 |  کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا؟ آپ کی رائے |
نیویارک میں بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور جنرل پرویز مشرف کی پہلی ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ’ایک بات نئی ہوئی ہے۔‘ شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ من موہن سنگھ تمام مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کے بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے اور تسلیم کرتے ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو بدمزگی کا موجب بنے۔ شیخ رشید نے کہا کہ من موہن سنگھ کو حکومت میں آئے ابھی صرف تین ماہ ہوئے ہیں اور اتنے عرصہ میں کشمیر کو ایک متنازعہ مسئلہ تسلیم کرنا اور مثبت رویہ اختیار کرنا اہم بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاثر سے ہٹ کر کہ کون جیتا اور کون ہارا دونوں ملک آگے بڑھ رہے ہیں۔ کیا پاکستان اور انڈیا کشمیر کے متعلق ایک لچک دار مؤقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا اس کی بدولت کشمیر کا کوئی مستقل حل ممکن ہے؟ کیا کشمیر کے پرامن حل میں پاکستان اور انڈیا کشمیریوں کی رائے کو اہم کردار اد کرنے دیں گے؟ آپ کی رائے
یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
خالد اعوان، برطانیہ: میرے خیال میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اگر بھارت اس سلسلہ میں دیانتداری کا مظاہرہ کریں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک بھارت کی طرف سے خلوص کا اظہار نہیں ہوا۔ محمد اسلم، کوئٹہ، پاکستان: مسئلہ کشمیر کو اب حل ہو جانا چاہیے کیونکہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہیں۔ یہ ایک اچھا موقع ہے۔ سجاد، ٹیکسلا، پاکستان: کشمیر کے مسئلہ پر دونوں طرف سے لچکدار رویہ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کی اقصادی حالت پر ایک مسلسل بوجھ ہے۔ دفاع پر بلاوجہ اخراجات کی وجہ سے دونوں ممالک ترقی کی دوڑ میں باقی ممالک سے پیچھے رو گئے ہیں۔ اسوتوش رانا، سپین: پاکستان اور بھارت کے حکمران اس مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں، صرف عوام کو بےوقوف بنایا جا رہا ہے۔ سرفراز شاہ، چترال، پاکستان: ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، د کھانے کے اور۔ عمر خان، فلے ڈیلفیا، امریکہ: دونوں ملکوں کو موجودہ اچھے حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس وقت دونوں ممالک اور کشمیرکے عوام اس مسئلہ کے دیرپا اور مستقل حل کی لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں حکومتیں اپنے ملکوں میں حزبِ اختلاف اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف سے کشمیری رہنماؤں کو مذاکرات میں شامل رکھیں۔ عثمان علی، کینیڈا: مشرف صاحب اپنی مرضی کے مالک ہیں، جو چاہیں گے کریں گی۔ اس لیے بحت کرنا فضول ہے۔ واجد علی خان، ٹورانٹو، کینیڈا: میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ حکمران طبقہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں کیونکر سنجیدہ ہو سکتا ہے، اس طبقہ کی سیاست اور روزگار اس مسئلہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ تلاوت بخاری، اسلام آباد، پاکستان: بہتر یہ ہو گا کہ کشمیر کو آزاد ملک قرار دی دیا جائے، سوٹزرلینڈ کی طرز پر۔ سیٹھ عبدالرحمٰن، میرپور خاص، پاکستان: کشمیر کی آزادی سے بھارت میں آزادی کی کئی دوسری تحریکیں جنم لیں گی، اس لیے یہ بھارت کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ’اٹوٹ انگ‘ کے نعرہ سے پیچھے ہٹے۔ اسی طرح پاکستان اپنے پانی کے وسائل کی وجہ سی کشمیر سے دست بردار نہیں ہو سکتا۔ جب بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کو ان مسائل پر اعتماد میں لے لیں گے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ مظہر حسین تزاگرامی، دبئی، یو اے ای: جنگ نے کبھی بھی مسائل کو حل نہیں کیا بلکہ ہمیشہ بڑھایا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل یہی ہے کہ تمام متعلقہ فریق اس سلسلہ میں لچک کا مظاہرہ کریں۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور دونوں ملکوں کے لیڈروں کو اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ان کی حمایت کرنی چاہئے۔ اویس رسول، کپواڑہ، کشمیر: کشمیریوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں کوئی انسان ہی نہیں سمجھتا کیونکہ اگر انہیں انسان سمجھا جاتا تو ان کی حالت پر رحم کیا جاتا۔ مشرف من موہن ملاقات سے کچھ حاصل نہیں ہونے جا رہا۔ شمیمہ پیرزادہ، سری نگر، آئی ایچ کے: کشمیروں کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان کی تباہی اور بربادی کسی کو دکھائی ہی نہیں دیتی۔ سید رضوان احمد، ٹورانٹو، کینیڈا: میرا خیال ہے اتنے اچھے حالات سے دونوں لیڈروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ عمران نقوی، مشیگن، امریکہ: صرف مشرف ہی کشمیر کا مسئلہ حل کرا سکتے ہیں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ وہ اس میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔
 | چھوڑیے مشرف صاحب  ارے چھوڑیے مشرف صاحب، واجپائی صاحب کے دور میں بھی آپ نے اسی قسم کی ڈینگیں ماری تھیں اور ہوا کچھ بھی نہیں تھا۔  علی نقوی، کینیڈا |
سید روحہ نقوی، کراچی، پاکستان: من موہن صاحب کی سمجھ نہیں آتی، کشمیر کو متنازعہ ایشو بھی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی پاکستان کو خبردار کرتے ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے بدمزگی پیدا ہو۔ اب آپ ہی بتائیں اگر کشمیر واقعی متنازعہ ایشو ہے تو کیا اس پر بات کرنے سے بدمزگی نہیں ہو گی؟ سپن گل ابراہیم خیل، مالاکنڈ ایجنسی، پاکستان: کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے پہلے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات کو درست کرے۔ انہیں چاہیے کہ وہ پہلے وانا، کراچی اور ان جیسے دوسرے علاقوں کے مسائل حل کرے۔ علی نقوی، کینیڈا: ارے چھوڑیے مشرف صاحب، واجپائی صاحب کے دور میں بھی آپ نے اسی قسم کی ڈینگیں ماری تھیں اور ہوا کچھ بھی نہیں تھا۔ اندرکشن ٹھنڈانی، حیدرآباد، پاکستان: بھئی میں تو چاہتا ہوں جو بھی پیشرفت ہونی ہے جلدی ہوکیونکہ مجھے بھارت میں اپنے رشتہ داروں سے ملناہے۔ دونوں لیڈر خوش رہیں اور جلد سے جلد عوام کی بھلائی کی لیے اچھے فیصلے کریں، میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ فیصل چانڈیو، حیدر آباد، پاکستان: ہونا کچھ بھی نہیں ہے اور جو ہونا ہے وہ امریکہ اور بھارت کی مرضی سے ہوگا۔ ہمارے حکمران حکومت تو ہم پہ کرتے ہیں لیکن احکامات اپنے غیرملکی آقاؤں سے لیتے ہیں۔ حفیظ رحمٰن، نیوزی لینڈ: مسئلہ کشمیر کا حل بہت آسان ہے بشرطیکہ بھارت یہ بات مان لے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں کشمیر بنیادی نکتہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اب بھارت اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے اور وہ ایسا اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک کشمیر جیسے معاملات کو حل نہ کرلے۔
 | سمجھ نہیں آتی  من موہن صاحب کی سمجھ نہیں آتی، کشمیر کو متنازعہ ایشو بھی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی پاکستان کو خبردار کرتے ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے بدمزگی پیدا ہو۔  سید روحہ نقوی، کراچی، پاکستان |
فراز رضوی، کینیڈا: یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے اگر بھارت بھی کچھ دلچسپی لے۔ نہ جانے کتنی دفعہ صدر مشرف پہل کر چکے ہیں لیکن بھارت کی طرف سے سردمہری کا مظاہرہ کیا گیا۔بھارت کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری دکھائے اور مذاکرات کو آگے بڑھائے۔شمیمہ شاہ، سری نگر، کشمیر: شیخ رشید ایک جذباتی انسان ہیں، وہ بھارتی مکاری اور دھوکہ بازی کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ محمدفدا، کینیڈا: ہمیں کشمیر کو بھول جانا چاہیے۔ محمد انورخان، بریڈفورڈ، برطانیہ: پاکستان اور انڈیا کے لیڈروں نے ابھی تک اس مسئلہ کے اہم فریق، یعنی کشمیریوں کو، اعتماد میں نہیں لیا۔ بس ہوا میں ہی باتیں ہو رہی ہیں۔ عمران شاہد، بریڈفورڈ، برطانیہ: پاکستان امریکہ کے دباؤ میں آ کر ان سب باتوں پر مذاکرات کے لیے تیار ہے جن پر بھارت بھی تیار ہے۔ لیکن یہ مسئلہ کا پائدار حل نہیں ہے کیونکہ کشمیریوں کو ان مذاکرات میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ ۔ دانش کشمیری، راولاکوٹ: کشمیر کشمیروں کا ہے اور پاکستان اور بھارت کو کوئی حق نہیں ہے کہ کشمیر کو تقسیم کرنے کی باتیں کریں۔کشمیری آزادی اور خودمختاری چاہتے ہیں۔ ذیشان شان، امریکہ: کشمیر نہ پاکستان کا ہے اور نہ بھارت کا۔ کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی قسمت خود بنائیں اور پاکستان اور انڈیا کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے دیں۔ عثمان لطیف مغل، میانوالی، پاکستان: میرے خیال میں تو اس مسئلہ کا واحد حل جنگ ہے کیونکہ اگر اس کو مذاکرات سے حل ہونا ہوتا تو گزشتہ پچاس برس میں ہو چکا ہوتا۔ محمد احمدمفتی، ٹورانٹو، کینیڈا: پاکستان اس مسئلہ کو حل کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان یکطرفہ طور پر آزادکشمیر میں رائے شماری کرا دے توآدھا مسئلہ تو حل ہو جائےگا۔
 | جنگ نہیں مذاکرات  کشمیر کا فیصلہ صرف اور صرف مذاکرات کی میز پر ہی ہو سکتا ہے۔ اگر گولی سے کشمیر کا فیصلہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بےحساب جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔  محمد علی میمن، ٹندو آدم |
ذیشان میمن، کراچی: کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ کسی کی جاگیر نہیں۔مہ پارہ، بڈگام، کشمیر: شیخ رشید صاحب اور ان کے نیتا بھارت سے سراسر دھوکہ کھا رہے ہیں۔ کشمیر کے مسئلہ کا حل صرف اور صرف جہاد ہے۔ بلال، ایبٹ آباد، پاکستان: پھول کے ساتھ کانٹے تو ہوتے ہی ہیں۔ رابعہ، کشمیر: مذاکرات نقش برآب، جہاد ہی مسئلہ کشمیر کاہے۔ عثمان گوجر، پونچھ، کشمیر: مسئلہ کشمیر مذاکرات سے نہیں بلکہ جہاد کے ذریعہ ہی حل ہو گا۔ آصف جّجہ، ٹورانٹو، کینیڈا: ابھی نہیں، اس مسلہ کو حل ہونے میں وقت لگےگا اور کشمیری عوام کو اس سلسلہ میں پورا اختیار ہونا چاہیے۔ نجیب الرحمٰن، نانجنگ، چین: یہ سب دکھاوا ہے۔ لوگوں کو بےوقوف بنا رہے ہیں ورنہ حقیقت میں دونوں فریق کشمیر کا کیک آپس میں آدھا آدھا بانٹ چکے ہیں۔ واقف سنگھ، پشاور، پاکستان: امید ہے کہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ جنرل صاحب تو یقیناً کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں کوئی ان سے اختلاف نہیں کر سکتا لیکن من موہن صاحب کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ انڈیا میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ان کو روک سکتے ہیں۔ ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: کشمیر پر تھرڈ آپشن کے حوالے سے ہی بات ہو گی اور شیخ صاحب نے بھی کہہ دیا ہے کہ درمیانے راستہ پر بات ہوئی ہے۔ اب یہ درمیانی راستہ کیا ہے؟ یہ تو وہی بتا سکتے ہیں جو وہاں موجود تھے۔ عمران احمدعظمی، نئی دھلی، بھارت: کشمیر کا مسئلہ " ہم بھی جیتے تم بھی جیتے" کے اصول کے تحت حل ہو سکتا ہے۔اگر دونوں فریق اس طرح کے حل کے لیے راضی ہیں تو کچھ ممکن ہے ورنہ نہیں۔ اسمہ سید، سوپور، کشمیر: جہاد کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی اور حل نہیں۔ گزشتہ ستاون برس میں صرف ڈرامہ بازی ہوئی ہے۔ محمد علی میمن، ٹندو آدم: کشمیر کا فیصلہ صرف اور صرف مذاکرات کی میز پر ہی ہو سکتا ہے۔ اگر گولی سے کشمیر کا فیصلہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بےحساب جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ جنرل مشرف اور من موہن سنگھ دونوں کو لچکدار رویہ اپنانا ہو گا۔ علی، اوٹووا: سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔
 | جیتا کون؟  کشمیر کا مسئلہ " ہم بھی جیتے تم بھی جیتے" کے اصول کے تحت حل ہو سکتا ہے۔اگر دونوں فریق اس طرح کے حل کے لیے راضی ہیں تو کچھ ممکن ہے ورنہ نہیں۔  عمران احمدعظمی، نئی دھلی، بھارت |
عبدالرفیع رسول پیرزادہ، کشمیر: یہ سب سفارتی موشگافیاں ہیں، اس کے علاوہ کچھ ہیں۔ابراہیم جی، ٹورانٹو: ہندوستان سیاست میں ہم سے پچاس سال آگے ہے۔ ان کے ہاں فوج نے کبھی حکمرانی نہیں کی۔ وہ واقعتاً جمہوریت پر کاربند رہے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے جنرل صاحب کو سیاست کا کیا پتا۔ انڈیا اتنا تیز ہے کہ وہ اپنے سب مطالبات منوا کر چلا جائے گا اور مشرف صاحب دوستی پکی کرنے میں لگے رہیں گے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: کشمیر کا مسئلہ کچھ کچھ دو کے اصول پر ہی حل ہو تو ہو، مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ عوام ہر مرتبہ امید باندھ لیتے ہیں لیکن اس بار تو شیخ رشید نے یہ بھی کہہ دیا کہ زیادہ امیدیں نہ لگائیں۔ علی حیدر، کینیڈا: یہ کیسی سیاست ہے کہ صدر جنرل مشرف کل تک لاہور میں بھارتی حکمرانوں ک چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور آج وہ وزیراعظم من موہن سنگھ کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہیں اور ان سے تمام مطالبات تسلیم کر رہے ہیں۔ قیصر ساغر میو، کینیڈا: حالات تو یہی بتا رہے ہیں کہ کچھ نہ کچھ فیصلہ تو ہونے والا ہے۔ لیاقت کنجن، میانوالی: پاکستان اور بھارت کا قریب آنا ممکن ہی نہیں ہے۔ دونوں سربراہان کا رویہ ایسے ہے جیسے وہ کوئی برا اور شرمناک کام کر رہے ہوں۔
 | کشمیر کا کیک  یہ سب دکھاوا ہے۔ لوگوں کو بےوقوف بنا رہے ہیں ورنہ حقیقت میں دونوں فریق کشمیر کا کیک آپس میں آدھا آدھا بانٹ چکے ہیں۔  نجیب الرحمٰن، نانجنگ، چین |
محمد محسن جاوید، کینیڈا: میرے خیال میں دونوں فریق کچھ ہی دنوں میں ایک دوسرے ےخلاف بیان بازی شروع کر دیں گے۔اظہر سہیل، ٹورانٹو: دیکھئے کشمیری انسان ہیں اور ایسا ہر گز نہیں کہ وہ اتنے عرصے سے ظلم سہنےکے بعد اب دوسرے لوگ انکی قسمت کا کریں گے۔ اگر کسی کو ان سے ہمدردی ہے تو ان کو انہی کے حال پر چھوڑ کرمکمل آزادی سے ان کو فیصلہ کرنے دیں۔ ظلّ ہما، پاکستان: کشمیری ہندو سیا مسلمان ہونے سے پہلے جیتے جاگتے انسان ہیں اور انسانیت کے ناطے ان کے احساسات کا پاس کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ وجیہہ قیوم، کینیڈا: سمجھ نہیں آتا کہ کشمیر پر لڑنے کے بجائے آخر اسے اکیلا کیوں نہیں چھوڑ دیتے اس کے حال پر؟ ایمان سہیل، ٹورانٹو: دونوں ممالک کے درمیان ایک لمبے عرصے کے بعد بہتری کی امید نظر آئی ہے۔ شکر کرنا چاہیے۔ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائیں اور کشمیریوں کو بھی سکون لینے دیں۔ کرن جبران، کینیڈا: اگر مشرف اور من موہن سیاسی مفادات سے بلند ہو کر سوچتے ہیں تو میرے خیال میں ایسے لوگ بڑی مدت بعد دونوں ممالک کو نصیب ہوئے ہیں۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے۔ عفاف اظہار، کینیڈا: میرے خیال میں دونوں سربراہان خاصے پُرامن اور سمجھدار ہیں اور ان سے اچھی امید ہی رکھنی چاہیے۔
 | سیاسی مفادات یا مزاکرات؟  اگر مشرف اور من موہن سیاسی مفادات سے بلند ہو کر سوچتے ہیں تو میرے خیال میں ایسے لوگ بڑی مدت بعد دونوں ممالک کو نصیب ہوئے ہیں۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے۔  کرن جبران، کینیڈا |
طارق اورکزئی، کوہاٹ: پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں زیادہ مضبوط حکومت ہے لیکن ہندوستان کی صورت حال ہم سے زیادہ بہتر ہے۔عامر ہاشمی، ابوظہبی: میرے حیال میں ایسا لگتا ہے کہ اب دونوں ممالک اپنے موقف میں لچک پیدا کر رہے ہیں اور یہی کشمیر کا حل بھی ہے۔ ہم سب کو اچھی امید ہی رکھنی چاہیے۔ طارق محمود، سرگودھا: لچک دکھانا صرف پاکستان کا کام ہے۔ ہم نے ہر معاملے میں لچک دکھائی ہے اور اس بار بھی انشا اللہ ہم ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں گے۔ بلال مغل، لاہور: یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس طرح پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ آپ کو پتا نہیں کہ شیخ صاحب امریکہ گئے تھے؟ عبداللہ جدون: میں نہیں مانتا کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے۔ یہ تو ہمارے سیاستدانوں کے مسائل کا ایک حل ہے۔ کیونکہ جب بھی الیکشن ہوں یا کوئی اور موقع مسئلۂ کشمیر کی بات شروع کر دو۔ جواد، جاپان: سیاست کے میدان میں ہندوستانی سیاستدانوں کا جواب نہیں۔ پاکستانی سیاستدانوں کو سیاست زیب ہی نہیں دیتی۔ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا اب دونوں ممالک کی مجبوری ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے عوام بہت بےوقوف بن چکے۔ ابھی تک دونوں ملکوں کے سیاست دان اور فوجی اپنے ذاتی مفادات کے لیے کشمیر کو مسئلہ بنائے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں ہندوستان ابھی تک اپنی تمام باتیں منوا کر صرف ایک بات مانتا ہے اور اب یہ ہو سکتا ہے کہ ہندوستان پہلے ایک بات مان جائے اور پھر کئی بتیں منوائے۔ شہریار خان، سنگاپور: کشمیر دونوں ممالک کے درمیان بلاشبہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کو اہنے رہنماؤں کا حوصلہ بڑھانےکی ضرورت ہے۔ کشمیر کوئی عراق یا افغانستان کی طرح کا مسئلہ نہیں کہ غیر ملکی فوج اسے حل کر لے۔ اس مسئلے کو صرف اور صرف پاکستان اور انڈیا کی اچھی دوستی ہی حل کر سکتی ہے۔ دونوں سربراہان کے موجودہ رویے سے لگتا ہے کہ کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت ہو چلی ہے۔ علی عمران شاہین، لاہور: پاکستان کو کشمیریوں کی جدجہد کی حمایت کرنی چاہیے۔ اس طرح کشمیر کاز زندہ رہے گا اور تمام دنیا کی توجہ کا مرکز بھی بنا رہے گا۔ علیم، گجرات: ایک کشمیر کو اٹوٹ انگ کہتا ہے تو دوسرا شہ رگ، آدھا آدھا کر نہیں سکتے تو پھر یہ مسئلہ کیسے حل ہو گا؟ میرے خیال میں حل ناممکن ہے۔ یہ مسئلہ اگلے پچاس سال تک حل نہیں ہو گا۔ نعیم بلوچ، لاہور: کشمیر کے معاملے پر دونوں ملک اتنے ہی مخلص ہیں جتنے وہ اپنے عوام کے ساتھ مخلص ہیں۔ اورنگ زیب ساہی، لاہور: شیخ جی۔۔۔۔ کہ خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا غلام فرید شیخ، سندھ: خدا کا شکر ہے کہ دونوں ملک راضی ہو گئے ہیں اور دونوں کو بات سمجھ آ گئی ہے۔ محمد عامر خان، کراچی، پاکستان: دونوں ملکوں کو جذبات سے ہٹ کر سوچنا چاہیے ۔ ندیم احمد جـامی، سدہارتھ نگر، انڈیا: کشمیر کا مسئلہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہی حل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی دوسری صورت دکھائی نہیں دیتی۔ راجہ عبدالجبار،دبئی، متحدہ عرب امارات: کشمیر کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ راحیل علوی، لاہور، پاکستان: در حقیقت ابھی تک تو پاکستان کی طرف سے ہی زیادہ لچک کا مظاہرہ ہوا ہے۔ اب بھارت کی طرف سے بھی لچک نظر آ رہی ہے اس لیے لگتا ہے کہ مسئلہ کا کوئی حل نکل آئے گا تا ہم لگتا یہی ہے کہ پاکستان خسارے میں رہے گا۔ جہاں تک بات ہے کشمیریوں کی رائے کی، تو ان کی مرضی کے بغیر تو کچھ نہیں ہو سکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دونوں ممالک ایک حد تک ہی اس بات کا خیال کر پائیں گے۔ کاش اقوامِ متحدہ اس قسم کے بین الاقوامی جھگڑوں میں کوئی مضبوط کردار ادا کر سکتا تو مسئلہ کشمیر کے ایک نہیں کئی حل نکالے جا سکتے تھے۔ محسن شاہ، پاکستان: یہ سوچنا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ شاہدہ پیرزادہ، پلوامہ، کشمیر: بدقسمتی سے آج تک صرف ’اُدھر تم اِدھر ہم‘ کا فارمول ہی کام کرتا رہا ہے ۔آئندہ بھی یہی ہو گا۔ عطاءالقدوس طاہر، ٹورانٹو، کینیڈا: کہاوت ہے کہ دو ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان صرف گھاس کا ہوتا ہے۔ پاکستان اور انڈیا اپنے عوام کے مسائل تو حل کر نہیں سکتے اور لیکن دونوں کو کشمیر کی پڑی ہوئی ہے۔ انا کی اس جنگ میں جیت تو کسی کی نہیں ہو گی مگر دونوں ملکوں میں ہمیشہ کی طرح عوام کی شکست ضرور ہو گی۔ عبدالصمد، اوسلو، ناروے: کشمیر کا مسئلہ اس وقت تک نہیں حل ہو سکتا جب تک پورے جموں اور کشمیر کو مکمل آزادی نہیں مل جـاتی اور یہ کام انڈیا اور پاکستان کے بس کی بات نہیں۔ محمد بھٹی، کاراگنڈا، قازقستان: چونکہ دونوں اطراف سے سیاست بازی ہو رہی ہے اس لیے مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ ریٹا گھسیٹا، انڈیا: جب تک انڈیا ہے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ طاہر مرتضٰی، اسلام آباد، پاکستان: یہ ایک نہایت نازک مسئلہ ہے کیونکہ پوری دنیا کی توجہ اس پر ہے۔ تاہم اگر انڈیا اور پاکستان کی حکومتیں اس سلسلے میں دانشمندی اور جرات سے کام لیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ صدر مشرف اور وزیر اعظم من موہن اس مسئلہ کو حل کر کے یقیناً ایک تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ محسن شریف، الخویر، عمان: زبانِ یار ترکی ومن ترکی نمی دامن۔ جاوید ایوب کشمیری، بیجنگ،چین: انڈیا اور پاکستان کبھی بھی اس مسًلے کا پائدار حل نہیں نکال سکتے کیونکہ کشمیر پران دونوں ممالک نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ کشمیر کی ستر فیصد آبادی خود مختاری چاہتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ مذاکرات مسئلہ کے حل کے لیے نہیں ہو رہے بلکہ یہ کشمیر کو تقسیم کرنے کی ایک سازش ہے۔ جمیل مقصود، برسلز، بلجیم: پاکستان اور انڈیا اس مسئلہ کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تاوقتیکہ یہ دونوں ممالک تمام کشمیروں رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیتے۔ |