بس سروس پر مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ ملاقات’اچھی، رہی۔ ان کے مطابق ملاقات میں دفاع سمیت تمام شعبوں میں تعاون، علاقائی اور عالمی امور کے علاوہ دوطرفہ معاملات پر بھی کھل کر بات کی گئی۔ ترجمان نے بتایا کہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون وسیع کرنے اور دونوں ممالک کے تعلقات دیرینہ اور پائیدار بنیاد پر بطور اہم شراکت دار، اسطوار کرنے پر اتفاق کیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملاقات میں فلسطین کے ساتھ مسئلہ کشمیر بھی بات چیت کا اہم نکتہ رہا اور یہ تاثر غلط ہے کہ کشمیر پر جان بوجھ کر زور نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق صدر بش کو جامع مذاکرات کے بارے میں پیش رفت کے بارے میں بریف کیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایف سولہ لڑاکا طیارے حاصل کرنے کا بارے میں امریکی صدر نے کیا جواب دیا تو ترجمان نے جواب گول کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان کے صدر نے بڑا واضح طور پر کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کسی ملک کے حوالے کیا جائے گا اور نہ ہی عالمی جوہری ایجنسی کو ان سے پوچھ گچھ کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرینگر سے مظفر آباد تک بس سروس کی بحالی چاہتا ہے اور اس ضمن میں بات چیت کے لیے تین رکنی وفد دلی روانہ ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان پاسپورٹ پر سفر کا مخالف ہے کیونکہ کنٹرول لائن عارضی سرحد ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں سفری دستاویزات اور سڑک کی بحالی سمیت تمام تیکنیکی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر خان قوم کے ہیرو ہیں اور پاکستان ہی ان سے پوچھ گچھ کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان جوہری’بلیک مارکیٹنگ، کے خاتمے کے لیے عالمی اداروں سے مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ ترجمان نے کہا بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قابل تشویش ہیں جو کہ اب ختم ہونی چاہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فوج کی کمی کا فیصلہ مصنوعی نہیں بلکہ وہاں موجود بڑی تعداد میں فوج کو حقیقی معنی میں کم کرنے کے لیے ہوگا۔ پاکستان کی’قومی سلامتی کونسل‘ کے سیکریٹری طارق عزیز کی بھارت کے وزیراعظم جین ڈکسٹ سے در پردہ سفارتکاری کے سلسلے میں مجوزہ ملاقات کی انہوں نے تردید نہیں کی اور کہا کہ ستاون برس میں دونوں ممالک میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور صدر جنرل پرویز مشرف چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کی قیادت بہادرانہ اقدام اٹھائیں۔ ایک سوال پر مسعود خان نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کا حل چاہتا ہے لیکن اس سلسلے میں پاکستان یا صدر جنرل پرویز مشرف کے کردار کا تعین نہیں ہوا کہ وہ کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف آٹھ دسمبر سے فرانس کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ ان کے مطابق خارجہ، تجارت اور اطلاعات کے محکموں کے وزراء صدر کے ہمراہ ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||