کشمیر بس سروس مزاکرات ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری نگر سے مظفر آباد تک بس سروس کی بحالی کے لئے دو روزہ پاک بھارت مجوزہ مذاکرات جو آٹھ اپریل کو شروع ہونے تھے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیے گئے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے مذاکرات ملتوی کیے گئے ہیں تاہم اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات کی آئندہ تاریخ دونوں ممالک سفارتی سطح پر طے کریں گے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقعہ ہے کہ کشمیر کے درمیان بس سروس کی بحالی کے مذاکرات ملتوی ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات سے محض ایک روز قبل پاکستان کے دفتر خارجہ کے قائم مقام ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مذاکرات کے انتظامات مکمل ہیں اور بھارتی وفد بدھ سات اپریل کی شام پہنچ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن پر چکوٹھی کے مقام سے بس چلانے پر مزاکرات ہونا تھے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان بننے سے قبل اس مقام سے تولوگ آتے جاتے تھے ہی‘ لیکن بٹوارے کے بعد بھی سن انیس سو تریپن تک پیدل لوگ آیا جایا کرتے تھے۔ سفری دستاویزات کے طور پر دونوں جانب کی کشمیری ریاستوں کے حکام راہداری جاری کرتے تھے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد سے سری نگر تک سڑک تو موجود ہے لیکن اس کی مرمت کرنی پڑے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے شہر کھوکھرا پار سے منا باؤ تک بس سروس شروع کرنے کے لئے بھی گزشتہ ماہ کے آخر میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیاں مذاکرات ہوئے تھے تاہم کوئی واضح فیصلہ نہ ہو سکا تھا لیکن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ پاکستان نے پیر پانچ اپریل کو جوہری اور میزائیل پروگرام کے متعلق اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے لئے مذاکرات کے سلسلے میں ماہرین کی سطح پر پچیس مئی کی تاریخ تجویز کی تھی جس کا جواب ابھی تک بھارتی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||