BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 March, 2004, 08:07 GMT 13:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھوکھراپار سرحد، مذاکرات شروع
 ریل اور سڑک کے راستے بحال کرنے پر غور ہو گا
ریل اور سڑک کے راستے بحال کرنے پر غور ہو گا
سندھ اور راجستھان کے درمیان کھوکھراپار، موناباؤ سرحد کے راستے ریل اور بس سروس شروع کرنے پر بھارت اور پاکستان کے حکام نے اسلام آباد میں دو روزہ بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔

سندھ اور راجستھان کے درمیان راستے کو کھولنے کے لیے بھارت سے آٹھ رکنی وفد بھارت کی روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے جوائنٹ سیکریٹری الوک رؤت کی قیادت میں پیر کے روز واہگہ کے راستے اسلام آباد پہنچا تھا۔

منگل کی صبح اس آٹھ رکنی وفد نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں پاکستانی حکام سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے وزارت مواصلات کے جوائنٹ سیکریٹری مصدق محمد خان مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں جس میں سندھ حکومت کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔

اس وفد کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد جو روٹ یا راستہ منقطع ہو گیا تھا، اس کی موجودہ حالت کیسی ہے اور اسے کتنے عرصے میں بحال کیا جا سکتا ہے؟

حالیہ مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان ریل اور سڑک کے ذریعے رابطہ بحال کرنے سے متعلق کئے جا رہے ہیں۔ البتہ فریقین اس بات پر رضامند ہیں کہ ریل اور سڑک، دونوں ہی روٹ دوبارہ کھلنے چاہئیں۔

تاہم ماہرین کا ریل کے حوالے سے یہ کہنا ہے کہ پٹری اکھڑ چکی ہے جس کی بحالی میں خاصا وقت صرف ہو سکتا ہے لیکن اس کے برعکس سڑک کم وقت میں تعمیر کی جا سکتی ہے اور بس سروس کا جلد بحال ہونا ممکن دکھائی دیتا ہے۔

البتہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ یہ رابطہ کب تک بحال ہو جائے گا لیکن منگل اور بدھ کو جاری رہنے والے مذاکرات میں طے کیا جائے گا کہ دونوں ممالک کو کسٹم اور امیگریشن کے معاملات نظر میں رکھتے ہوئے رابطہ بحال کرنے میں کس قدر وقت لگ سکتا ہے؟

مظفر آباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس کی بحالی کے حوالے سے فریقین انتیس اور تیس مارچ کو مذاکرات کریں گے جس کے لئے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔

بعض ماہرین کے مطابق مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس کا معاملہ کھوکھراپار اور موناباؤ کے مقابلہ میں خاصا پیچیدہ ہے کیونکہ پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ دونوں جانب کے کشمیری اقوام متحدہ کے سفری دستاویزات استعمال کریں جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ کشمیری اپنے اپنے ممالک کے پاسپورٹ پر سفر کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد