کشمیریوں کو ملانے کا راستہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کی دنیا میں جہاں سیاسی، مذہبی، نسلی اور دیگر وجوہات کی بنا پر عوام تقسیم ہوکر رہ گئے ہیں، لائن آف کنٹرول کے پار بسنے والے کشمیری خاندان بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان عشروں سے جاری کشیدگی کے باعث اپنوں سے نہیں مل پارہے ہیں۔ اس خلاء کو پُر کرنے کی بی بی سی کی انٹریکٹِو کوششوں کے نتیجے میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر وڈیو کانفرنس کے ذریعے ایسے ہی کچھ بچھڑے ہوئے کشمیری خاندانوں کے درمیان ملاقات کرائی جارہی ہے۔ یہ وڈیو کانفرنس بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر اکیس، بائیس اور تئیس جون کو ویب کاسٹ کی جارہی ہے۔ اس ویب ملاقات میں حصہ لینے والوں سے آپ سوالات پوچھ سکتے ہیں۔ سوالات پوچھنے سے پہلے ان کشمیری خاندانوں کی تفصیل پڑھنے کے لئے اس لِنک پر کلِک کریں: تجویز کریں کہ کشمیریوں کو کیسے ملایا جاسکتا ہے؟ کیا آپ کا خاندان بھی کشمیر کے دوسرے حصے میں ہے؟ کیا آپ بھی کشمیری ہیں اور اپنوں سے لائن آف کنٹرول کی وجہ سے نہیں مل پارہے؟ آپ اپنی کہانی ہمیں لکھ کر بھیجیں۔ ہمارا ای۔میل کا پتہ ہے: urdu@bbc.co.uk کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے ہمیں آپ کے ای۔میل نہیں موصول ہورہے تھے۔ اب یہ مسئلہ صحیح ہوگیا ہے۔ آپ اپنی رائے بھیجیں۔ اب آپ کی رائے شائع کرنے میں تاخیر نہیں ہوگی۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں مقصود حسین، کینڈا میرے خیال میں اس مسّلے کا حل اتنا مشکل نہیں۔ کشمیر کے لوگوں پر چھوڑ دیں کہ وہ اپنے لیے کیا چاہتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ان کے فیصلے کا احترام کر نا ہوگا محمد عبدالرحمن چودھری، کوٹلی، پاکستان: آصف جاجا، ٹورنٹو، کینڈا محمد اقبال، راولپنڈی، پاکستان جاوید جمال الدین، ممبئی، بھارت وسیم شیخ، کراچی، پاکستان: یہ ایک اچھی کوشش ہے، اس طرح کا کام ہوتے رہنا چاہئے۔ سریر خالد، سری نگر، کشمیر: یہ ایک بہت اچھی اور انسانیت پسندانہ کوشش تھی جس میں ناممکن کو ممکن کر دکھایا گیا۔ آپ کو اس کوشش کو جاری رکھنا چاہئے۔ اس طرح کی کوششیں دوسروں کو بھی کرنی چاہئیں۔ پھر کشمیر کے مسئلے اور اس کے جلد از جلد حل کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میں ایک صحافی ہوں اور میں نے یہاں کے ایک مقامی اخبار میں اس پر لکھا ہے۔ میں نے اس میں حصہ لینے والے خاندانوں سے بات بھی کی، وہ بہت خوش ہیں۔
عابد عزیز، ملتان، پاکستان: ہم ان کے جذبات نہیں محسوس کر سکتے لیکن بی بی سی نے ایک بہت اہم قدم اٹھایا ہے۔ مجاہد، جھنگ، پاکستان: ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کو آزادی ملے۔ شوکت مقبول لون، اننت ناگ، کشمیر: بی بی سی کی طرف سے اس ویڈیو کانفرنس کا انعقاد بہت اچھی کوشش ہے۔ یاسر بٹ، مظفرآباد: آدھی صدی سے زیادہ گزر گئی کشمیریوں کو مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے، سمجھ نہیں آتا کہ بی بی سی کو اچانک کشمیریوں کا اتنا درد کیوں محسوس ہوا ہے۔ اگر بی بی سی کو کشمیریوں کو اتنا ہی درد ہے تو وہ ان لوگوں کی کہانیاں بھی سامنے لائیں جو انیس سو انانوے کے بعد بھارتی مظالم کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے۔ مگر مجھے پتہ ہے کہ بی بی سی ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ بی بی سی کے لئے بھارتی مظالم کو سامنے لانا ذرا مشکل کام ہے۔ افضال، جرمنی: میری پیدائش بارامولہ میں ہوئی تھی جہاں سے بھارتی فوجوں کی دہشت گردی کی وجہ سے میری فیملی نے پاکستان کا سفر کیا۔ ابھی بھی میرے چاچی اور چاچی وہاں ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں ان سے کبھی بھی مل پاؤں گا یا نہیں۔ رضوان، اوہائیو، امریکہ: جب سے لڑائی شروع ہوئی، میرے دادا نے اپنے بچوں اور پوتوں کو نہیں دیکھا ہے جو بورڈر کے پار پاکستان میں مظفرآباد اور کوٹلہ میں رہتے ہیں۔ چودہ سال کی لڑائی میں کس نے کیا جیت لیا؟ ڈاکٹر اعجاز راشد، سرینگر: میری دادی کے بھائی پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ساٹھ کے عشرے تک اس سے رابطے میں تھے، خطوں کے ذریعے جو تیس برسوں تک جاری رہے۔ اب ان کا کوئی پتہ نہیں، کوئی خبر نہیں ہے۔ انہیں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے کبھی ویزہ نہیں دیا گیا۔ ظاہر ڈار، انگلینڈ: میری فیملی ڈیڑھ سو سال موت سے بچنے کے لئے کشمیر سے نکل گئی۔ میر عمر سڑسٹھ سال ہے۔ میں نے اپنا ملک کبھی نہیں دیکھا ہے اور اپنے رشتہ داروں سے کوئی رابطہ نہیں۔ امید کرتا ہوں کہ انڈیا اور پاکستان مذہب کی تفریق ختم کرکے کشمیر کے بارے میں کوئی پرامن سمجھوتہ کرینگے تاکہ صدیوں پرانی اس ناخوشی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انتخاب زیدی، لیوٹن، یو کے: میری 80 فیصد فیملی پاکستانی خطے میں اور بیس فیصد انڈین خطے میں، میری فیملی کے تین افراد مارے گئے اس وقت جب وہ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے سفر کررہے تھے۔ غزنفر علی، برمنگھم: کشمیر کے لوگوں کی بہت سزا ہوچکی ۔ انہیں ہمیشہ ایک ایسے ماحول میں رہنا پڑتا ہے جس میں موت ان کے سرپر ہوتی ہے۔ اگر انڈیا اور پاکستان کی حکومتیوں اس خطے میں امن پر اتفاق کرلیں تو اسرائیلی اور فلسطینیوں کے لئے بھی یہ ایک اچھی علامت ہوگی اور یہ ثابت ہوجائے گا کہ دولوگ ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔
حسین منصور، حیدرآباد سندھ: کشمیری لوگوں کے پرابلم کا واحد حل وہاں کے لوگوں کو اپنی مرضی سے رہنے کی اجازت دینے پر ہے لیکن پاکستان اور بھارت یہ بات قبول نہیں کرسکتے۔ اس لئے یہ دونوں ممالک جن کی ڈیفنس بجٹ کشمیر کے نام پر بنتی ہے اور دونوں ممالک کی فوج کے انٹیریسٹ کشمیر ایشو پر ہوتے ہیں، وہ کبھی بھی اس پرابلم کو حل کرنے کی کوشش نہیں کرینگے، نہ ہی اس مسئلے کو کسی انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر پیش کرینگے کیونکہ دنوں ممالک فوج کے انڈرپریشر ہیں۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: کل اپنی آراء بھیجی تھی لیکن آج جب آپ کی طرف سے معذرت آئی ہے تو دوبارہ لکھ رہی ہوں۔ لگتا ہے بی بی سی والوں نے نیکی کمانے کا ٹھیکہ لیا ہے، کتنی دعائیں ملی ہونگی نہ آپ کو، کتنے عرصے سے بچھڑے ہوئے ان کے پیاروں سے بات کروا کے، مجھے آپ کے اس اقدام سے بہت خوشی ہوئی۔ میں تو نہیں میری امی کشمیری تھیں اور میرے شوہر بھی ہیں۔ لیکن تقسیم کے وقت ہی سب پاکستان آگئے تھے۔ کوئی بھی اس طرف نہیں ہے لیکن جذبات تو سب کے ہوتے ہیں نہ۔ رات کو عابدہ مقصود کی اپنی فیملی سے بات چیت دیکھی اور سنی، ان کے آنسو دیکھ کر خود اپنے آنسو روکنا بھی مشکل ہورہا تھا۔ کتنے دکھ کی بات ہے نہ وہ سب اپنے پیاروں سے اتنے وقت سے دور ہیں۔ ایک دوسرے کی صورتیں دیکھ کر کیا ہورہا ہوگا ان کو۔ یہ سوچا ہی نہیں جارہا۔۔۔۔ عبدالاحد سجاد: پہلے تو میں بی بی سی کے عملے کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے یہ کارخیر شروع کیا ہے۔ آپ ان کی ملاقاتیں کراتے رہیں گے۔ آپ یہ بات ان بےچارے ہوئے خاندانوں سے پوچھئے کہ جنہوں نے سولہ سالوں سے اپنے بہن بھائیوں کو نہیں دیکھا ہے۔ بس ہماری یہی رائے ہے۔ عدنان ڈار، خیرپور: میں نے عابدہ مسعود کا لائیو چیٹ سنا اور جذبات ابھر آئے۔ مجھے وہ دن بھی یاد آیا جب میں اپنے پاپا کے ساتھ بھارتی کشمیر کے دورے پر گیا تھا۔ ہم نے وہاں تین ماہ گزارے۔ میرے پاپا نے پچپن سال کے بعد اپنے مدرلینڈ کا دورہ کیا۔ جب وہ پاکستان میں تھے تو ان کے والدین چل بسے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے گھروالوں نے ہمارا پرجوش خیرمقدم کیا تھا۔ اب ہم خیرپور سندھ میں رہتے ہیں۔ اس ویب چیٹ کا پرِنٹ میں نے لیا ہے اور پاپا کو دکھاؤں گا۔ حامد احمد چودھری، فرینکفرٹ: کشمیری خاندانوں کو ملانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ پورے جموں اور کشمیر کو خودمختار بنادیا جائے یا پھر آپ کشمیر ایشو کے بارے میں بھول جائیں اور انڈیا اور پاکستان کے درمیان کمپلیٹ نارمل ہمسایہ جیسے تعلقات قائم کریں۔ اس طرح صرف منقسم خاندان ہی نہیں، بلکہ برصغیر میں جو بھی بچھڑے ہوئے خاندان ہیں وہ آزادانہ طور پر ملاقات کرسکیں۔ اسد حسن، انگلینڈ: میری فیملی بٹوارے کا شکار رہی ہے اور لائن آف کنٹرول کے پار ہزاروں لوگوں کی طرح مجبوری میں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور رہی ہے اور اب دوسری جانب رفیوجی کی زندگی گزار رہی ہے۔ میری ماں جس نے اپنا بچپن پونچھ میں گزارا تھا، وہاں جانا چاہتی تھی اور پھر سے اپنا گھر دیکھنا چاہتی تھی۔ جب وہ مرنے کے قریب تھی اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں وہاں جاؤں اور ان مقامات کو دیکھوں جہاں وہ پھر سے نہ جاسکی۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے ایسا موقع ملے گا یا نہیں۔ دونوں جانب کے کشمیریوں کو اس بات کی اجازت ہونی چاہئے کہ وہ سرحد پار جائیں، بلا روک ٹوک کے، اور ایسے لوگوں کے لئے صرف ایک ریاستی سرٹیفیکٹ کافی ہونی چاہئے جس پر وہ سفر کرسکیں۔ یاسر، میرپور: یہ ویب کاسٹ انڈیا کے لئے سب سے بڑا دھچکا ہے۔ انڈیا نے رائے شماری کے لئے کشمیریوں کے حق پر قبضہ کرلیا ہے۔ پچاس سال سے زائد گزر گئے۔ لیکن کشمیری انڈیا سے حقیقی آزادی چاہتے ہیں۔ سلمان اختر، مانچسٹر: بی بی سی کی یہ ایک بہت نیک کوشش ہے۔ دعا ہے کہ انڈیا اور پاکستان دانشمندی سے فیصلہ کرتے ہوئے کشمیر کو خودمختار بنادیں اور اس کو اس کے حل پر چھوڑ دیں۔ دیورِ برلن اگر گرسکتی ہے تو کشمیر کیوں نہیں اکٹھا ہوسکتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||