ایران: 300 ہلاک، سوگ کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے بدھ کو ریل کے ہولناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لئے قومی سطح پر یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے شمال مشرق میں ریل میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں لگ بھگ تین سو افراد ہلاک ہوئے اور بہت سے جھلس گئے جس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب تقریباً پانچ دیہات میں عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ تاہم امدادی کارکن لوگوں کو ملبے سے نکالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کہتے ہیں کہ جہاں یہ حادثہ ہوا ہے وہاں ابھی تک صورتِ حال انتہائی نازک ہے اور خطرہ ختم نہیں ہوا کہ اور دھماکے بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ دھماکےخام تیل سے بھری ہوئی مال گاڑی الٹ جانے کے بعد ہوئے تھے۔ سرکاری افسروں نے بتایا ہے کہ یہ علاقہ اب بھی انتہائی پُر خطر ہے۔مرنے والوں میں زیادہ تر آگ بجھانے والے اور وہ دیہاتی تھے جو ریل کا حادثہ دیکھنے کے لۓ جمع ہو گۓ تھے کہ اتنے میں ملبے میں دھماکہ ہو گیا ۔ ریل انتہائ مہلک سامان ، پٹرول، سلفر، مصنوعی کھاد اور روئی لے کر جارہی تھی۔ پیٹرول کے کئ بوگیاں اب بھی دھواں دیتے ہوئے ملبے میں صحیح سالم موجود ہیں۔ یہ سانحہ اس طرح ہوا کہ ریل کے کچھ ڈبے الگ ہوگۓ اور ڈھلان پر تھوڑی دور جانے کے بعد پٹری سے اتر گۓ۔ جب ریل کی بوگیاں پھٹیں تو، مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ، زمین ایسے ہلنے لگی جیسے زلزلہ آگیا ہو۔ نزدیک کے گاؤں میں کچے مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ آج ایران میں سوگ کا دن منایا جارہا ہے ۔ جس سٹیشن پر ریل کا حادثہ ہوا وہ مشہور شاعر اور ریاضی داں عمر خیام کے نام پر خیام کہلاتا ہے۔ پولیس نے مقامی لوگوں کو جائے حادثہ سے دور ہٹا دیا ہے اور انہیں خبردار کیا ہے کہ اور دھماکے ہو سکتے ہیں۔ حکام نے سانحے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہےکہ اس بات پر سوال اٹھائے جائیں گے کہ اتنے خطرناک مواد کو ایک ہی گاڑی میں یکجا کیسے اور کیوں کیا گیا۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق اس گاڑی میں سلفر یا گندھک کی سترہ بوگیاں تھیں، جبکہ پیٹرول کی چھ، کھاد کی سات اور روئی کی دس بوگیاں تھیں جوٹرین سے الگ ہونے کے بعد پٹری پر چل پڑیں اور بیس کلو میٹر تک آگے چلی گئیں۔ اس کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے ان میں آگ بڑھک اٹھی۔ بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں دو سو افراد آگ بھجانے والے عملے کے ہیں اور وہ اس وقت ہلاک ہوئے جب دھماکہ ہونا شروع ہوگیا۔ اے پی کے مطابق ٹھیک دھماکے کے وقت زلزلے کی پیمائش کرنے والوں نے رکٹر سکیل پر جو شدت دیکھی وہ عددی زبان میں تین اعشاریہ چھ تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||