جس سڑک پر بس چلے گی۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے وزراء خارجہ نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس کے دوران مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گزشتہ دسمبر میں میں نے اس سڑک پر سفر کیا جس پر یہ بس سروس چلے گی۔ میں نے جب مظفر آباد سے اس سڑک پر سفر شروع کیا تو سب سے پہلے میری نظر اس سائن بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا کہ سرینگر مظفرآباد سے 183 کلومیڑ کے فاصلے پر ہے۔ 183 کلو میڑ لمبی یہ سڑک جو دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے کشمیر کے اس علاقے کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملاتی ہے۔اس سڑک کو آج بھی سرینگر۔ راولپنڈی روڈ کہا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ نصف صدی سے کوئی بھی گاڑی اس سڑک کے ذریعے سرینگر نہیں گئی۔ یہ سڑک کشمیر پر ہندو ڈوگرہ حکمرانی کے دور میں اٹھارویں صدی کے آخر میں تعمیر کی گئی تھی۔ سرینگر اور راولپنڈی کے درمیان سن 1947 میں اس وقت آمد و رفت بند ہوگئی تھی جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر پہلی جنگ ہوئی۔ اس سے قبل کشمیر کو برصغیر کے ساتھ ملانے والی یہ واحد سڑک تھی جو پورا سال آمد ورفت کے لیے کھلی رہتی تھی۔ میں اس سڑک پر چھوٹے سے قصبے چناری کے مقام پر تھوڑی دیر کے لیے رکا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں سرینگر سے راولپنڈی تک کا سفر پورے ایک دن کا ہوتا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’ہم صبح سرینگر سے نکلتے تھے اور مختلف شہروں اور قصبوں پٹن، بارہ مولہ ، اوڑی ، چکوٹھی ، چناری ، مظفرآباد ، مری سے ہوتے ہوئے شام کو راولپنڈی پہنچ جاتے تھے‘۔ میں مختلف قصبوں سے ہوتا ہوا مظفرآباد سے ساٹھ کلومیڑ کے فاصلے پر چکوٹھی بازار پہنچا۔ چکوٹھی آخری سرحدی قصبہ ہے اور یہاں سے لائن آف کنڑول دو کلو میڑ کے فاصلے پر ہے جبکہ سرینگر 124 کلو میڑ کے فاصلے پر۔ اگر 7 اپریل سے مظرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس شروع ہوگئی تو وہ بس نصف صدی بعد اسی قصبے سے گزر کر جائے گی۔
اس بازار میں میری ملاقات چکوٹھی کے 37 سالہ محمد شبیر عباسی سے ہوئی۔ عباسی کے عزیز اقارب اس قصبے سے چند کلومیڑ کے فاصلے پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گوالتا نامی ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ عباسی کے والد سن انیس سو سنتالیس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے کشمیر کے اس علاقے میں آئے اور چکوٹھی میں آباد ہوئے۔ ’شبیر نے لائن آف کنڑول کے اس پار اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس گاؤں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں جہاں انکے عزیز اقارب آباد ہیں لیکن وہ گزشتہ نصف صدی سے اپنے پیاروں سے نہیں مل سکے ہیں۔ چکوٹھی قصبہ سے لائن آف کنڑول تک تین کلومیڑ کا فاصلہ ہے اور لائن آف کنڑول کی طرف سفر کے دوران میں نے دیکھا کہ دو کلومیڑ روڈ پر مرمت کا کام بھی جاری ہے کیونکہ روڈ کا یہ حصہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر ہونے والی گولہ باری کے باعث بند تھا اور یہ گزشتہ سال نومبر میں اس وقت کھول دیا گیا جب لائن آف کنڑول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان فائر بندی ہوئی۔
دو کلومیڑ کا سفر طے کرنے کے بعد میرے ڈرائیور نے یہ کہہ کر گاڑی لائن آف کنڑول سے ایک کلومیڑ پیچھے روک دی کے آگے سڑک نہیں ہے اور اس سے آگے بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔ مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس شروع کرنے سے پہلے یہاں سے ایک کلومیڑ کے فاصلے پر دونوں کشمیر کو ملانے والے پرانے اور خستہ حال پل کی جگہ نیا پل تعمیر کرنا ہوگا اور دونوں طرف بارودی سرنگیں صاف کرنا ہوں گی۔ میں یہاں گاڑی سے نیچے اترا ہی تھا کہ میری ملاقات پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ شاہرات کے سب ڈویثرنل آفیسر شوکت علی گیلانی سے ہوئی۔ گیلانی اس سڑک پر مرمت کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آگے لائن آف کنڑول تک ایک کلو میڑ کے فاصلے پر کوئی سڑک موجود نہیں ہے اور ایک کلومیڑ نئی سڑک بنانا پڑے گی۔ انھوں نے سامنے چند سو فٹ کے فاصلے پر سرخ نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نو گو ایریا ہے۔ اس کے آگے بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں اور یہاں پاکستانی فوج کے بنکرز بھی ہیں اور یہ علاقہ پاکستان کی فوج کے کنڑول میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہ یہ ایک کلومیڑ سڑک اسی وقت بن سکتی ہے جب یہاں سے بارودی سرنگیں صاف ہوں گی اور بنکرز ہٹائے جائیں گے۔ انھوں نے کہا جب بھی ایسا ہوگا اور ہمیں سڑک تعمیر کرنے کا کہا جائے گا تو ہم کسی تاخیر کے بغیر کام شروع کریں گے۔ جہاں تک پل کا سوال ہے یہ ایک نالے پر واقع ہے اس پل کا نصف حصہ پاکستان اور نصف بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہے اور جس نالے پر یہ پل ہے وہ اس علاقے میں لائن آف کنڑول بناتا ہے۔ شوکت علی گیلانی کا کہنا ہے یہ ابھی طے نہیں ہے کہ یہ پل ہندوستان بنائے گا یا پاکستان یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بنانے کے کے لیے کہا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بس سروس شروع کرنے کے لیے عارضی طور پر نالے میں سے سڑک بنا کر بس گزاری جا سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||