بس سروس، نئی بھارتی تجویز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت میں تکنیکی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے پہلے دن بھارت نے تجویز پیش کی ہے کہ پاسپورٹ کو صرف شناخت کے لیے استعمال کیا جائے جبکہ لائن آف کنٹرول کے آر پار سفر کرنے کے لیے مسافروں کو خصوصی اجازت نامے یا پرمٹ جاری کئے جائیں۔ پاسپورٹ کو سفری دستاویز کے طور پر استعمال کرنے پر پاکستان اور بیشتر کشمیریوں کو اعتراض تھا کیوں کے اس اقدام کا مطلب کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔ کنٹرول لائن کو دونوں ہی ملک سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ ان سوالوں پر بھی بات ہوئی کہ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی اس مجوزہ بس میں صرف کشمیری ہی سفر کریں گے یا دوسرے باشندوں کو بھی یہ سہولیت میسر ہوگی۔ تاہم ان سوالات کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ پاکستانی وفد کے سربراہ جلیل عباس جیلانی نے منگل کی بات چیت کو بہت کارآمد بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی اور سبھی متعلقہ پہلوؤں پر بات کی گئی۔ مسٹر جیلانی نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ لیکن نئی تجویز کے مطابق پاسپورٹ شناخت کی بنیادی دستاویز رہے گا جبکہ پرمٹ کی حیثیت ویزا جیسی ہوگی جو دونوں ملکوں کے ہائی کمیشن سے جاری کیے جائیں گے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت بدھ کو بھی جاری رہے گی۔ اس سے پہلے دونوں ملک کھوکھرا پار مانو باؤ کے راستے اگلے سال تک ریل سروس دوبارہ شروع کرنے پر پہلے ہی رضامند ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||