BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 November, 2004, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لائن آف کنٹرول ہی مستقل سرحد؟
کشمیر
کشمیر
انڈیا کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر کو مذہبی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر لائن آف کنٹرول کو بارڈر بنائے جانے کی تجویز سامنے آئی تو اس پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے کشمیر میں فوجیں کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے اس اقدام سے خطے میں امن کی صورتِ حال بہتر ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی بھارت کے اس اقدام کا خیر مقدم کر چکا ہے۔

آپ اس کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟ کیا آپ کی نظر میں لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد قرار دے دیا جانا چاہیے؟ کیا کشمیر میں بھارتی فوج کی کمی کشمیر کے حل کی طرف ایک قدم ہے؟ کیا اس سلسلے میں کانگریس حکومت کے اقدامات کافی ہیں؟ کیا علیحدگی پسند کشمیری گروہوں کو بھارتی حکومت کے ساتھ غیرمشروط طور پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہوجانا چاہیے؟


News image




آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کے بعد کہ اب مسئلہ کشمیر حل ہو جانا چاہیے مگر پر امن انداز میں، میرا سوال یہ کہ کیا یہ صرف ہمارا فیصلہ ہے یا اس میں کشمیریوں کی رائے بھی شامل ہے؟

فہد سعدی، دبئی، عرب امارات:
ہمیں چاہیے کہ ہم حقیقت کو تسلیم کر لیں چاہے وہ کڑوی ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان اور بھارت کویہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ کچھ بھی ہو جائے وہ جنگ نہیں کریں گے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے، بشمول مسئلہ کشمیر کے۔ لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد مان لیں، ہمیشہ کے لیے نہ سہی کم از کم مذاکرات شروع کرنے کے لیے۔

خالد خان، سری نگر، کشمیر:
یہ کشمیری لوگوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ انہیں موقع تو دیں۔ اور سچ یہ کہ ہم کشمیری لائن آف کنٹرول کو کبھی سرحد نہیں مان سکتے۔ ہم اپنی آزادی کے لیے خون کی قربانی دیتے رہیں گے۔

ندیم ملک، پیرس، فرانس:
کشمیر کا کوئی حل نہیں نکل سکتا کیونکہ اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو دونوں ملکوں کی حکومتوں کا کیا بنےگا؟ میرا مطلب ہے ان کا کھانا پینا کہاں سے چلے گا؟

کریم احمد، راولاکوٹ، کشمیر:
مسئلہ کشمیر کا واحد حل کشمیر کی مکمل خود مختاری ہے۔لگتا ہے انڈیا اور پاکستان صرف اپنا اپنا مسئلہ حل کر رہے ہیں کشمیری قوم کا نہیں۔

فراز قریشی، کراچی،پاکستان:
کشمیر کی تقسیم مذہبی بنیاد پر ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ سن سینتالیس کی طرح یہ انڈیا اور پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ ایک اور دھوکھ ہوگا۔

احمد صدیقی،کراچی، پاکستان:
پاکستان کو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کہ علاوہ کسی دوسری تجویز پر بات نہیں کرنا چاہیے۔

اشتیاق بخاری، کیلیفورنیا، امریکہ:
درست بات ضروری نہیں سب کے لیے قابلِ قبول ہو اور جو بات سب کو قبول ہو ضروری نہیں وہ ٹھیک بھی ہو۔

فیصل شیخ، خوشاب، پاکستان:
ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔

جاوید، جاپان:
اس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل تو حل ہو جائیں گے لیکن امن کے لیے تو کشمیریوں کے ساتھ بات ہونا چاہیے۔ اگر کوئی حل ان کو ہی قبول نہیں تو امن کیسے ہوگا۔ اس قسم کا حل دونوں ملکوں کو مہنگا پڑسکتا ہے۔

ایم عرفان پاشا، لاہور، پاکستان:
پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اپنی من مانی کرنے کی بجائے کشمیر میں رہنے والوں کی رائے کو اہمیت دیں۔ من موہن کی تجویز کو مان لینے کی صورت میں کشمیری خاندان بٹ جائیں گے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

حسین سید، فیصل آباد، پاکستان:
میرا خیال ہے اب یہ ممکن ہے کیونکہ انڈیا نے کشمیر میں بہت سے ہندؤوں کو آباد کر دیا۔ اب مقبوضہ کشمیر بھارت کے پاس رہے گا اور آزاد کشمیر پاکستان کے پاس۔ اگر وہاں پر ریفرنڈم ہوتا ہے توبھارت جیت جائےگا۔

عرفان عنایت، سمبریال، پاکستان:
اگر کوئی آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تو آپ کو کوئی حق نہیں کہ اسے زبردستی اپنے ساتھ رکھیں۔ اگر انڈیا واقعی کشمیر کے مسائل حل کرنا چاہتا ہے تو اسے استصوابِ رائے سے نہیں بھاگنا چاہیے۔

مقیت اقبال، بوچم، جرمنی:
میرا خیال ہے انڈیا اس معاملے میں مخلص نہیں ہے اور من موہن صاحب کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔

بلال، جہلم، پاکستان:
مشرف صاحب امریکہ کا دورہ تو کر آئے لیکن لگتا ہے ساتھ کشمیر کے لیے بھی ایک فارمولا لے آئے ہیں۔

عبدالغفور، ٹورانٹو، کینیڈا:
دونوں ملک یہ جان چکے ہیں کہ وہ ایک دوسرے پر مسئلہ کا فوجی حل نہیں تھوپ سکتے اس لیے ان کے پاس واحد حل یہی ہے کہ وہ مذاکرات کریں۔ پاکستان کئی مرتبہ قابلِ عمل تجاویز دے چکا ہے لیکن بھارت نے کبھی بھی مثبت جواب نہیں دیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اس معاملے میں دلچسپی دکھائے۔ اسی طرح امریکہ وغیرہ کو بھی چاہیے کہ وہ ایک آزاد کشمیری ریاست کے لیے پاکستان اور بھارت پر دباؤ ڈالیں۔

محمد احمد مفتی، ٹورانٹو، کینیڈا:
بھارتی وزیرِاعظم کے بیان کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ جو چیز پاکستان بزورِبازو نہیں لے سکتا وہ بھارت مذاکرات کے ذریعے دینے کو تیار نہیں ہے۔ اگر لائن آف کنٹرول کو ہی سرحد ماننا ہے تومیرے خیال میں بھارت کا احسان لینے کی بجائے پاکستانی کشمیر میں اقومِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصوابِ رائے کروا دینا چاہیے۔ اس طرح اقوامِ متحدہ کی قرارداد بھی زندہ ہو جائے گی اور کشمیر کا آدھا مسئلہ حل ہوجائےگا۔ باقی آدھے کے لیے پاکستان شور مچاتا رہے اور مناسب وقت کا انتظار کرے۔

قیصر ایوب بھٹی، لاہور، پاکستان:
میرا خیال ہے کشمیریوں کو یہ تجویز مان لینا چاہیے۔ آخر وہ اور کتنے سال بھارت کی دھمکیوں میں گذار سکتے ہیں۔ اگر کشمریوں کو آزاد ریاست چاہیے تو ہم بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کیوں خراب کر رہے ہیں اور اپنی افواج پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں؟

ظفر محمود خان، مانٹریال، کینیڈا:
بالکل صحیح حل ہے۔ لائن آف کنٹرول کو سرحد مان لینے سے دونوں طرف سے دہشت گردی بند ہوگی اور لوگ آزادانہ مل جل سکیں گے۔

بھارت کا احسان
 بھارت کا احسان لینے کی بجائے پاکستانی کشمیر میں اقومِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصوابِ رائے کروا دینا چاہیے۔
محمد احمد مفتی، کینیڈا

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
جس طرح دیوار برلن گری ہے اسی طرح لائن آف کنٹرول کو بھی ایک دن ختم ہونا ہے۔ یہ لائن کبھی بھی کشمیریوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں رکھ سکتی۔ کشمیر کا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابسطہ ہے۔

ہمایوں قدیر، لاہور، پاکستان:
مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کشمیر کی ترجمان وہ مذہبی جماعتیں ہیں جنہوں نے کشمیر تو کیا پاکستان کی آزادی کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ یہ لوگ پہلے پاکستان کو تو دل سے تسلیم کرلیں۔

آج ہم کشمیر کو جہاد کے ذریعے آزاد کرانا چاہتے ہیں، اس وقت یہ جذبہ جہاد کدھر تھاجب ہمارا آدھا ملک ہم سے جدا ہو رہا تھا؟ میرا خیال ہے لائن آف کنٹرول کو سرحد مان لینا چاہیے۔ اس طرح کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور پاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر بھی امن ہو گا۔

ویس ریڈی امریکہ:
کشمیر کو ایک آزاد ملک ہونا چاہیے اور یہ پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے اچھا ثابت ہوگا۔

سمیرخان، کراچی، پاکستان:
مشرف امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور وہ ایک نہیں کئی لاکھ مسلمانوں کے خون کا سودا کر سکتے ہیں۔

آصف شیخ، ناگاساکی،جاپان:
مسلہ کا واحد حل یہی ہے کہ کشمیریوں کو وہ کرنے دیا جائے جو وہ چاہتے ہیں۔

کشمیر:ووٹ کا بہانا
 ہم گذشتہ نصف صدی سے کشمیر کے مسئلہ پر لڑ رہے ہیں اور اب یہ حال ہے کہ اس کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ کشمیرصرف سیاستدانوں کے لیے ووٹ لینے کا ایک بہانہ بن چکا ہے
صوبیہ شکیل، امریکہ

محمد چودھری، قطر:
میرا خیال ہے من موہن صاحب کو مسئلہ کشمیر کا علم ہی نہیں کیونکہ اقوامِ متحدہ کے مطابق کشمیر ایک متننازعہ علاقہ ہے اور کشمیریوں کو یہ فیصلہ کرنے کاحق حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔ اگر بھارت کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا ذرا بھی خیال ہے تو من موہن کی تجویز سراسر غلط ہے۔

صوبیہ شکیل، نیویارک،امریکہ:
جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔ ہم گذشتہ نصف صدی سے کشمیر کے مسئلہ پر لڑ رہے ہیں اور اب یہ حال ہے کہ اس کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ کشمیرصرف سیاستدانوں کے لیے ووٹ لینے کا ایک بہانہ بن چکا ہے۔

ظفر عباسی، اسلام آباد، پاکستان:
کشمیر کا واحد حل اقوام ِمتحدہ کی قراردادوں پر عمل سے ممکن ہے۔

شہداد ابرو، ڈیرہ مراد جمالی،پاکستان:
انڈیا صرف وقت برباد کر رہا۔ اس کا کہنا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ ایسے میں وہ کشمیر کا مسُلہ کیونکر حل کر سکتا ہے؟

فرخ بٹ، ویلز، برطانیہ:
ناممکن۔ میں اپنے آباواجداد کے خون کو اتنا بےقیمت نہیں سمجھتا کہ جس سے ہماری زمین کا ایک چپہ بھی آزاد نہ ہو سکے۔ناممکن۔

توقیر جیلانی، کوٹلی، کشمیر:
اگرچہ یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے لیکن مسئلے کا اصل حل نہیں۔ پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی اپنی فوجیں مکمل طور نکالیں،پھرمذاکرات ہو سکتے ہیں۔

ناصر چودھری، راولپنڈی، پاکستان:
مشرقی تیمور کے عوام کی طرح کشمیریوں کو بھی موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس لیے دنیا کو اس کی آزادی سے کوئی غرض نہیں۔

صلاح الدین لنگاہ، ویسڈن، جرمنی:
جی ہاں یہ حل ٹھیک ہے۔

دلشاد احمد، لاہور، پاکستان:
پاکستان اور کشمیر کے ہزاروں لوگوں نے اس وجہ سے قربانیاں نہیں دی تھیں کہ لائن آف کنٹرول کو سرحد مان لیا جائے۔

ناممکن!
 میں اپنے آباواجداد کے خون کو اتنا بےقیمت نہیں سمجھتا کہ جس سے ہماری زمین کا ایک چپہ بھی آزاد نہ ہو سکے۔ناممکن
فرخ بٹ، برطانیہ

عبدالفاروق، ابوظبی:
یہ ایک متننازعہ علاقہ ہے اس لیے کسی تیسرے فریق مثلاً برطانیہ یا اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی نگرانی کریں۔

اخترراجہ، سعودی عرب:
کشمیری، جو کہ ساٹھ سال سے قربانیاں دے رہے ہیں، ان کو فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے۔

شاکراللہ، دیر، پاکستان:
واحد حل یہی ہے کہ اپنے حقوق کے لیے لڑا جائے۔ وقت آئے گا جب بھارت کہےگا کہ اسے کشمیر نہیں چاہیے۔ مجاہدین ہی یہ مسئلہ حل کرا سکتے ہیں۔

مزمل مفتی،چنیوٹ، پاکستان:
مشرف حکومت کے ہوتے پاکستان اپنی شرائط منوانے کی حالت میں نہیں اس لیے مذہب کے نام پر تقسیم ہو یا لائن آف کنٹرول کو سرحد ماننا، پاکستان کے لیےدونوں قابلِ قبول ہیں۔ مذاکرات کے ذریعے پاکستان کبھی بھی کشمیر نہیں لے سکتا اس لیے شاید بہترین حل یہی ہے کہ جو حصہ بھارت کے پاس ہے ان کے پاس رہے اور جو حصہ پاکستان کے پاس ہے اس کے پاس رہے۔

جنید ملک، جرمنی:
انڈین وزیرِاعظم نے ٹھیک کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول تو سرحد ہے ہی نہیں اور پاکستان کا بھی یہی موقف ہے۔ انڈین سرحد تو کشمیر سے کافی دور ہے۔ کشمیر کا اصل متنازعہ علاقہ تو وہی ہے جہاں لوگوں کو اپنے پیاروں سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ خدارا کنٹرول لائن کے آر پار کی سسکیاں سنیں اور کشمیریوں کے خون کو اتنا سستا نہ کریں۔ ویسے کشمیر کیا، انڈیا کا کوئی بھی پڑوسی اس سے خوش نہیں۔

فہیم اعجاز، کینیڈا:
جو احباب یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک لاکھ کشمیریوں کا خون ضائع جائےگا، کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کا مذید خون بہے؟ بہتر یہی ہوگا کہ تینوں فریق لچک دکھائیں اور مسئلے کا حل نکالیں۔ اگر تینوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو مذید پچاس سال بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

صالح محمد، ویانا، آسٹریا:
انڈیا کے وزیراعظم کا بیان انڈین پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان، انڈیا اور کشمیر تینوں کے لیے یہ مسئلہ حل ہونا ضروری ہے۔ تینوں فریقوں کو تھوڑی قربانی دینا پڑے گی تاکہ مذید بچے یتیم نہ ہوں۔

محمد ارشد خان، امریکہ:
ہم حقِ خودارادیت چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔

ریاض احمد، ریاض، سعودی عرب:
کشمیر کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے ہی ہوگا۔ اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونا چاہیے۔

فراست زمان، سٹاک ہوم،سویڈن:
میرا خیال نہیں کہ بھارت کبھی بھی ایک آزاد اور خود مختار کشمیر کو قبول کر سکتا ہے، چاہے پاکستان مان بھی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سرحد کی دونوں طرف رہنے والے آپس میں ایک دوسرے سے بلاروک ٹوک مل سکیں۔ کشمیر کے دو حصوں کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہونا چاہیے۔

تنویر کاظمی، واہ کینٹ، پاکستان:
کشمیر کا کچھ بھی نہیں ہوگا۔جنرل مشرف اور ان کے حواری امریکہ کے ساتھ مل کر قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں کیونکہ انہیں اس وقت پاکستانیوں کو کسی کام پر لگانا ہے تاکہ امریکہ اور جنرل صاحب جو کھیل کھیل رہے ہیں لوگوں کی توجہ ادھر نہ جائے۔

آصف ججا،ٹورانٹو، کینیڈا:
اگر واقعی کشمیر کا یہی حل ہے تو بھارت کشمیریوں کے ساتھ کھیل کیوں کر رہا ہے۔ درحقیقت بھارت بہت عیار ہے اور وہ صرف وقت گذار رہا ہے۔ اس کا کشمیر کو آزاد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

میکس بیکر، سینڈیاگو، امریکہ:
یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے اور شاید ایسا ہی ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں اس طرح انڈیا اور پاکستان کے درمیان جھگڑا ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔

مذیدخون؟
 جو احباب یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک لاکھ کشمیریوں کا خون ضائع جائےگا، کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کا مذید خون بہے؟
فہیم اعجاز، کینیڈا

عمران قیوم، واٹفورڈ، انگلینڈ:
مذہب کی بنیاد پر کوئی تقسیم نہیں ہونا چاہپیے۔ لائن آف کنٹرول بین الاقوامی سرحد نہیں بن سکتی کیونکہ کشمیر کوئی کیک نہیں ہے جسے کاٹا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کو چاہیے کہ وہ سرحد کی دونوں طرف کے لوگوں کو آپس میں ملنے دیں تاکہ کشمیری لوگ خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ پاکستان اور انڈیاٹھیکیدار بننا بند کریں۔
مذہبی تقسیم
 میرے خیال میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم سے انسانیت تقسیم ہو کر رہ جائےگی۔ کوئی بھی اس قسم کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ابراش پاشا، تیمارگرہ

سیعد خٹک، نوشہرہ، پاکستان:
جب تک کشمیری راضی نہیں ہوتے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا خواہ انڈیا کوئی بھی تجویز پیش کرے۔ اور مشرف صاحب کو چاہیے کہ وہ کشمیر پر الٹی سیدھی تجاویز اپنے پاس ہی رکھیں۔

ابراش پاشا، تیماگرہ، پاکستان:
میرے خیال میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم سے انسانیت تقسیم ہو کر رہ جائےگی۔ کوئی بھی اس قسم کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ آج برصغیر میں جو بھی تناؤ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیامذہبی بنیادوں پر تقسیم کیے گئے تھے۔

عمر احسن، مظفرآباد، کشمیر:
پاکستان اور انڈیا دونوں کو چاہیے کہ وہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلوائیں اور صرف اور صرف کشمیر کے عوام کو کشمیر کا فیصلہ کرنے دیں۔

سجاد عزیز، لاہور، پاکستان:
تمام مسائل کشمیریوں کے لیے ہیں جو انڈیا کے ظلم اور بربریت کو برداشت کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان اور بھارت کی لڑائی نہیں ہے۔

یہ ممکن ہے
 یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے اور شاید ایسا ہی ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں اس طرح انڈیا اور پاکستان کے درمیان جھگڑا ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔
میکس بیکر، امریکہ

سید تصور عباس، ناروے:
کبھی بھی نہیں۔ پاکستان کو یہ تجویز بالکل نہیں ماننا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کشمیر میں ہونے والی قتل وغارت کا ذمہ دار ہوگا۔

شاہد شان، امریکہ:
جناب اگر کشمیری لوگ اس حل پر خوش ہیں، یعنی اگر وہ ایسی صورت میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ کشمیری نہ تو پاکستان آنا چاہتے ہیں اور نہ انڈیا کے ساتھ خوش ہیں۔ہونا وہی چاہیے جو کشمیریوں کو پسند ہے۔

حفیظ عثمانی، سعودی عرب:
نہیں، یہ حل کشمیریوں کو قبول نہیں اور پھر اتنا خون کس لیے بہا۔

شاہد اقبال، دبئی، عرب امارات:
بالکل نہیں۔ اگر لائن آف کنٹرول کو ہی مستقل سرحد بننا تھا تو گذشتہ ستاون سال سے انڈیا، پاکستان کیا کر رہے ہیں۔یہ کوئی حل نہیں ہے۔ کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان، بھارت اور کشمیریوں، تینوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

سید مالکِ اشترجعفری، پالمڈیل، امریکہ:ا
گر لائن آف کنٹرول کو سرحد مان لیں تو کیا ایک لاکھ جانوں کی قربانی دینے والے پاگل تھے؟ ویسے تو مشرف صاحب اعتدال پسند آدمی ہیں، انہیں کشمیر کے معاملے میں کیا ہو گیا ہے۔ آگرہ میں وہ اتنے کڑوے تھے اور اب اتنے میٹھے۔

ظفرمحمود وانی، راولپنڈی، پاکستان:
کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیریوں کی مرضی سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے توسارے امکانات سامنے رکھ دیے ہیں۔ اگر برِصغیرمیں پائیدار امن چاہیے تو انڈیا کو مسلمان کشمیر سے نکلنا پڑے گا ورنہ یہ ساری کوششیں فضول ہیں۔

بات وہیں پہنچی
 بات جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں جا پہنچی۔ پاکستان اور بھارت تو اپنا اپنا حصہ لےکرالگ ہو جائیں گے لیکن پچھلے پچاس سال سے جاری جہاد اور لاکھوس کشمیریوں کا خون کس کھاتےمیں آئے گا؟
عثمان خان، سعودی عرب

عثمان خان، ریاض، سعودی عرب:
بسم اللہ، بات جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں جا پہنچی۔ پاکستان اور بھارت تو اپنا اپنا حصہ لےکرالگ ہو جائیں گے لیکن پچھلے پچاس سال سے جاری جہاد اور لاکھوس کشمیریوں کا خون کس کھاتےمیں آئے گا؟ سب سے بہتر حل یہی ہے کہ کشمیر، جموں اور لداخ کو ملا کر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے لیے انڈیا اور پاکستان کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ ویسے ہم مسئلہ کشمیر حل کر رہے ہیں نہ کہ مسئلہ پاکستان یا مسئلہ بھارت؟

علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان:
یہ بھارت کی ایک چال ہے کشمیری مجاہدین سے اپنی جان بچانے کی۔ بھارت کشمیری میں فوجوں میں جو نام نہاد کمی بھی کر رہا ہے وہ محض دنیا کو دکھانے اور پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے۔ آٹھ لاکھ فوج میں سے تیس چالیس ہزار نکال بھی لی جائے تواس سے کیا فرق پڑنے جا رہا ہے؟

مسعود، امریکہ:
اس طرح کشمیر تقسیم ہو جائے گا اور میرا خیال ہے کشمیری اس حل پر خوش نہیں ہوں گے۔ میرے خیال میں بہترین حل یہی ہو سکتا ہے کہ کشمیر کودونوں ملکوں کے درمیان ایک آزاد ریاست کے طور پر قبول کیا جائے۔ کشمیریوں کو پاکستان اور بھارت آنے جانے کی پوری آزادی ہو۔

اطہر وانی، پاکستان:
یہ حل کشمیریوں کی خواہشات کے منافی ہے۔ کشمیری لوگ صرف سولہ نہیں بلکہ گذشتہ پچاس سال سے جدو جہد کر رہے ہیں۔ میں پچھلے ماہ ایک وفد کے ساتھ کشمیر گیا اور وہاں لوگوں سے ملا۔ وہ لوگ انڈین فوج سے شدید نفرت کرتے ہیں اور آزادی چاہتے ہیں۔ فوج سے عورتوں کی عزت کو خاص طور پر خطرہ ہے۔ بھارت کو احساس ہونا چاہیے کہ کشمیری بھی آخر انسان ہیں اور اسے ان کے بنیادی انسانی حقوق غصب کرنے کا کوئی حق نہیں۔

شوکت حسین، شارجہ، عرب امارات:
الحاقِ پاکستان بھارت کو قبول نہیں، الحاقِ بھارت پاکستان کو قبول نہیں اور تقسیم کشمیر کشمیریوں کومنظورنہیں اس لیے کشمیر کا واحد حل آزادی ہے۔ کوئی مشرف، بش یا من موہن کشمیریوں کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا، انشاءاللہ۔

راجہ امتیاز، ریڈنگ، برطانیہ:
ہونا یہی تھا ایک دن۔ اتنا عرصہ لڑنے جھگڑنے کا کیا فائدہ؟

عنایت، دبئی، عرب امارات:
یہ کشمیری عوام سے غداری کے مترادف ہے۔ بھارتی فوج کی واپسی ایک دھوکہ ہے۔ مشرف امریکی پٹھو کا کردار ادا کرنا بند کریں۔

خرم حمید بٹ، لاہور، پاکستان:
کشمیر کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، انڈیا کو کشمیر سے نکلنا ہی پڑے گا۔

عامر ندیم، پاکستان:
انڈیا کی اصل ذہنیت یہی ہے کہ کشمیر کا کوئی حل نہ نکلے۔ پاکستان کے رہنما بے وقوف ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انڈیا مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد