جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی ریلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایک سیاسی جماعت نے اتوار کے روز اسلام آباد سے ریلی نکالی جو 23 مارچ کو لاہور میں مینار پاکستان پر ختم ہوگی۔ اس سال جنوری میں ہونے والے پاک بھارت مذاکرات کے بعد پاکستان کے کشمیریوں کی یہ اپنی نوعیت کی پہلی ریلی تھی۔ جموں کشمیر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے نکالی گئی یہ ریلی دوپہر کو آبپارہ سے لاہور روانہ ہوئی جس کا مقصد پاکستانی حکام پر دباؤ ڈالنا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کی رائے کو شامل کیا جائے۔ روانگی سے قبل بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم نے صدر جنرل پرویز مشرف پر الزام عائد کرتے ہو ئے کہا کہ وہ کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر موقف اختیار کر رہے ہیں اور وہ جنرل مشرف پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کشمیریوں پر کوئی فیصلہ مسلط کیا گیا تو وہ ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ ریلی میں متعدد لوگ شریک تھے جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جبکہ شرکا کے سروں اور بازؤں پر سرخ پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور وہ چنار کے پتے کے نشان والے سرخ پرچم بھی لہرا رہے تھے۔ جموں کشمیر پیپلز پارٹی خود کو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا فکری پیروکار تو کہتی ہے لیکن بینظیر بھٹو کو سیاسی رہنما نہیں مانتی۔ سردار خالد ابراہیم نے ایک سوال پر بتایا کہ 23 مارچ 1940 کو لاہور میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کاعہد کیا تھاجس سے پاکستان کے موجودہ حکمران پیچھے ہٹ رہے ہیں اور انہوں نےپاکستانی قوم کو وہ وعدہ یاد دلانے کیلئے ریلی نکالی ہے۔ واضح رہے کہ پاک بھارت مذاکرات کے آغاز میں ہی حکومت پاکستان نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ کشمیر پر ایسا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی جو کشمیریوں کیلئے قابل قبول نہ ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||