BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 March, 2004, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کا حل امن کے لئے کتنا اہم ہے؟
پاکستانی صدر کے بیان کی کیاوجوہات ہیں اور اس کے مضمرات کیا ہوں گے؟
پاکستانی صدر کے بیان کی کیاوجوہات ہیں اور اس کے مضمرات کیا ہوں گے؟
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اعتماد کی بحالی کے جو اقدام ہو رہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے عمل کو بھی معنی خیز انداز میں آگے بڑھنا چاہیے اور مسئلۂ کشمیر حل ہونا چاہیے۔


جنرل مشرف کا یہ بیان اس پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جارہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان نہ صرف حالیہ کرکٹ سیریز کے دوران ایک غیر معمولی گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے بلکہ انڈیا میں ہونے والے انتخابات کے دوران پاکستان سے دوستی بی جے پی کے الیکشن ایجنڈے کا حصہ بھی ہے۔

اس بیان کے پاکستان اور انڈیا کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کیا مضمرات ہوں گے؟ کیا اس بات میں کچھ حقیقت ہے کہ مسئلہِ کشمیر حل کئے بغیر پاکستان کے لئے امن مشن کو جاری رکھنا مشکل ہوجائےگا؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

دوستانہ انداز میں
 اگر ہم امن کو دوسرے مسائل سے مشروط کردیں گے تو دوست نہیں بن سکیں گے۔ اس لئے پہلے دوست بننا ہوگا اور پھر یہ سب مسائل دوستانہ انداز میں حل کرنا ہوں گے۔
النور، لندن

النور، لندن: میرا خیال ہے کہ دوستی کشمیر کے مسئلے سے زیادہ اہم ہے۔ اگر ہم امن کو دوسرے مسائل سے مشروط کردیں گے تو دوست نہیں بن سکیں گے۔ اس لئے پہلے دوست بننا ہوگا اور پھر یہ سب مسائل دوستانہ انداز میں حل کرنا ہوں گے۔

غلب بریالئی، کوئٹہ: جب تک آئی ایس آئی کشمیر میں اپنی مداخلت بند نہیں کرتی، پاک انڈیا تعلقات صحیح نہیں ہوسکتے۔ پاک فوج کو انتہا پسندانہ پالیسی چھوڑنا ہوگی ورنہ ملک کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔

معاویہ عسکری، کراچی: پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے لیے کشمیر بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جب تک بھارت کشمیریوں کو حقِ خودارادیت نہیں دیتا، تب تک امن کا قیام ناممکن ہے۔

کبیر احمد، بیلجیئم: جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، نہ صرف انڈیا اور پاکستان بلکہ پورے جنوب ایشیا میں امن داؤ پر لگا رہے گا۔ مسئلہ کشمیر کا بہترین مستقبل اور پائدار حل انڈیا، پاکستان اور کشمیریوں کے لئے قابلِ عمل حل ہی ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں اپنی افواج وہاں سے واپس بلائیں اور کشمیر کی انیس سو انہتر سے پہلے والی حیثیت یعنی مکمل خودمختاری کو تسلیم کریں۔

احمد نواز، مونٹریال: موجودہ حالات کے مطابق یہ بہت سخت بیان ہے لیکن اس کے علاوہ کویی چارہ بھی نہیں کیونکہ پاکستانی عوام پہلے ہی ایٹمی مسئلے پر صدر صاحب سے بہت ناراض ہیں۔ پھر انتخابات کے بعد بی جے پی کے لئے کشمیر کے مسئلے پر پھر جانا کوئی مسئلہ نہیں، یہ اس کی روایت میں سے ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ: کشمیر، انڈیا، پاکستان اور امن، سب مختلف چیزیں ہیں۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کے بعد انڈیا پاکستان میں امن رہے گا؟ یہ نہیں ہوگا، جس کے ہاتھ سے کشمیر جائے گا وہ دوسرے کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گا۔

جنت
 اسے حل کرتے کرتے آدھا پاکستان تو حل ہوچکا، ڈر ہے کہ باقی ماندہ بھی حل نہ ہوجائے اور ’شہ رگ‘ پھر بھی قائم رہے۔ بھارتی فوجیوں کو آبرو ریزی کے لئے کشمیر کی جنت ملی ہوئی ہے اور جہادیوں کا ان کی نظریاتی جنت میں حوریں انتظار کر رہی ہیں۔
تلاوت بخاری، پاکستان

تلاوت بخاری، پاکستان: مسئلہ کشمیر ایک انتہائی گھناؤنا اور بہیمانہ کھیل ہے۔ اسے حل کرتے کرتے آدھا پاکستان تو حل ہوچکا، ڈر ہے کہ باقی ماندہ بھی حل نہ ہوجائے اور ’شہ رگ‘ پھر بھی قائم رہے۔ اسانی بہیمیت کا بازار گرم ہے، بھارتی فوجیوں کو آبرو ریزی کے لئے کشمیر کی جنت ملی ہوئی ہے اور جہادیوں کا ان کی نظریاتی جنت میں حوریں انتظار کر رہی ہیں۔ رہی پاک فوج تو اس کے لیے تو پاکستان ہی کشمیر بنا ہوا ہے۔

محمد رفیق، راوالپنڈی: کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان بلاشبہ بنیادی مسئلہ ہے اور اس کا پرامن دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات معمول پر لاسکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا ہوگی اور اس پر خاموشی اختیار کرنا بالآخر زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگا کیونکہ یہ مسئلہ بار بار اٹھتا ہی رہے گا۔ دونوں کے مفاد میں یہی ہے کہ اسے حل کریں اور غربت، پسماندگی اور عدم تحفظ جیسے مسئلوں کی طرف توجہ دیں۔ موجودہ حالات میں صدر کا بیان اعتماد کی جو فضاء بن رہی ہے، اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے بہرحال کیئ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پاکستان نے اپنے پچھلے موقف سے پسپا ہوکر ایک نیا قدم اٹھایا ہے جب کہ انڈیا اندرونی طور پر اپنے عوام کو باور کروا رہا ہے کہ اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان کے نئے اقدامات سے کشمیری خاص طور پر آزادی کی جدوجہد کرنے والے خفا دکھائی دیتے ہیں کہ اس طرح انڈیا انہیں دبانے کے لئے وقت حاصل کرنا چاہتا ہے جو اگر حقیقت ہے تو انڈیا مستقبل میں اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پھر حزبِ اختلاف بھی اس پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔

لطیف آصف ججہ، ٹورنٹو: دونوں ممالک اس وقت تعلقات کے ایک نئے دوراہے پر آگئے ہیں اگر انہوں نے اب بھی فائدہ نہ اٹھایا تو ان کے لئے برا ہوگا۔

راحیل سرور، ملتان: تعلقات صرف بس چلانے اور کرکٹ کھیلنے سے معمول پر نہیں آسکتے جب کہ انڈیا نے کشمیر کے مسئلے پر کوئی بات نہیں کی۔ کاش کہ انڈیا کے رہما بھی اس مسئلے پر مشرف کی طرح سنجیدہ ہو جائیں۔

شاہدہ اکرام، ابوظہبی: ہملوگ ہمیشہ صرف ایک دوسرے کو الزام ہی دیتے رہے ہیں۔ تھوڑا بہت رسک تو لینا ہی پڑتا ہے۔ اللہ کرے کوئی ایسی صورت نکل آئے اور مسئلہ کشمیر حل ہوجائے اور برسوں پر محیط خون خرابہ بند ہو۔ باقی یہ مسئلہ صرف کرکٹ کے میچ کروا کے حل نہیں ہوسکتا، کچھ قدم اور بھی آگے جانا ہوگا

عتیق الرحمٰن، لندن: سب ٹوپی ڈرامہ ہے بھئی۔۔۔

اشرف خان، پاکستان: یہ ایک حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔

خوش آئند اقدام
 مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کے بغیر امن کا عمل بےکار ہے اور ان کا یہ اقدام خوش آئند ہے
فہد احمد، کراچی

فہد احمد، کراچی: صدر جنرل پرویز مشرف نے پہلی مرتبہ واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کے بغیر امن کا عمل بےکار ہے اور ان کا یہ اقدام خوش آئند ہے کیونکہ حزب اختلاف یہ پروپیگنڈہ کر رہی ہے کہ کشمیر پر سودے بازی ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں جناب صدر نے یہ بیان اپنی پوزیشن کو واضح کرنے کے لئے دیا ہے۔

شمس الاسلام، ٹوکیو: میرے خیال میں اگر پاکستان کشمیر کی بات چھوڑ دے تو پاکستان اور انڈیا کی دوستی چلے گی۔ میرے خیال میں کشمیر کا حل ممکن ہے۔

نعیم کیانی، کینیڈا: قیام امن کی باتیں کرنا اور انصاف کی بنیاد پر انہیں لاگو کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ بھارتی سیاستدان انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات کے تناظر میں یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی شرائط کے تحت پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ دوسری جانب مشرف حکومت اس دوران اپنی پالیسیوں سے خاطر خواہ کامیابی ظاہر نہیں کر سکی جو از خود ایک کمزوری ہے۔

حسن سید، برطانیہ: مسئلہ کشمیر کا حل برصغیر میں قیام امن کی کنجی ہے۔ ہم باہمی اعتماد بڑھانے کے نام پر خود کو ایک طویل عرصے سے دھوکا دیتے آئے ہیں کیونکہ باہمی اعتماد کی کمی کی وجہ سے تین جنگیں نیں ہوئیں بلکہ ان کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہی تھی۔

احمد خان، امریکہ: سوال یہ ہے کہ دنیا کب تک مسئلہ کشمیر کے حل سے گریز کرے گی۔ میرے خیال میں اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو انڈیا اور پاکستان اصل میں دوست بن سکتے ہیں۔

محمد صاقب احمد، انڈیا: صدر مشرف کسی صورت قابل اعتبار شخص نہیں ہیں اور ان کی ہر بات سازش اور چال پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ کشمیر میں ہزاروں لوگوں کے قاتل ہیں۔ وہ کشمیریوں میں اپنی ساکھ دوبارہ بحال کر کے بےگناہ لوگوں کو ایک بار پھر مروانا چاہتے ہیں۔ مشرف اور واجپئی کی کرگل سے لے کر بھارت کے حالیہ انتخابات تک یہ مشترکہ سازش ہے اور یہ دونوں ہی ویلن ہیں۔ انہوں نے اپنے اقتدار برقرار رکھنے کے لئے دنیا کو امن کی خواب آور دوا کھلا رکھی ہے۔

طاقت کے بل پر
 فوج نے کئی بار طاقت کے بل بوتے پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اسے ہر بار ناکامی کا بری طرح سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس لئے اب فوج کو اپنا منہ بند رکھنا چاہئے
حامد احمد، جرمنی

حامد احمد، جرمنی: پاکستانی فوج نے کئی بار طاقت کے بل بوتے پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اسے ہر بار ناکامی کا بری طرح سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس لئے اب فوج کو اپنا منہ بند رکھنا چاہئے اور سیاستدانوں کو یہ مسئلہ حل کرنے دینا چاہئے۔

کاشف ضیاء قریشی، نواب شاہ: یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر دوطرفہ مذاکرات کو قبول نہیں کریں گے۔ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس مسئلے کو انڈیا کی طرف سے فوج کشی کے باعث خراب کیا گیا ہے اور بھارتی فوج نے لاکھوں افراد کو قتل کیا ہے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد