہ موسم کی خرابی کے باعث کام میں خلل پڑ رہا ہے لیکن مظفرآباد ڈویژن کے کشمنر محمد رحیم کا کہنا ہے کہ اس شاہراہ کی مرمتی اور اور اسکے ایک حصے کی نئے سرے سے تعمیر کے کام کے ساتھ ساتھ دیگر انتظامت جن میں ٹرمینل بھی شامل ہیں 31 مارچ تک یا اس سے بھی پہلے مکمل ہوجائیں گے ۔

مرمت
ایک حصے کی مرمت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شاہراہوں کا محکمہ کر رہا ہے

ہندوستان اور پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ لائن آف کنڑول کے دونوں جانب اس شاہراہ کے قریب سرحدی علاقوں میں بچھی ہوئی سرنگیں صاف کردی گئی ہیں۔

چکوٹھی بازار سے باہر کچھ فاصلے پر ایک ٹرمینل تعمیر کیا جارہا ہے جو حکام کے مطابق تکمیل کے مراحل میں ہے ۔بازار سے تین کلومیڑ کے فاصلے پر ایک نالے پر واقع اس پل کی تعمیر کا کام جارہی ہے جو دونوں کشمیر کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس پل کا آدھا حصہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہے جبکہ نصف بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہے ۔

اس پل کی تعمیر ہندوستان کر رہا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے کشمیر کے دونوں طرف کے حکام کی لائن آف کنڑول پر ملاقات میں یہ طے ہوا تھا کہ یہ پل ہندوستان بنائے گا۔

سات اپریل کو کشمیر کے دونوں طرف کے مسافر اس پل کو عبور کرکے اپنا تاریخی سفر مکمل کریں گے ۔ مسافر اس پل کو پیدل اس لیے عبور کریں گے کیونکہ نئی بس سروس میں مسافر ایک ہی بس پر اپنا پورا سفر نہیں کریں گے بلکہ اس طرف کے مسافر چکوٹھی کے مقام پر اپنی اپنی بسوں سے نیچے اتر کر نالے پر واقع اس پل کوپیدل عبور کریں گے اور دوسری بسوں جانب کی بسوں میں سوار ہوکر آگے روانہ ہونگے۔

مظفرآباد سے سرینگر تک 184 کلومیڑ لمبی شاہراہ جو دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ گذرتی ہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملاتی ہے ۔ سرینگر راولپنڈی کہلانے والی یہ شاہراہ برصغیر کی تقسیم سے قبل واحد شاہراہ تھی جو سال بھر کھلی رہتی تھی اور کشمیر کو برصغیر سے ملاتی ہے۔

مرمت
موسم کی خابی کے باوجود یقین کیا جا رہا ہے کہ مرمت کا کام وقت پر مکمل ہو جائے گا

لیکن 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے معاملے پر جنگ کے نتیجے میں یہ شاہراہ بند ہوگئی تھی اب 57 برس بعد یہ شاہراہ 7 اپریل کو آمدورفت کے لئے بحال کردی جائے گی۔

فی الحال ہندوستان اور پاکستان نے یہ طے کیا ہے کہ مہینے میں صرف دو بسیں چلائی جائیں گی اور اس طرح ہر جانب سے صرف 60 مسافر ہی سفر کرسکیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد