کھوکھراپار،موناباؤ ریل مذا کرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے ریلوے حکام نے کوئی’ٹائم فریم‘ دیے بغیر اتفاق رائے سے کہا ہے کہ کھوکھرا پار سے مونا باؤ تک ریل سروس جلد سے جلد بحال کی جائے گی۔ اس بات کا اعلان جمعہ کے روز دو روزہ مذاکرات کا حتمی دور ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے نمائندوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت ریلوے سیکرٹری زعیم چودھری جبکہ بھارتی وفد کی قیادت لجپت رائے نے کی۔ پاکستانی وفد کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کو میرپور خاص سے کھوکھرا پار تک ایک سو اٹھائیس کلومیٹر تک ریلوے لائن بچھانی ہے اور اس میں خاصا وقت لگے گا۔ ان کے مطابق عمل درآمد میں کافی ’اگر‘ ’مگر‘ ہوتے ہیں اس لیے جب کام مکمل ہوگا تو ریل سروس بحال ہوجائے گی۔ بھارتی وفد کے سربراہ نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ آئندہ سال اکتوبر تک انتظام کرلیں گے اور جب پاکستان اپنا کام مکمل کرے گا تو سروس شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کراچی اور بمبئی میں قونصلیٹ کھولنے پر متفق ہیں جس سے لوگوں کو ویزے کے حصول میں آسانی ہوگی۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے کہا کہ ریل سروس شروع کرنے کا معاہدہ ہوچکا ہے، دونوں ممالک میں کوئی اختلاف رائے نہیں اور اب ’انفرا سٹرکچر، بنانا ہے۔ لجپت رائے نے بتایا کہ ایک ہفتے میں دونوں ممالک ایک ایک ریل گاڑی چلائیں گے اور جیسے جیسے مسافروں کی تعداد بڑھے گی، ریلوے کوچز میں اضافہ کر دیا جائے گا اور ایک ہفتے میں زیادہ گاڑیاں بھی چلائی جا سکتی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھارتی نمائندے نے کہا’ پاکستان ٹھیک ہی کہہ رہا ہے کہ اسے بہت کام کرنا ہے جس کے لیے وقت درکار ہے‘۔ایک سوال پر بھارتی نمائندے نے کہا کہ وہ مایوس نہیں بلکہ جلد ریل سروس بحال ہونے کے لیے پرامید ہیں کیونکہ دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ یہ ریل سروس بحال ہو۔ پاکستانی وفد کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کشمیر پر پیشرفت سے اس مجوزہ ریل سروس کی بحالی مشروط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھوکھرا پار سے مونا باؤ تک ریل سروس کی بحالی کا فیصلہ صدر پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا دونوں جانب کے تقسیم شدہ عوام کے لیے تحفہ ہے۔ لجپت رائے نے بتایا کہ انہوں نے پاکستانی ریلوے حکام کو دلی آنے کی دعوت دی ہے اور اس مجوزہ ریل سروس کے بارے میں مزید بات چیت جاری رکھی جائے گی۔ آئندہ مذاکرات کی تاریخ باہمی رضامندی سے طے کی جائے گی۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کھوکھرا پار سے مونا باؤ ریل رابطے کا دوسرا ذریعہ ہوگا۔ لاہور کے نزدیک واہگہ کے مقام سے پہلے ہی ’سمجھوتہ ریل گاڑی‘ چل رہی ہے۔ دونوں ممالک میں کھوکھرا پار اور مونا باؤ کے درمیان چالیس سال قبل ریل گاڑی چلتی تھی لیکن سن پینسٹھ میں دونوں ممالک میں جنگ کے بعد یہ سروس بند ہوگئی۔ پرانے وقت کی ریلوے کی پٹڑی چھوٹے’گیج‘ والی ہے جسے اب بڑے ’گیج‘ میں تبدیل کرنا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||