BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 February, 2005, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر بس سروس کی بحالی
News image
پاکستان اور بھارت، مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان سات اپریل سے بس سروس شروع کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس سفر کے لئےایک خصوصی سفری اجازت نامہ یا پرمٹ جاری کیا جائے گا جو سری نگر اور مظفر آباد میں قائم کئے گئے نامزد دفاتر سے دستیاب ہو گا۔ اس بات کا اعلان اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر انیس سو سینتالیس میں پہلی جنگ کے بعد سے سرینگر اور راولپنڈی کے درمیان آمد و رفت بند ہوگئی تھی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی بحالی کے عمل میں ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

کیا سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس کی بحالی کو پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کسی اہم تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا اب کشمیر کے کسی مستقل حل کی امید کی جا سکتی ہے؟ اگر آپ کشمیری ہیں تو کیا آپ کے کوئی عزیز یا رشتہ دار سرحد پار رہتے ہیں؟ اپنی کہانیاں اور آراء ہمیں لکھ بھیجیں؟


News image



آپ کے تاثرات

یہ فورم اب بند ہوچکا، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

مظاہر بٹ:
ہے تو یہ اونٹ کی داڑھی میں ایک زیرہ، مگر بہرحال ایک اچھی ابتدا ضرور ہے۔ اس قدم کو فاؤنڈیشن اسٹون سمجھنا چاہئے۔ ابھی مکمل عمارت کی تعمیر ہونا باقی ہے۔

جبران حسنین، کراچی:
اچھا فیصلہ ہے پر یاد رکھنا چاہئے کہ کراچی کے بھی بہت سے عزیز و اقارب ہندوستان میں ہیں۔ اس لئے ممبئی کراچی فیری بھی چلنی چاہئے۔

نئی نسل محبت کرتی ہے۔۔۔۔
 نفرت شاید کبھی ہو لیکن میرا خیال ہے دونوں ملکوں کی نئی نسل محبت، امن اور ایک دوسرے سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ نفرت پھیلانے والا ایک مخصوص گروپ ہے جو اپنے مالی مفاد کی خاطر اور نفرت پھیلاتا ہے۔
علی رضا علوی، اسلام آباد

علی رضا علوی، اسلام آباد:
یہ بلا شبہہ ایک بڑا بریک تھرو ہے۔ پاکستانی اور انڈین عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس امر سے بھی لگا لیں کہ سونامی جیسے واقعے کے لئے پاکستان سے فنڈ کی ضرورت پڑے تو بھارتی اداکاروں کی مقبولیت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ نفرت شاید کبھی ہو لیکن میرا خیال ہے دونوں ملکوں کی نئی نسل محبت، امن اور ایک دوسرے سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ نفرت پھیلانے والا ایک مخصوص گروپ ہے جو اپنے مالی مفاد کی خاطر اور نفرت پھیلاتا ہے۔

مقصود حسین:
میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ تمام انسان برابر پیدا ہوئے ہیں لیکن ہم کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈ سکتے ہیں جس کی وجہ سے غربت کی لائن سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ امن کو موقع ملے، بات چیت شروع کی جائے۔

شعیب، بنوں:
بس سروس شروع ہو یا ڈائیلاگ اس سے کیا فائدہ؟ آگے بھی کچھ ہونا چاہئے، پچھلے دو سالوں سے مذاکرات شروع ہیں اور پھر بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا اور نہ کوئی فائدہ ہوگا۔

عبدالجلیل دامودی، دوبئی:
دونوں حکومتوں کا اقدام قابل تعریف ہے۔۔۔۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
سب سے پہلے تو ان سب کشمیریوں کو بہت مبارک بعد جنہوں نے اس سب کے لئے نہ جانے کتنی دعائیں کی ہوں گی۔ آج ان کی دعائیں قبول ہوئی ہیں۔ ان کی خوشی کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے کیوں کہ ہم کبھی اپنے کسی پیارے سے اتنا طویل عرصہ دور نہیں رہے۔ اور پھر اس بس سروس کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی دیرپائی کے لئے بھی دعا گو ہوں۔

نجم ولی خان، لاہور:
بغیر پاسپورٹ کے سفر کی اجازت دینے پر پاکستان جیت گیا، انڈیا ہار گیا۔۔۔۔

حیات خان مری بلوچ، بلوچستان:
پاکستان کو پہلے اپنے اندر امن قائم کرنی چاہئے۔ بلوچستان میں آپریشن کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ کوہلو، تربت، سوئی میں چھوٹے آپریشن ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں اندرونی معاملات کو حل کرنے کے بجائے انڈیا سے بس سروس چلاکر امن لانا چاہتے ہیں۔۔۔۔

راجہ مظفر، نیو یارک:
تنازعۂ کشمیر پر یہ ایک چھوٹا لیکن مثبت قدم ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کا عزم ثابت ہوا ہے۔ اس سے یہ امید بڑھ گئی ہے کہ ایک دن دونوں حکومتیں جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل کریں گی۔ انتہا پسند اس عمل کو روکنے کی کوشش کریں گے لیکن میں امید کرسکتا ہوں کہ دونوں ملکوں کی قیادت اس تنازعے کے حل کے لئے بات کرتی رہے گی۔

عثمان جلیل ڈوگر، پاک پتن:
کسی کے ہجر میں نیدیں گنواکر کچھ نہیں ملتا۔۔۔۔

عاطف عباس، لاہور:
ایک اچھا قدم ہے، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ ایک دم سے ہی حل ہو جائے وہ غلطی پر ہیں۔ کشمیر کی پرابلم اسی طرح کے اقدامات سے رفتہ رفتہ اعتماد کی بحالی سے ہی حل ہوگی۔۔۔۔

دوستی اتنی جلدی کیسے ہو؟
 انڈیا پاکستان کے لوگ کبھی بھی ایک دوسرے کے دوست نہیں ہوسکتے، جن ملکوں میں بچپن سے ہی ذہنوں میں یہ ڈال دیا جائے کہ تمہارا پڑوسی تمہارا دشمن ہے تو اس سے دوستی اتنی جلدی کیسے میں ہو؟
ہارون رشید، سیالکوٹ

ہارون رشید، سیالکوٹ:
انڈیا پاکستان کے لوگ کبھی بھی ایک دوسرے کے دوست نہیں ہوسکتے، جن ملکوں میں بچپن سے ہی ذہنوں میں یہ ڈال دیا جائے کہ تمہارا پڑوسی تمہارا دشمن ہے تو اس سے دوستی اتنی جلدی کیسے میں ہو؟ جہاں بچوں کو یہ بتایا جائے کہ تم نے آرمی میں اس لئے جانا ہے کہ تم نے انڈیا یا پاکستان کے ساتھ جنگ کرنا ہے، وہاں دوستی ابھی مشکل ہے۔ لیکن امید پر دنیا قائم ہے، اچھے چیز کی امید کریں۔

عاطف مرزا، آسٹریلیا:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کافی مثبت قدم ہے امن کی جانب اور اس کی تعریف کی جانی چاہئے۔ کشمیر کے لوگوں کا پہلے بھی کافی نقصان ہوچکا ہے اور یہ وقت ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان بہتر تعقلات اور امن دیکھنے کا انہیں موقع ملے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
بس سروس شروع ہونے سے ان بےگناہ کشمیریوں کا خون تو واپس نہیں آسکتا جنہوں نے اس وطن کے لئے قربانی دی، ان بے گناہ بہنوں کی لوٹی ہوئی عصمتیں تو واپس نہیں آسکتیں، یہ صرف ایک سفارتی اسٹائل ہے۔۔۔۔۔

نوید نقوی، کراچی:
میں نہیں سمجھتا کہ صرف ایک بس سروس شروع ہونے سے دونوں ممالک میں ٹرسٹ قائم ہوگا۔۔۔۔

آئی آئی خان، امریکہ:
اچھی کوشش۔ دونوں حکومتوں کو چاہئے کہ اپنے تعلقات نارمل بنانے کی کوشش کریں۔ علاقے میں نارمل تعلقات سے لوگوں کی زندگی بہتر ہوگی۔ خدا ان کی مدد کرے۔

صمدانی صدیقی، کراچی:
جناب یہ سب ڈرامے اب بند ہونے چاہئیں۔ سب سے پہلے ہزاروں کشمیریوں کی قربانی کو دھیان میں رکھیں، پھر اس طرح کی منافقت کی جرات اور ہمت پیدا نہیں ہوں گے۔۔۔۔۔

فیصل یعقوب سلطانی، لیوٹن، یو کے:
سرینگر سے مظفر آباد بس ایک بہت اہم قدم ہے۔ اس بات پر پاکستان اور انڈیا کی رضامندی سے ایسا محسوس ہوتہا ہے کہ اس کے بعد بھی کوئی نہ کوئی اور بھی مسئلہ کشمیر کے لئے احسن اقدام اٹھایا جائے گا۔ جہاں تک قاضی صاحب اور ان کی جماعت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں انڈیا کے وزیر جب پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو ایک پاکستانی نجی ٹی وی کے پروگرام میں قاضی صاحب کو انڈین وزیر نے کہا تھا کہ اگر امن ہوگا تو آپ کی روٹیاں بند ہوجائیں گی۔

صلاح الدین لنگا، جرمنی:
میرا رشتہ دار تو کوئی نہیں، لیکن ایشوریہ اور کرینہ کپور انڈیا رہتی ہیں۔

یہ کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے
 اگر انڈیا اور پاکستان خطے میں حقیقی امن چاہتے ہیں تو کشمیر سے اپنی افواج کا انخلاء کریں۔ کشمیریوں کا اصل مسئلہ ان کی قومی آزادی ہے بس سروس نہیں۔ سیاسی اقدامات سے پاکستان اور انڈیا کشمیر میں اپنے خلاف پائی جانے والی نفرت کم کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کی بس سروس پر رضامندی کشمیریوں پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے کہ وہ اپنے وطن کے کسی بھی حصے میں آزادانہ طور پر آجاسکیں۔
جاوید ایوب کشمیری، بیجنگ

جاوید ایوب کشمیری، بیجنگ:
محض بس سروس مسئلے کا حل نہیں ہے، نوے ہزار سے زاید کشمیریوں نے بس سروس چلانے کے لئے نہیں بکہ کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے حصول اور اپنی قومی شناخت کی بحالی کے لئے جانیں ضائع کی ہیں۔ اگر انڈیا اور پاکستان خطے میں حقیقی امن چاہتے ہیں تو کشمیر سے اپنی افواج کا انخلاء کریں۔ کشمیریوں کا اصل مسئلہ ان کی قومی آزادی ہے بس سروس نہیں۔ سیاسی اقدامات سے پاکستان اور انڈیا کشمیر میں اپنے خلاف پائی جانے والی نفرت کم کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کی بس سروس پر رضامندی کشمیریوں پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے کہ وہ اپنے وطن کے کسی بھی حصے میں آزادانہ طور پر آجاسکیں۔ کشمیر کے مسئلے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ ڈیوائڈیڈ کشمیر کو دوبارہ متحد کرکے کشمیر کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر قبول کیا جائے۔

طارق محمود، سرگودھا:
ایک اچھی کوشش ہے کم از کم ان لوگوں کا تو فائدہ ہے جو صرف ایک دوسرے کو سن سکتے تھے مل نہیں سکتے تھے۔ ہاں اگر ہم یہ سمجھیں کہ اس سے دونوں ملک کشمیر کے مسئلے کا حل ڈھونڈ لیں گے تو یہ دیوانے کا خواب ہی ہوسکتا ہے، حقیقت نہیں۔

عشرت ظہیر، برلن:
محبتوں اور رشتوں کے سفر کی منزل قریب آرہی ہے، مبارک ہو آپ کو۔

راجہ گل کشمیری، میرپور:
کشمیر انڈیا کا نہیں ہے۔ کشمیر پاکستان کا بھی نہیں ہے۔ کشمیر کشمیری لوگوں کا ہے۔ ہم ایک پنجابی۔مہاجر ڈومینیٹیڈ پاکستان میں نہیں رہنا چاہتے جہاں سندھی اور بلوچ قومیں غلام کی طرح رہ رہی ہیں۔ سرینگر اور مظفر آباد کے درمیان بس سروس اچھی بات ہے لیکن ہم پاکستان اور انڈیا دونوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ انہیں کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں کہ ہم پر قابض رہیں۔

آصف چودھری، لاہور:
یار کچھ حیا کرو، تم اگر کشمیر کا سولوشن نہیں کرنا چاہتے ہو تو عوام کے ذخموں پر نمک چھیڑو۔۔۔۔ (راقم نے یہی الفاظ استعمال کیے ہیں: ایڈیٹر)

خواجہ حامد علی صوفی، مسقط:
یہ کشمری کے لوگوں کے لئے کافی خوشی کی بات ہے۔ میں اپنی زندگی میں یہی خواب لیے ہوئے تھا۔ ہماری فیملی کے بیشتر لوگ انڈین ہیلڈ کشمیر میں ہیں۔ میں اپنی ماں کو پونچ میں اس کی فیملی سے ملاقات کے لئے سرینگر جانے والی پہلی بس سے بھیجوں گا۔ ہم دعا کریں کہ یہ سروس کبھی نہ رکے۔

مطالبے سے دستبردار؟مطالبے سے دستبردار؟
کشمیر پر مشرف کی پیش کش، آپ کی رائے
کشمیر: مشرف کے بیان پر آپ کا ردِّ عملکشمیر:’حل ضروری‘
کشمیر: مشرف کے بیان پر آپ کا ردِّ عمل
 کشمیر تقسیم ہو؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟ کشمیر تقسیم ہو؟
مشرف فارمولا پر آپ کیا سوچتے ہیں؟
لائن آف کنٹرول ہی مستقل سرحد؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟کشمیر کا نیا حل
لائن آف کنٹرول ہی مستقل سرحد ہو؟ آپ کی رائے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد