BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 February, 2004, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت مذاکرات: توقعات امیدیں اور حقائق
کشمیر
پاکستان اور بھارت تین سال کی انتہائی کشیدگی کے بعد پیر سے ایک بار پھر اپنے مسائل کو پر امن طور پر حل کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر اکھٹے ہورہے ہیں۔

سیکیرٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والے ان مذاکرات کو مبصرین ایک طویل اور پر پیچ سلسلے کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔

ماضی میں متعدد بار دونوں مملک پرامن طریقے سے اپنے مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کے بعد ایک دوسرے کو مورد الزام قرار دیتے رہے ہیں۔

تین سال قبل جوہری صلاحیت رکھنے والے ان ملکوں کے رہنما باہمی مسائل حل کرنے کی کوشش میں بھارت کے شہر آگرہ میں جمع ہوئے تھے۔ لیکن آگرہ میں ناکامی کے بعد اعصاب شکن کشیدگی کے بعد ایک مرتبہ پھر مذاکرات کرنے پر آمادہ ہیں۔

News image
جنگ کا راستہ بند کرنے اور امن قائم کرنے کی ایک اور کوشش

سن دو ہزار ایک سے پہلے بھی انیس سو اٹھانوے میں ان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے لیکن بعد میں ایٹمی تجربات اور باہمی بد اعتمادی کی وجہ یہ مذاکرات بھی ناکام رہے۔

گو اس دفعہ مذاکرات کے کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے کے امکانات بہت روش ہیں لیکن پھر بھی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں اعلٰی سول افسران ابتدا میں ان تمام تفصیلات کو طے کریں گے جن پر آئندہ ہونے والے اجلاسوں میں نشاندھی کئے گئے آٹھ مسائل پر گفتگو ہوگی۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر اور خارجہ امور کے ماہر سی جگموہن

نے پیر کو شروع ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ یہ مذاکرات اصل میں مذاکرات کرنے کے لیے کئے جا رہے ہیں۔

News image
مسائل حل کرنے کا یہ اہم موقع ہے

انہوں نے کہا کہ ان میں اصل مسائل پر گفتگو نہیں ہو گی بلکہ وہ طریقۂ کار طے کیا جائے گا جس کے تحت اصل مسائل پر آئندہ ہونے والے مذاکرات میں بات چیت ہوگی۔

پاکستان میں سابق بھارتی سفارت کار جی پارتھا سارتی نے کہا در حقیقت یہ مذاکرات انتہائی ابتدائی نوعیت کے ہیں اور اس میں وہ طریقۂ کار طے کریں گے۔

ان مذاکرات کی اہم بات یہی ہے کہ بھارتی قیادت ملک میں ہونے والے انتخابات کے باوجود مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں اپنے وعدے پر قائم ہے اور ان کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہے۔

News image
کشمیر بھی حل طلب مسائل میں شامل ہے

دونوں ملکوں کے رہنما روائتی بیان بازی جس سے وہ اپنے اپنے ملک کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے دیتے تھے باز رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس کی حالیہ مثال پاکستان میں جوہری رازوں کے افشا ہونے پر پیدا ہونے والے بحران کے دوران سامنے آئی۔ بھارت نے اس سلسلے میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہوئے کوئی متنازع بیان دینے سے گریز کیا۔

اسی طرح پاکستان نے بھارت کی طرف سے کرکٹ سیریز کو ملتوی کرنے کے بارے میں دیے جانے والے بیانات پر کوئی منفی بیان نہیں دیا۔

پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ تنویر احمد خان نے کہا کہ دونوں ملک حقیقت پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ باہمی مسائل بشمول کشمیر کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ انتہا پسندی سے اسے بچنا ہوگا اور اعتدال پسندی کی راہ پر چلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف بھارت کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ کشمیر میں ہونے والی تحریک بزور طاقت ختم نہیں کی جاسکتی اور اس کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ایک عالمی اقتصادی طاقت بننے کے خواب بھی اسے اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ مستقل بنیادوں پر مذاکرات کرے اور تمام باہمی مسائل کا حل تلاش کرے۔

انہوں نے کہ بھارت سماجی،سیاسی اور اقتصادی طور پر ایک ایسی جگہ پہنچ گیا ہے جہاں وہ بجا طور پر یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے دنیا میں بہتر مقام ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک وہ کشمیر میں پھنسا رہےگا وہ ان خوابوں کی تعبیر حاصل نہیں کرسکتا۔

تنویرخان نے کہا کہ توقعات تو زیادہ نہیں ہیں لیکن ان کے کامیاب ہونے کے بارے میں یقین ضرور ہے۔

ڈاکٹر راجموہن کو اسلام آباد میں کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ابتدائی مراحل ہیں اور ان سےکوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آنے والی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد