یوم کشمیر: پاکستان حکومت لاتعلق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس بار پاکستان میں یوم کشمیر ذرا مختلف انداز میں منایا گیا۔ اور یوم کشمیر پر حکومت کے زیر اہتمام کوئی جلوس نہیں نکالا گیا۔ تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) نے مسلم لیگ ہاؤس لاہور میں ایک جلسہ کیا۔ دوسری طرف، مسئلہ کشمیر پر پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں تو حکومت کے اقدامات پر سخت تشویش کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے شہروں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی جلوس نکالا۔ انیس سو نواسی میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کی تحریک شروع ہوئی اور انیس سو نوے سے پاکستان میں یوم کشمیر باقاعدہ سرکاری طور پر منایا جارہا ہے۔ اس روز پاکستان میں سرکاری دفاتر اور کاروباری ادارے بند رکھے جاتے ہیں اور سیاسی جماعتیں کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے جلوس نکالتی ہیں۔ آج جنرل مشرف نے کشمیر کے معاملہ پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پارلیمان سے خطاب کے موقع پر خاصی وضاحتیں پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر کوئی سودے بازی نہیں کررہے اور یہ کہ اس سال کشمیر پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا یعنی اس تنازعہ کا کوئی حل نکل آئے گا۔ آج وزیراعظم جمالی نے بھی وفاقی کابینہ کہ اجلاس میں ایسی ہی باتیں کی ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اس مسئلہ کا حل چاہتے ہیں اور جب بھی بات چیت کا عمل شرو ع ہوگا کشمیری عوام اس میں بنیادی فریق ہوں گے۔ تاہم حزب اختلاف صدر مشرف اور حکومتی بیانات کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور سمجھتی ہے کہ صدر مشرف اس معاملہ پر پاکستان کے دیرینہ موقف سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرنے جارہے ہیں۔ صدر مشرف اور وزیراعظم واجپائی کے اسلام آباد کے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسےدائیں بازو کی جماعتیں حکومت کی طرف سے کشمیر کی عسکریت پسند تنظیموں ، جنھیں پاکستان میں کشمیر کی جہادی تنظیمیں کہا جاتا ہے، کی بیخ کنی پر معمول کررہی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) اور جماعت اسلامی حکومت پر کشمیر کے معاملہ پر سودے بازی کے الزامات لگا ہی رہی ہیں لیکن آج پیپلز پارٹی کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے بھی حکومت پر کشمیر کی تقسیم کی طرف بڑھنے کا الزام لگایا ہے۔ آج لاہور میں اے آر ڈی نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے وہ موجودہ فوجی حکمرانوں کی کشمیر کی سودے بازی کرنے کی خواہش پوری نہیں کرنے دیں گے۔ اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کرتنازعہ کا حل تلاش کرنے کی پیشکش کر کے مسئلہ کی بنیاد ہی منہدم کردی ہے اور عملا خود ارادیت کی نفی کرکے اسے دو فریقوں کے درمیان زمینی تنازعہ کی شکل دے دی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ جو کچھ کشمیر پر ہورہا ہے اس پر انھیں تشویش ہے اور تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر جو کہ پاکستان کی شہ رگ ہے اسے تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی جس کے آثار نظر آرہے ہیں تو یہ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں تشویشناک ہو گا۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اپنے مختلف جلسوں میں اعلان کیا ہےکہ وہ کشمیر پر جنرل مشرف کو سودے بازی کی اجازت نہیں دیں گے۔ قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں ایک ریلی میں کہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے مذاکرات میں کشمیریوں کی شرکت کے بغیر اس تنازعہ کا پائیدار حل نہیں نکل سکتا اور جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ایٹمی سائنسدانوں کی تفتیش کے مسئلہ پر جنرل مشرف کی حکومت پہلے ہی عوامی دباؤ میں ہے جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی معافی کے فیصلہ کے بعد کچھ کمی آنے کا امکان ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آج حزب مخالف کو حکومت کی سرزنش کے لیے یوم کشمیر ہاتھ آگیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||