کشمیر بس میں بھارت کا فائدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ کشمیروں کے درمیان بس رابطے کی بحالی سے کس کو زیادہ فائدہ حاصل ہوا؟ جنوبی ایشیا کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار نک باریاں نے کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا کہ امریکہ کے سابق صدر نے کشمیر کو کرۂ ارض کی سب سے خطرناک جگہ قرار دیا تھا۔ لیکن اب دونوں کشمیروں کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کا علا انگلیڈ کے دیہی علاقوں کا سا کوئی سرسبز علاقہ محسوس ہوتا ہے۔ بھارتی فوج نے صرف اکتالیس دن میں کامن پوائنٹ یا اسٹیل سے بنائے گئے 220 فٹ لمبے اس چکوٹھی پل کے علاقے کو جنگ سے امن زار میں تبدیل کردیا جہاں دونوں جانب سے طرف کی بسوں سے آنے والے مسافروں پل کو عبور کر کے اس علاقے میں قدم رکھا جو ماضی قریب میں ناممکنات کا حصہ تھا۔ میرے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ اس پل کے استقبالیے میں جو بیت الخلاء بنائے گئے ہیں وہ اگر تمام بھارت میں سب سے اچھے نہیں تو کم از کم بہت اچھوں سے کچھ زیادہ مختلف بھی نہیں ہوں گے۔ لیکن بس رابطے کو بحال کر کے بھارت نے صورت حال کو جوں کا توں رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ مسافروں کی طرح میں پل کے اس طرف تو نہیں جا سکا لیکن میرا خیال ہے کہ پاکستان کی طرف صورت ایسی نہیں تھی کیونکہ اس طرف اگر پل سے آنے والوں کا خیرمقدم کرنے کے لیے ایک محراب بنائی گئی تھی تو اس طرف پاکستان نے ایک ایک سبز گیٹ بنایا تھا جس ایک بھی روشنی نہیں دکھائی دی۔ اگرچہ بس ابھی پندرہ روزہ ہے اور اس میں آنے جانے والوں کو بھی محدود تعداد میں اجازت دی جا رہی ہے لیکن بھارت کو امید ہے کہ اس رابطے سے کشیدگی میں کمی واقع ہو گی تشدد کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اس کے علاوہ بسوں کی روانگی سے ایک دن پہلے شدت پسندوں کی طرف سے مسافروں کے استقبالیہ پر ہونے والے حملے میں کی جانے والی کارروائی نے اس ساری فوج کو جسے قابض فوج بھی کہا جاتا تھا محافظ فوج میں تبدیل کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||