BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 March, 2004, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی: دفترِ خارجہ
News image
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے صدر نے کشمیر مذاکرات کے حوالے سے نہ تو کوئی ڈیڈ لائن دی ہے اور نہ ہی ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جن سے یہ مطلب نکلتا ہو کہ معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر نے کہا کہ اعتماد کی بحالی کے جو اقدام ہو رہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے عمل کو بھی معنی خیز انداز میں آگے بڑھنا چاہیے اور مسئلۂ کشمیر حل ہونا چاہیے۔

مسعود خان کا کہنا تھا کہ ان کے ( یعنی صدر جنرل مشرف کے ) خیالات کی وہ توجیہ یا تشریح درست نہیں جو اخبارات یا بعض ذرائع ابلاع نے کی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اس کی بھی تردید کی کہ صدر جنرل مشرف نے ’آئی ایم ناٹ پارٹی ٹو اٹ‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے ’آئی ایم ناٹ ان دی پراسس‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔

اس سوال کے جواب میں کہ بی جے پی انتخابات کے حوالے سے جاری کیے گئے منشور میں کشمیر کے بارے میں یہ کہہ رہی ہے کہ کشمیر پر بات ہو گی مگر اس کشمیر پر جو پاکستان کے زیر انتظام یا زیرقبضہ ہے، پاکستانی ترجمان نے کہا کہ: ’یہ کہنا حقائق کے منافی ہو گا، کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مسئلۂ کشمیر ہے اور اسےحل ہونا ہے اور پچھلے دونوں مسٹر واجپئی نے خود کہا ہے کہ ’مسئلہ کشمیر صرف بات چیت کےذریعے حل ہو سکتا ہے۔‘

اسلام آباد سے صحافی احتشام الحق نے بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ صدر جنرل مشرف نے آرمی ہاؤس میں پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام نیوز نائٹ کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں کچھ دانشوروں، صحافیوں اور سابق سفیروں کے سامنے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے معاملے یا مسئلہ کشمیر پر جولائی، اگست کے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی تو معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔

احتشام الحق نے انٹرویو کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مشرف نے حاضرین سے کہا کہ وہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی قیادت، امریکہ اور مغربی ممالک کو بتا دیا ہے کہ اگر امن مِشن آگے نہیں بڑھتا اور جولائی اگست کے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر پر کوئی بات نہیں ہوتی تو ان کے لئے اس کارروائی میں فریق بننا اور پاکستان کے لئے اس مِشن کو آگے بڑھانا مشکل ہو جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد