BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں

پنجرے میں قید
گھر سے گھر تک باڑھ

آج بیس سال ہوئے میں اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے ملنے کے لئے تڑپ رہی ہوں۔ ہمارا صرف ٹیلی فون یا خط و کتابت کے ذریعے رابطہ رہتا ہے۔ اس دوران میرے تینوں بھائیوں جو مجھ سے عمر میں بڑے ہیں اور میری واحد بہن کی شادی ہوئی لیکن میں نہیں جاسکی۔


یہ انیس سو چھہتر، ستتر کی بات ہے۔ مظفر آباد سے میرے چچا عبداللہ نے اپنے جاننے والے کے ذریعے اپنے بیٹے کے لئے میرے رشتے کا پیغام بھیجا۔ میرے چچا انیس سو سینتالیس میں مظفر آباد میں آئے اور یہیں آباد ہو گئے۔ میری والدہ نے بغیر پس و پیش کے یہ رشتہ قبول کر لیا کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ بچھڑے ہوئے خاندانوں کے درمیان رشتہ قائم رہے۔ میری والدہ کا خیال تھا کہ اگر وہ اس رشتے سے انکار کرتی ہیں تو زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور پتہ نہیں ہمارے بچے ہماری وفات کے بعد آپس میں رشتہ قائم رکھیں گے یا نہیں۔

جب یہ رشتہ طے پایا تو میں نے بخوشی اسے قبول کر لیا لیکن مجھے کیا پتہ تھا یہ رشتہ مجھے اپنوں سے دور کر دے گا اور میں ان سے ملنے سے بھی قاصر رہوں گی۔ چار اگست 1980 کو اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ اپنے گھر سے مظفر آباد شادی کے لئے رخصت ہوئی، حالانکہ ہوتا تو یہ ہے کہ بارات آتی ہے اور بیٹی کو رخصت کیا جاتا ہے لیکن کوئی بارات نہیں آئی اور گھر والے مجھے شادی سے پہلے ہی رخصت کرتے ہیں۔

جب میں مظفرآباد کے لئے روانہ ہوئی تو مجھے الوداع کہنے والوں میں میرے گھر والے، عزیزو اقارب اور ہمسائے تھے۔ سبھی بہت اداس تھے اور ہر ایک کی آنکھوں میں آنسو تھے میں بیان نہیں کرسکتی کہ اس وقت کس طرح کا منظر تھا اور میرا سب سے بڑا بھائی بہت رو رہا تھا کہ میری بہن کو دور مت بھیجو۔ اگرچہ دونوں خاندانوں کی یہ خواہش تھی کہ میری شادی سرینگر میں ہی ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہو سکا کیونکہ میرے چچا اور ان کے بچوں کو بھارتی حکومت نے ویزا فراہم نہیں کیا۔

سر پر والدہ کا ہاتھ نہ تھا

 مظفرآباد میں میری شادی اپنے چچا زاد صلاح الدین سے ہوئی۔ لیکن اس شادی میں میرے دو بھائیوں کے علاوہ میرے گھر کا کوئی بھی فرد شامل نہیں تھا اور میرے سر پر میری والدہ کا ہاتھ نہیں تھا جو ایسے موقعوں پر ہوا کرتا ہے۔

6 اگست کو میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مظفرآباد پہنچی۔ یہاں پر ہمارا پرتپاک استقبال ہوا، سبھی بہت خوش تھے اور تین ماہ بعد 23 اکتوبر کو مظفرآباد میں میری شادی اپنے چچا زاد صلاح الدین سے ہوئی۔ لیکن اس شادی میں میرے دو بھائیوں کے علاوہ میرے گھر کا کوئی بھی فرد شامل نہیں تھا۔ اور میرے سر پر میری والدہ کا ہاتھ نہیں تھا جو ایسے موقعوں پر ہوا کرتا ہے۔ یقیناً میری ماں اس لمحے میر ے لئے میری خوشی کے لئے اور میری پرسکون زندگی کے لئے دعا گو رہی ہو گی۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے بعد لڑکی تیسرے یا ساتویں روز اپنے شوہر اور اہل سسرال کے ساتھ میکے جاتی ہے لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ میرے گھر والے خونی لکیر کے اس پار وادی میں تھے اور میں جانے سے قاصر تھی۔ یہاں تک کہ میرے شوہر اپنی ساس (جو رشتے میں ان کی چچی بھی ہیں) اور دیگر کئی سسرال والوں سے کبھی نہیں ملے ماسوائے میرے ان دو بھائیوں کے جو میرے ساتھ مظفرآباد آئے تھے۔

میری شادی کےفوراً بعد میرے بھائی واپس چلے گئے تو ان کو رخصت کرنے کے لئے واہگہ بارڈر تک گئی۔ ان کو الوداع کہتے ہوئے میرا جی بھی چاہتا تھا کہ میں ان کے ساتھ چلی جاؤں کیونکہ مجھے اپنے گھر والے بہت یاد آ رہے تھے۔ لیکن مجبوری تھی مجھے واپس آ نا پڑا۔

خونی لکیر کے اس پار

 شادی کے بعد لڑکی تیسرے یا ساتویں روز اپنے شوہر اور اہل سسرال کے ساتھ میکے جاتی ہے لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ میرے گھر والے خونی لکیر کے اس پار وادی میں تھے

شادی کے ایک سال بعد میں نے ایک بیٹے کو جنم دیا لیکن اس خوشی کے موقع پر میرے گھر والوں میں سےمیرے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ شادی کے دو سال بعد 1982 میں پہلی مرتبہ اپنے میکے گئی۔ جب میری ملاقات اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوئی تو یہ ہماری زندگی کا ناقابل فراموش لمحہ تھا۔ ہر طرف خوشیاں تھیں، یہ خوشی اس لئے بھی دوہری تھی کیونکہ میرے ساتھ میرا ایک سالہ بیٹا بھی تھا لیکن ایک کمی ضرور تھی کہ میرا شوہر ساتھ نہیں تھا۔ جو کہ ویزا نہ ہونے کی وجہ سے نہیں جا سکا تھا۔

یہ خوشیاں اس وقت عارضی ثابت ہوئیں جب تین ماہ بعد مجھے واپس مظفرآباد آنا پڑا۔ میرا دل یہاں آنے کے لئے بالکل بھی تیار نہ تھا۔ پھر میں دوسری اور آخری مرتبہ سری نگر اپنے گھر والوں سے ملنے گئی۔ میرا جانا اس لئے ممکن ہوا کیونکہ میرے پاس بھارتی پاسپورٹ تھا اور میں نے شادی کی غرض سے مظفرآباد بھارتی شہری کی حیثیت سے سفر کیا تھا اور اسی پاسپورٹ پر میں نے سرینگر کا دو مرتبہ سفر کیا۔ لیکن پھر مظفرآباد کے حکام نے مجھے بتایا کہ مجھے بھارتی پاسپورٹ سے دستبردار ہونا پڑے گا ورنہ میں پانچ سال کے بعد یہاں نہیں رہ سکوں گی تو مجبوراً میں اس پاسپورٹ سے دستبردار ہو گئی اور پاکستانی شہریت حاصل کر لی۔ جس کے بعد مجھے بھارت کا ویزا کبھی نہ مل سکا۔

آج بیس سال ہوئے میں اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے ملنے کے لئے تڑپ رہی ہوں۔ ہمارا صرف ٹیلی فون یا خط و کتابت کے ذریعے رابطہ رہتا ہے۔ اس دوران میرے تینوں بھائیوں جو مجھ سے عمر میں بڑے ہیں اور میری واحد بہن کی شادی ہوئی لیکن میں نہیں جاسکی۔ جب بھی وہاں کوئی خوشی کا موقع ہوتا ہے تو میں یہاں اس لئے اداس ہوتی ہوں کہ وہ سب لوگ وہاں اکٹھے ہوتے ہیں اور صرف میں ہی وہاں نہیں ہوتی ہوں۔

ان بیس سالوں کے دوران میرے کئی قریبی عزیز وفات پا گئے لیکن میں نہیں جا سکی۔ میں اس بے بسی کی حالت میں کیا کر سکتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ میری ماں نے اتنی دور میرا رشتہ کیوں دیا اور مجھے خاندانوں کے درمیان رشتہ قائم رکھنے کے لئے قربانی کا بکرا کیوں بنایا؟ گو مجھے یہاں کوئی تکلیف نہیں ہے لیکن میں ہمیشہ بےسکون رہتی ہوں اور اپنے گھر والوں سے دوری کا احساس ہر لمحے میرے دل و دماغ پر چھایا رہتا ہے۔

میرے تین بچے ہیں جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میرے بڑے بیٹے کی عمر اکیس سال ہے جبکہ دوسرے بیٹے کی عمر اٹھارہ سال اور بیٹی کی عمر گیارہ سال ہے۔ انہوں نے بھی اپنے ننھیال کو یا تو صرف تصویروں میں دیکھا ہے یا پھر ٹیلی فوں پر بات کی ہے لیکن کبھی آمنے سامنے ملاقات نہیں ہوئی البتہ میرا ایک بیٹا میرے ساتھ دو مرتبہ سرینگر گیا ہے جس وقت وہ بہت کمسن تھا۔ اس کو تو یاد بھی نہیں ہے کہ وہ کبھی اپنے ننھیال بھی گیا تھا میرے بچے، خاص طور پر میری بیٹی تو اپنی نانی، ماموں، خالہ اور اپنے کزنز سے ملنے کے لئے بہت تڑپتے ہیں۔

اب کچھ عرصے سے میری بوڑھی ماں فاطمہ جن کی عمر ستر برس سے زائد ہے، بیمار ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ میں ان کے پاس رہوں۔ سوائے میرے، ان کے سب بچے ان کے پاس ہیں۔ ان سے ٹیلی فون پر بات ہوتی ہے۔ وہاں سے وہ رو رہی ہوتی ہیں اور یہاں سے میں۔ وہ بس صرف ایک ہی بات کہتی ہیں کہ ایک بار ملنے آؤ لیکن میری حالت اس پرندے جیسی ہے جو پنجرے میں قید پر تو پھڑ پھڑا لیتا ہے لیکن اپنی خواہش کے مطابق آزادی سے اڑ نہیں سکتا۔

قربانی کا بکرا

 سوچتی ہوں کہ میری ماں نے اتنی دور میرا رشتہ کیوں دیا اور مجھے خاندانوں کے درمیان رشتہ قائم رکھنے کے لئے قربانی کا بکرا کیوں بنایا؟

ہمیں ویزا ہی نہیں ملتا تو ہم کیا کریں۔ میرے سسر اور ساس( چچا اور چچی) مظفرآباد آنے کے بعد اپنوں سے ملنے کی خواہش دل میں لے کر ہی وفات پا گئے۔ ہم بچھڑے ہوئے خاندان، اپنوں کے غم میں شامل ہو سکتے ہیں نہ خوشی میں۔ اب اللہ تعالٰی ہی ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کے دلوں میں رحم ڈالے تاکہ وہ ہمارے بارے میں بہتر سوچیں اور مظفر آباد سرینگر کا راستہ کھول دیں تاکہ ہم اپنوں سے مل سکیں۔


نوٹ: چالیس سالہ حفیظہ اختر کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہے۔ ان کی شادی انیس سو اسی میں ان کے چچا زاد خواجہ صلاح الدین سے مظفر آباد میں ہوئی۔ جب ان کی شادی ہوئی تھی تو اس وقت ان کی عمر صرف بیس سال تھی۔ حفظیہ اختر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ حفیظہ اختر گذشتہ بیس سال سے اپنے بھائی بہنوں اور دوسرے عزیزو اقارب سے ( جو بھارت کے زیر انتظام کشمر میں ہیں) نہیں مل سکی ہے۔ یہ گفتگو حفیظہ اختر نے مظفر آباد میں ہمارے نمائندے ذوالفقار علی سے کی۔ اگر آپ بھی ایسے ہی یا اس سے ملتے جلتے حالات کا شکار ہوئے ہیں اور اپنی کہانی لوگوں تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔

آپ کی رائے
امن کی طرف اصل قدم

 اگر اس عورت کو کشمیر کی کنٹرول لائن سے بالکل پڑوس میں ہی سری نگر تک جانے کی اجازت دے دی جائے بجائے واہگہ اور اٹاری کے طویل سفر سے گزرنے کے، تو یہ دوستی اور امن کی طرف ایک اور قدم آگے برھانے کے برابر ہوگا

ایم اسلم میمن، کراچی، پاکستان

ایم اسلم میمن، کراچی، پاکستان: میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں سے ہندو مذہب، اسلام، رواداری اور سیکولر ازم اور جمہوریت اور انسانیت کے نام پر التجا کرتا ہوں کہ وہ اس عورت اور اس کے بچوں کو اسے کے والدین اور بہن بھائیوں سے سری نگر میں ملنے کی اجازت دیں۔ اگر اس عورت کو کشمیر کی کنٹرول لائن سے بالکل پڑوس میں ہی سری نگر تک جانے کی اجازت دے دی جائے بجائے واہگہ اور اٹاری کے طویل سفر سے گزرنے کے، تو یہ دوستی اور امن کی طرف ایک اور قدم آگے بڑھانے کے برابر ہوگا میری تمام بھارتی اور پاکستانی شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاص طور پر میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ اس خاندان کو دوبارہ مل بیٹھنے میں مدد فراہم کرے۔

عدنان وحید آرائیں، ٹورنٹو، کینیڈا: یہ دل کو چھو جانے والی اور ہر عورت کی کہانی ہے۔ حفیظہ اختر کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنی آواز بلند کی اور ہمیں اپنی کہانی پڑھنے کا موقعہ دیا۔

انجینئیر ہمایوں ارشد، کراچی، پاکستان: کشمیر اور فلسطین سامراجی نظام کے دو دہکتے ہوئے ناسور ہیں جن کو پیدا کرنے اور قایم رکھنے میں برطانوی حکومت بھی برابر کی شریک ہے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد