BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 October, 2004, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر تقسیم ہونا چاہیے؟
News image
صدر مشرف کی تجویز پر بھارت نے کہا ہےکہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی باتوں پر رد عمل نہیں دیا جا سکتا اور جموں اور کشمیر کا معاملہ ایسا نہیں جس پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مذاکرات کیے جائیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے بھارتی وزارت خارجہ کے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کی تجاویز پر رد عمل دینے کا مطلب پاکستان کو ایجنڈا طے کرنے کا موقع دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ بےاعتباری کا عنصر بھی ہے کیونکہ جب بھی پاکستان کوئی نئی تجویز پیش کرتا ہے دلِّی میں بہت سے لوگ اسے کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ یہ تجویز نئی اور دلچسپ ہے اور بھارت اس پر غور کے بعد جواب دے گا۔

جنرل مشرف نے پیر کو مسئلہ کشمیر کا ایک نیا حل پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو جغرافیائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو طے کرنا ہے کہ کون سے حصے دونوں ممالک کے پاس ہوں اور کون سے حصے کو خودمختاری دی جا سکتی ہے۔

مشرف فارمولہ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا کشمیر کو اس طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ کیا جنرل مشرف کی تجویز کشمیر کا مسئلہ نئے سرے سے اٹھانے اور بھارت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے؟ کیا کشمیر کشمیری عوام کو حقِ رائے دئیے بغیر تقسیم کیا جا سکتا ہے؟


News image

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

عامر نواز، چکوال:
ویسے تو پاکستان میں عوام کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی پھر بھی میں اپنی رائے دیتا ہوں۔ صدر صاحب نے تو کشمیر کو سات حصوں میں تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ کیا بات ہے صدر صاحب کی۔

وحید رزاق، اوش، کرگستان:
یہ جنرل مشرف کے حقیقت پسند اور بہادر ہونے کا ثبوت ہے۔ کشمیر کا مسئلہ جلد ازجلد حل ہونا چاہیے۔ لگتا ہے مشرف باقی حکمرانوں کے برعکس ’ڈنگ ٹپاؤ‘ کام کرنے کی بجائے اس ملک کے مستقبل کا خیال بھی رکھتے ہیں لیکن پھر بھی ایک خوف ہے کہ کہیں یہ سب وردی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے تو نہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔

عبدالعزیز، انڈیا:
اگر آج کشمیر کو تقسیم کیا جاتا ہے تو کل پنجابی کہیں گے کہ ہمیں بھی
علحیدگی چاہیے۔ اس لیے کشمیر جیسا ہے چلتا رہے تو بہتر ہے۔ ہم اپنے ملک میں خوش، آپ اپنے پاکستان میں۔

رضوان صدیقی، آکلینڈ، نیوزی لینڈ:
میرا خیال ہے ہمیں کشمیر کا پیچھا چھوڑ کر اپنے ملک پر توجہ دینا چاہیے کیونکہ پہلے ہمیں خود کو مضبوط کرنا چاہیے۔

علی طاہر، باغ، پاکستان:
کشمیر مشرف یا من موہن سنگھ کی ذاتی جاگیر نہیں اور نہ ہی ان کو جہیز میں ملا تھا کہ وہ اسے تقسیم کرتے پھریں۔

باسط، لاہور:
اگر بھارت اس فارمولے کو مان بھی لیتا ہے تب بھی یہ مسئلہ رہے گا کہ کون سا حصہ پاکستان کو دیا جائے، کون سا بھارت کو اور کون سا آزاد رہے گا۔ پاکستان اور انڈیا کی تقسیم آج بھی ہمارے سامنے ہے۔ ستاون برس گزر جانے کے باوجود
ہم آئے دن سنتے ہیں کہ یہ تقسیم غلط تھی۔

مصدق حماد مغل، اسلام آباد:
میرے خیال میں اس مسئلہ کو حل ہو ہی جانا چاہیے کیونکہ اس میں جتنی دیر کریں گے دونوں ملکوں کا نقصان ہوتا رہے گا۔

عدیل کامران، لاہور:
اس فارمولے کو کیوں نہ آزمایا جائے؟ ہم کئی دوسرے منصوبوں کو ناکام ہوتا دیکھ چکے ہیں۔ درحقیقیت بنیادی طور پر پاکستان اور انڈیا کے پاس دو ہی حل ہیں، امن یا جنگ۔ صاف ظاہر ہے کہ کوئی بھی فارمولا جس میں امن کی بات ہوتی ہے زیادہ قابل قبول ہونا چاہیے۔

مالک جعفری، امریکہ:
نئی تجویز دیکر اپنا ستاون سالہ قربانیوں سے بھرا موقف خود ہی غلط ثابت کردیا۔ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بھکاری ضد کرتا ہے۔ رمضان کا مہینہ ہے، بابا سو مکن نہیں تو پچاس ہی دے دو!

علی ترین، کوئٹہ:
کشمیر کی زمین سے زیادہ کمشیری عوام زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، لہذا کوئی بھی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نہ ہو۔ اگر یہ فارمولا کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے تو اس پر ضرور عمل کرنا چاہئے۔

لچکدار رویہ اختیار کریں
 جنرل صاحب نے جو تجویز دی ہے وہ کافی حد تک قابل عمل ہے۔ عرصے سے اس بات کی ضرورت تھی کہ دونوں ممالک اپنے روایتی اور جارحانہ موقف سے ہٹ کر کوئی عملی، منطقی اور لچکدار رویہ اختیار کریں۔
عبدالحادی، کرغزستان
عبدالھادی، کرغزستان:
جنرل صاحب نے جو تجویز دی ہے وہ کافی حد تک قابل عمل ہے۔ عرصے سے اس بات کی ضرورت تھی کہ دونوں ممالک اپنے روایتی اور جارحانہ موقف سے ہٹ کر کوئی عملی، منطقی اور لچکدار رویہ اختیار کریں۔ جنرل صاحب نے اس میں پہل کی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اس بحث کو جلد سمیٹ کر اس تجویز پر عمل کیا جائے۔

آمنہ افتخار، چین:
میں کہنا چاہتی ہوں کہ صدر مشرف کا فیصلہ صحیح ہے، کشمیر کو جو بھی حصہ پاکستان میں آئے۔۔۔

اعجاز علی سیال، اونٹاریو:
جنرل مشرف کا پلان ٹھیک ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ ورنہ دونوں ملک خود کو تباہ کردیں گے اور مستقبل قریب میں دونوں کے عوام کا معیار زندگی بہتر نہیں ہوسکے گا۔

اکرام، پاکستان:
میں ذاتی طور پر مشرف کو بہت پسند کرتا ہوں اور جو حل انہوں نے بتایا ہے اس کو اس وجہ سے قابل عمل بنایا جاسکتا ہے کہ ایک صدر جب کوئی بات کرتا ہے تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ شاید اس طرح انڈیا اور پاکستان کے تعلقات آپس میں بحال ہوجائے۔

سید ذوالفقار علی کاظمی، مانسہرہ:
میرے خیال میں صدر صاحب کی تجویز درست ہے۔

مزمل مفتی، چینیوٹ:
اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مشرف صاحب کے پاس اپنی پالیسی نہیں ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ مشرف امریکہ کے ایجنٹ ہیں جو پاکستان پر رول کررہا ہے۔ اور چند مہینوں سے یہ بات سامنے آرہی تھی کہ مشرف صاحب کے پاس ’دوسرے‘ آپشن ہیں اور یہی آپشن سامنے ہے۔ اب کشمیری پاکستان پر کبھی یقین نہیں کریں گے، یا تو اب وہ انڈیا میں جائیں گے یا پاکستانی کشمیر کو ملاکر ایک آزاد کشمیر بنائں گے۔

اکرم ندیم چودھری، بورے والا:
میں سوچتا ہوں کہ کشمیر کو تقسیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تقسیم ہی ایک حل ہے تو کشمیروں کے طویل جدوجہد کا کیا ہوگا؟ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیری لوگ انڈیا اور پاکستان سے الگ ملک چاہتے ہیں تاکہ ان کا اپنا ملک، اپنی فوج، اپنے قوانین ہوں۔ اگر کشمیر ایک ملک نہ بنا تو ایک اور مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔

شہلا سہیل، ٹورانٹو:
ہم نے کیا سوچنا ہے کشمیر پر۔ ہم اپنے ملک پر نہیں سوچ سکتے تو کشمیر تو دور کی بات ہے۔ یہاں تو وہ حال ہے کہ ’نہ میرا پاکستان ہے نہ تیرا پاکستان ہے، یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے۔‘

اور کتنے لوگوں کو شہید کروانا ہے؟
 اب اس مسئلے کا حل ہو جانا چاہئے۔ بہت خون بہا ہے، بہت جانیں گئیں، رژلٹ کچھ بھی نہیں نکلا۔ ذرا سوچیں تو صحیح اور کتنے لوگوں کو شہید کروانا ہے؟
طارق عزیز، فیصل آباد

طارق عزیز، فیصل آباد:
اب اس مسئلے کا حل ہو جانا چاہئے۔ بہت خون بہا ہے، بہت جانیں گئیں، رژلٹ کچھ بھی نہیں نکلا۔ ذرا سوچیں تو صحیح اور کتنے لوگوں کو شہید کروانا ہے؟ ابھی تو ہمیں بہت آگے جانا ہے لیکن کشمیر کا پرابلم ساتھ لیکر ممکن نہیں، بالکل ممکن نہیں۔ دنیا بہت آگے جاچکی ہے۔ لیکن اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا تو امریکہ، برطانیہ اور روس کے ہتھیار کون خریدے گا؟

کیرن احمد، واٹرلو:
اپنے پاس جو پہلے ہے وہ تو سنبھالیں نہیں جارہے، کشمیر کو لیکر کیا کریں گے؟ انڈیا پاکستان دونوں کو چاہئے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں پر چھوڑ دیں اور جو ان کے پاس ہے اس پر اکتفا کریں۔

محمد احمد، آسٹن، امریکہ:
میرے خیال میں بیسٹ آپشن یہ ہے کہ کشمیریوں کو تین متبادل دیے جائیں کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں: انڈیا یا پاکستان یا علیحدہ رہنا چاہتے ہیں۔

زاہد ملک، مانٹریال:
مجھے کوئی مثبت حل نظر نہیں آرہا۔ یہ صرف انڈیا کو فائدہ مند ثابت ہوگا۔ مشرف انڈیا کو فروٹس آفر کررہے ہیں۔ کشمیر کے حل کے ذریعے انڈیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل سیٹ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

حسن بٹ، امریکہ:
کشمیر پاکستان کا شہ رگ ہے اور مشرف جیسے ڈِکٹیٹر کو کس نے یہ رائٹ دیا ہے کہ وہ آپشن پیش کریں؟

عامر عطا، اسلام آباد:
میں سمجھتا ہوں کہ مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ ایک عقل والا ذہن کبھی سوچ ہی نہیں سکتا کہ سمجھوتے کے بغیر اس مسئلے کا کوئی حل ہے۔ لیکن اس فارمولے پر عمل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ گورنمنٹ یا مشرف کی کوئی بھی پالیسی ہو اس پر حزب اختلاف کا اعتراض فرض معلوم ہوتا ہے۔ بھارت میں بھی حالات کچھ زیاد بدلے نہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ حل صحیح نہیں تو انہیں موقع دیا جانا چاہئے کہ کوئی اور حل بیان کریں۔

خالد محمود، ہملٹن، کینیڈا:
میرے خیال میں وقت کی ضرورت یہ نہیں کہ حل کیسا ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بنیادی مسئلے کا حل نکالا جائے، کشمیریوں کے مفاد میں، نہ کہ انڈیا یا پاکستان کے مفاد میں۔ اس سے بونس یہ ملے گا کہ پاکستان اور انڈیا کو بڑی افواج نہیں پالنے پڑیں گے۔

محمد ایاز، ٹیکسلا:
اب اس مسئلے کا فیصلہ ہوجانا چاہئے۔ ہمیں ایک اچھے پڑوسی کی طرح رہنا چاہئے۔ کوئی فارمولا اپنائیں لیکن کوئی حل نکالیں۔

عمران محمد، نیوزی لینڈ:
میرے خیال میں وقت آگیا ہے جب دونوں ممالک کو سوچنا چاہئے۔ مشرف صحیح ہیں اور بات چیت کے ذریعے ہی کشمیر کے بارے میں صحیح پلان بنایا جاسکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پیسے ہتھیار پر خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ عوام پر صرف کیے جائیں۔

تسلیم وانی، بڈگام:
مشرف کی تجویز صحیح ہے۔ لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ یہ حل ہو۔

کشمیر تقسیم نہیں ہوسکتا
 میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کشمیر انڈیا اور پاکستان سے بہت پہلے آزاد اور خودمختار ریاست تھی۔ کشمیر کو نہ تو کوئی تقسیم کرسکتا ہے اور نہ اسے بانٹ سکتا ہے۔
الطاف شاہ، میرپور
الطاف شاہ، میرپور:
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کشمیر انڈیا اور پاکستان سے بہت پہلے آزاد اور خودمختار ریاست تھی۔ کشمیر کو نہ تو کوئی تقسیم کرسکتا ہے اور نہ اسے بانٹ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو خانہ جنگی ہوگی۔ ایک ایک کشمیری اپنے ملک کے لئے جان دے گا مگر اس کو تقسیم نہیں ہونے دے گا۔ کشمیری اگر پچاس برس ظلم سہ سکتا ہے تو پہلے انڈیا تھا، اب پاکستان کے ساتھ بھی جنگ کرنی ہوگی۔ ہم کشمیر کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

ذیشان خان، کراچی، پاکستان:
جنرل مشرف کا فارمولا دونوں ممالک کے لیے بہت اچھا ہے اور خود کشمیر کے لیے بھی۔ اتنے سالوں میں انڈیا اور پاکستان کو کیا ملے سوائے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے۔

یاسر، میرپور، پاکستان:
اگر کشمیر کو پاکستان اور انڈیا میں تقسیم کیا گیا تو پھر مشرف اور گلاب سنگھ ڈوگرا میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

صالحہ محمود، راولپنڈی، پاکستان:
پہلے تو مشرف کو اپنی حیثیت ایک قانونی صدر کے طور پر قبول کروانی ہوگی۔ ان کی کسی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اب کشمیر کو تقسیم ہی کرنا ہے تو ستاون سال تک ساری قوم کو بے وقوف کیوں بنایا گیا۔

مبشر عزیز، جرمنی:
اب رائے بھیجنے کا کیا فائدہ۔ بی بی سی اردو کے ناخداؤں کے نازک مزاج پر ناگوار گزرنے والی رائے سینسر کی نذر ہی تو ہوجاتی ہے۔

انور ہاشمی، لاہور، پاکستان:
یہ مسئلہ صدر مشرف کی وردی کی معیاد ختم ہونے تک اٹھایا جا رہا ہے۔ اکتیس دسمبر کے بعد پاکستان کا موقف بدل جائے گا۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان:
کیا کبھی دل کے ٹکڑے کیے جا سکتے ہیں؟

عفاف اظہر، ٹورنٹو:
میری مشرف صاحب سے درخواست ہے کہ پہلے اپنے ملک کی خانہ جنگی پر قابو پالیں، پہلے اس کے ٹکڑے جوڑ لیں تو پھر کشمیر کو توڑیں۔

صمدانی صدیقی، کراچی، پاکستان:
یہ تجویز صدر بش کی ہے جس کے آگے صدر مشرف نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ لچک کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ مشرف کا فارمولا کامیاب نہیں ہوگا۔

الطاف حسین، نیو جرسی، امریکہ:
مشرف نوبل پرائز کمیٹی کو تو بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن ہمیں نہیں۔ ان کی کسی بات کا یقین نہیں کیا جا سکتا۔

ھلال باری، لندن، برطانیہ:
جنرل مشرف کی تجویز پاکستان کے بنیادی موقف کی کھلی تذلیل ہے۔ پاکستان آرمی نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں اپنے ذاتی مفاد کے علاوہ کسی چیز سے غرض نہیں۔ مسئلہ کشمیر مسئلہ فلسطین میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

علی محمد، ٹورانٹو، کینیڈا:
جنرل مشرف براہِ کرم کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے پہلے وردی کا مسئلہ حل کریں۔ صرف ایک جمہوری حکومت ہی کشمیر کا مسئلہ حل کر سکتی ہے۔

ہمارا رویہ
 یہ خیال ہی کہ کشمیروں کو بے جان اشیاء کی طرح آپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کا کیا رویہ ہے کشمیر کے بارے میں۔
صائمہ خان، پاکستان

عمران شیخ، لاہور، پاکستان:
یقیناً، یہ مسئلہ اسی صورت میں حل ہو گا اگر دونوں ممالک کچھ لچک دکھائیں ورنہ بھارت، پاکستان اور کشمیر کے لوگ اس مسئلہ کی وجہ سے پریشان رہیں گے۔

محسن علی، ٹورانٹو، کینیڈا:
کشمیر تقسیم ہونا چاہیے، اس طرح کشمیریوں کو آزادی تو ملے گی۔

صائمہ خان، کراچی، پاکستان:
یہ خیال ہی کہ کشمیروں کو بے جان اشیاء کی طرح آپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کا کیا رویہ ہے کشمیر کے بارے میں۔ کشمیر کا دیرپا حل اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کشمیروں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔

شاہد ریاض، فرانس:
کشمیر کو مکمل خود مختار ہونا چاہیے، مشرف کی یہ تجاویز ہم نہیں مانتے۔

عابد غلام، برادہ، سعودی عرب:
کشمیر کی تقسیم ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے کیونکہ آزادی کی تحریک نے ثابت کیا ہے کہ یہ صرف وادی کا مسئلہ ہے پورے کشمیر کا نہیں۔ آزادکشسمیر، جموں اور کشمیر کے دوسرے حصوں سے لوگوں نے تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ ہمیں یہ حقیقت مان لینا چاہیےاور وادئ کشمیر کشمیریوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔

خالد گرمانی، کوٹ چھٹہ، پاکستان:
اگر کشمیر تقسیم ہوتا ہے تو اس بےگناہ لوگوں کے خون کا کون ذمہ دار ہوگا جو اب تک بہہ چکا ہے۔ مشرف صاحب کی تجویز ناقابل عمل ہے اور نہ ہی انڈیا اس مسئلہ پر سنجیدہ ہے۔

خالد شاہین، جرمنی:
مشرف صاحب کی کوشش اچھی پیش رفت ہے۔ تقسیم کے سلسلہ میں وہ کچھ کنفیوز ہیں لیکن اب موقع آگیا ہے کہ اس مسئلہ پر کھل کر بات ہو۔ شاید کسی کے پاس کوئی بہتر حل ہو۔

محمد عمر فاروقی، کراچی، پاکستان:
کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور شہہ رگ کے بغیر کوئی بھی زندہ نپیں رہ سکتا۔

ڈاکٹر محمد الطاف، مالاکنڈ، پاکستان:
میرا خیال ہے یہ جنرل مشرف کے بہترین اقدامات میں سے ایک ہے، خاص طور پر گیارہ ستمبر کے بعد کی بدلتی دنیا کے لحاظ سے۔ اگر کشمیر کے مسئلہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تو مستقبل میں دونوں ممالک مشکلات کا شکار رہیں گے۔

سیاسی حوصلے کا اظہار
 مشرف نے دونوں حکومتوں کی ظاہری پوزیشن سے آگے کی بات کر کے سیاسی حوصلے کا اظہار کیا ہے۔ ان کی تجاویز کسی کے لیے بھی نئی نہیں، فرق اگر ہے تو حالات اور ان تجاویز کے وقت کا۔
حسن عسکری، پاکستان
حسن عسکری، پاکستان:
مشرف نے دونوں حکومتوں کی ظاہری پوزیشن سے آگے کی بات کر کے سیاسی حوصلے کا اظہار کیا ہے۔ ان کی تجاویز کسی کے لیے بھی نئی نہیں، فرق اگر ہے تو حالات اور ان تجاویز کے وقت کا۔ امریکہ میں موجود کشمیر سٹڈی گروپ کے سربراہ یہی تجاویز لونگسٹن پروپوزل کے نام سے پیش کر چکے ہیں لیکن وہ وقت ان تجاویز کے لیے مناسب نہیں تھا۔ اب جب کہ دونوں ممالک بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تحت دوبارہ تعلقات استوار کر رہے ہیں تو امید کرنی چاہیے کہ یہ تجاویز برآور ہوں گی۔ خدا اس مسئلہ کے تمام فریقوں پر رحم کرے۔

سید زیدی، اونٹاریو، کینیڈا:
پاکستان اور انڈیا دونوں کو چاہیے کہ وہ کشمیر کو آزاد کر دیں۔ دونوں کو پہلے ہم سے پوچھنا چاہیے کہ ہم کشمیری کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم آزاد رہنا چاہتے ہیں نہ کہ کسی کی کالونی بن کر۔

رضوان الحق، پیرس، فرانس:
جنرل مشرف کی اس تجویز سے ان کا کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں مخلص ہونا صاف ظاہر ہوتا ہے۔ دونوں ملک اپنے اپنے فرسودہ موقف کی وجہ سے بہت خون اور پیسہ برباد کر چکے ہیں۔ اب دونوں کو کسی بھی طرح یہ مسئلہ حل کرکے اپنی ساری توجہ تعلیم، ٹیکنالوجی میں اضافے اور غربت کو ختم کرنے پر دینا چاہیے۔ علاقے کی ترقی کے لیے اس مسئلہ کا حل ضروری ہے۔

طلعت بٹ، لُنڈ، سویڈن:
ہم پاکستانی اور انڈین فوجوں کو کشمیر سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں اور کشمیر کی آزادی کے علاوہ کوئی دوسرا حل ٹھیک نہیں۔

کبیر احمد، راولاکوٹ، کشمیر:
کشمیر جنرل مشرف کا گھر نہیں جسے وہ اپنے دوستوں میں تقسیم کر دیں۔ کشمیر ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد صرف مکمل خود مختاری کے لیے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد