ذوالفقار علی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفر آباد |  |
 |  بس پر صرف پاکستان اور ہندوستان کے شہری سفر کرسکتے ہیں۔ |
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد میں پیر کے روز ہزاروں افراد نے مظفر آباد سے سری نگر تک 7 اپریل سے شروع ہونے والی بس پر سفر کے لئے اجازت نامے کے فارم حاصل کرنے کے لئے سرکاری دفاتر کے باہر لمبی قطاریں بنائیں۔ مظفر آباد میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر یہ قطاریں صبح سے ہی بننا شروع ہوگئیں تھیں اور شام تک لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود رہی۔ حکام نے اس دوران کل ایک ہزار فارم جاری کئے جبکہ باقی اضلاع سے ابھی اعداد و شمار موصول ہورہے ہیں۔ فارم حاصل کرنے کے لئے آئے ہوئے افراد بہت پرجوش اور خوش تھے اور زیادہ تر افراد کا کہنا تھا کہ ان کے لئے یہ ایک خواب پورا ہونے سے کم نہیں کہ وہ سری نگر جاسکیں۔ فارم حاصل کرنے کے لئے ایسے شناختی دستاویزات دکھانا ضروری ہیں جو یہ ثابت کرسکیں کہ درخواست کنندہ کشمیر یا پاکستان کا شہری ہے۔ لیکن بہت سے ایسے افراد بھی فارم حاصل کرنا چاہتے تھے جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے عسکریت پسندی شروع ہونے سے پہلے آئے تھے اور اب ان کے پاس کوئی شناختی دستاویز نہیں ہیں۔ اس بس سروس پر ویزے اور پاسپورٹ کے بغیر پاکستان اور ہندوستان کے شہری سفر کرسکیں گے لیکن کوئی غیر ملکی سر نہیں کرپائے گا۔ |