| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریلوے کا عجائب گھر
اگرچہ پاکستان ریلویز کا موجودہ حال اتنا اچھا نہیں لیکن اس کا ماضی روشن ضرور رہا ہے۔ ریلوے حکام نے اب اسی ماضی کی یاد کو ایک جگہ نمائش کے لئے اکٹھا کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے قریب گولڑہ ریلوے جنکشن پر ایک چھوٹا سا عجائب گھر قائم کیا گیا ہے جس میں اس خطے میں ایک صدی پرانی ریلوے سے متعلق اشیاء محفوظ کی گئی ہیں۔ اسے ہیریٹج پوائنٹ یا آسان لفظوں میں ریلوے عجائب گھر کا نام دیا گیا ہے۔
اس وجہ سے یہ چھوٹا سا سٹیشن اب صرف مسافروں کے لئے نہیں بلکہ پاکستان ریلویز کے ماضی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی اہم ہوگیا ہے۔ چھوٹی سی انتظار گاہ میں آپکو سو سال پرانی اینٹیں، پنکھے، برتن اور ابھی بھی قابل استعمال گھڑیال ملیں گے۔ باہر کھڑے بھاپ سے چلنے والے انجن، کرین اور وائسرائے اور راجاؤں کی خصوصی بوگیاں بھی قابل دید ہیں۔ ریلویز کی برِصغیر میں ایک طویل تاریخ ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ہی انگریزوں نے اس نظام کو اس خطے کے کونے کونے تک پھیلا دیا تھا۔ اس وقت انگریزوں نے اسے نارتھ ویسٹ ریلویز کا نام دیا تھا۔ آجکل پاکستان میں ریلوے ٹریک کی لمبائی ساڑھے آٹھ ہزار کلومیٹر جبکہ سٹیشنوں کی تعداد سات سو سینتیس ہے۔
اس عجائب گھر کے بننے سے اس اٹھارہ سو بیاسی میں قائم کئے گئے سٹیشن کی قسمت بھی جاگی ہے۔ شاید ہی کوئی سٹیشن اس طرح اچھی حالت میں ہو۔ سب سے بڑی بات اس سٹیشن کی پرانی عمارت کو اس کی اصل حالت میں لانا ہے۔ اسے تاریخی تصاویر سے سجایا گیا ہے جن میں افغان شاہ امیر عبدالرحمان کی راولپنڈی سٹیشن پر اٹھارہ سو چھیاسی کی تصویر بھی شامل ہے۔ اس عجائب گھر کے قیام کا سہرا ڈویژنل افسر اشفاق خٹک کے سر ہے جنہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا۔ ان سے تو ملاقات نہ ہوسکی لیکن اس بارے میں مزید تفصیل گولڑہ جنکشن کے اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر محمد نعیم نے بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اشیاء ملک بھر سے اکھٹی کی گئی ہیں۔
’سو سال پرانی ہونے کے باوجود ان میں اکثر اب بھی قابل استعمال ہیں۔‘ ان میں اس وقت کا عجیب سا ٹوسٹر، مسلمانوں اور ہندوں کو پانی پلانے کے پیتل کے گلاس، ٹیلفون، پنکھے، لالٹین اور دیگر روشنیوں کے آلات رکھے گئے ہیں۔ اس موقعہ پر ان دلچسپ نوادرات میں دلچسپی رکھنے والے ڈاکٹر امجد اکرم اپنے دو بیٹوں کے ساتھ آئے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی کوشش ہے۔
’بیرون ملک ایسے عجائب گھر ایک عام سی بات ہیں اور انہیں دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ اس کوشش سے یہاں بھی لوگوں میں اپنے ماضی میں دلچسپی پیدا ہوگی۔‘ یہ پاکستان ریلویز حکام کی جانب سے اپنی تاریخ کو بچانے کی ایک چھوٹی مگر قابل ستائش کوشش ہے۔ سیاحوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام اس سٹیشن تک بھاپ سے چلنے والی ریل گاڑی چلانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||