BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 December, 2004, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بس سروس، نئی بھارتی تجویز
لائن آف کنٹرول
لائن آف کنٹرول بے شمار کشمیر خاندانوں کے درمیان حائل ہے۔
سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت میں تکنیکی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے پہلے دن بھارت نے تجویز پیش کی ہے کہ پاسپورٹ کو صرف شناخت کے لیے استعمال کیا جائے جبکہ لائن آف کنٹرول کے آر پار سفر کرنے کے لیے مسافروں کو خصوصی اجازت نامے یا پرمٹ جاری کئے جائیں۔

پاسپورٹ کو سفری دستاویز کے طور پر استعمال کرنے پر پاکستان اور بیشتر کشمیریوں کو اعتراض تھا کیوں کے اس اقدام کا مطلب کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔

کنٹرول لائن کو دونوں ہی ملک سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔

ان سوالوں پر بھی بات ہوئی کہ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی اس مجوزہ بس میں صرف کشمیری ہی سفر کریں گے یا دوسرے باشندوں کو بھی یہ سہولیت میسر ہوگی۔ تاہم ان سوالات کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔

پاکستانی وفد کے سربراہ جلیل عباس جیلانی نے منگل کی بات چیت کو بہت کارآمد بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی اور سبھی متعلقہ پہلوؤں پر بات کی گئی۔

مسٹر جیلانی نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ لیکن نئی تجویز کے مطابق پاسپورٹ شناخت کی بنیادی دستاویز رہے گا جبکہ پرمٹ کی حیثیت ویزا جیسی ہوگی جو دونوں ملکوں کے ہائی کمیشن سے جاری کیے جائیں گے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت بدھ کو بھی جاری رہے گی۔

اس سے پہلے دونوں ملک کھوکھرا پار مانو باؤ کے راستے اگلے سال تک ریل سروس دوبارہ شروع کرنے پر پہلے ہی رضامند ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد