BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 November, 2004, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مونا باؤ، کھوکھرا پار ریل چلے گی؟

مونا باؤ
چالیس برس سے مونا باؤ اور کھوکرا پار کے درمیان ریل رابطہ منقطع ہے
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سندھ اور راجستھان کے ریل رابطے کو بحال کرنے پر بات چیت ہورہی ہے۔ لیکن سرحد پر رہنے والے باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ ریل سروس شاید ہی کبھی شروع ہوسکے۔

وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے امید ظاہر کی ہے کہ مونا باؤ اور کھوکھرا پار کے درمیان ریل سروس آئندہ برس اکتوبر کے اوائل میں شروع کردی جاۓ گی۔

ایک زمانہ تھا جب واہگہ اور اٹاری سیکٹر سے بھی زیادہ بھیڑ اس ریل سیکٹر پر ہوا کرتی تھی۔ لیکن گزشتہ چالیس برسوں سے یہاں ریل کی پٹریاں ویران پڑی ہیں۔ 1965 کی ہند پاک جنگ کے دوران ان پٹریوں پر آخری بار ریل دوڑی تھی۔

تیج دان دیتھا کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے لیکن اب وہ راجستھان میں بس گئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاست پر پنجاب کا غلبہ ہے اور پنجاب کبھی نہیں چاہے گا کہ یہ ریل سروس شروع ہو کیونکہ اس سے پنجاب کو مالی منافع سے ہاتھ دھونا پڑیگا اور اسکی اہمیت بھی کم ہوگی۔

موناباؤ کھوکھرا پار ریل سروس کے لیے ہندوستان نے اپنے حصے میں پوری تیاری کرلی ہے۔ 1986 میں بھی ایک بار ایسا ہی ماحول بنا تھااور اس وقت ہندوستان نے بیس لاکھ روپے خرچ کر کے اس سرحد پر آخری اسٹیشن موناباؤ کو بین القوامی معیار کا بنایا تھا۔ ریلوں کی آمد ورفت کے ریلوے بورڈ بنائےگئے، تاریخ مقرر کی گئی اور اچانک پاکستان نے ہاتھ کھینچ لیا۔ اس کے بعد سے کئی بار اس ریل سروس کو شروع کرنے کے اعلان کئے جاتے رہے ہیں۔

اس ریل کے بند ہونے سے راجستھان کے سرحدی علاقوں میں ایسے لوگوں کو سرحد کے اس پار آباد رشتے داروں سے ملنے کے لیے ڈھائی ہزار کلو میٹر سفر طے کرنا پڑتا ہے۔یہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ مشکل بھی ہے۔جبکہ یہی سفر وہ چند گھنٹوں اور کچھ روپوں میں کرسکتے ہیں۔

تقسیم ہند کے وقت سندھ اور راجستھان میں آبادی کا یکمشت مذہبی بنیادوں پر تبادلہ نہیں ہوا تھا۔اس لیۓ سرحد کے دونوں جانب ملی جلی آبادی ہے۔ اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ 1947 کے ہندو مسلم فساد کے دوران یہی ایک ایسی ٹرین تھی جو لاشیں نہیں ڈھورہی تھی۔ اس خطے میں سرحد کے دونوں جانب ایک جیسی زبان ایک جیسا لباس اور مشترکہ تہذیب ہے۔ مگرسیاست نے دونوں کے درمیان خاردار باڑیں کردی ہیں۔

تقریبا پندرہ برس قبل جب سرحد پر خاردار باڑیں نہیں لگی تھیں لوگ چوری چھپے رشتے داروں سے ملنے جاتے تھے۔ خشک سالی اور برے وقت لوگ سندھ کے دریائی علاقوں میں اپنے مویشیوں کے ساتھ پناہ لیتے تھے۔

جودھ پور ریاست نے سن 1900 میں انہیں دنوں دسمبر میں ایکتالیس لاکھ روپے کے خرچ سے باڑ میر اور سندھ کے سادی پلی کے درمیان ایک سو چونتیس میل لمبی ریلوے لائین بچھوائی تھی۔ حیدرآباد سندھ اور سادی پلی کے درمیان 1890 میں ہی ریل سروس کاآغاز ہوچکا تھا۔ اس کے سبب سندھ اور راجستھان کے مارواڑ علاقے میں براہ راست ریل رابطہ قائم ہوگیا تھا۔

تقسیم ہند کے بعد دونوں ممالک چھ چھ مہینے تک ریل گاڑیاں چلاتے تھے۔ ہندوستان نے باڑ میر ، مونا باؤ کے درمیان بڑی ریلوے لائین بچھا دی ہے جب کہ پاکستان کی جانب اب بھی میٹر گیج ہے۔ اور وہ بھی خراب حالت میں ہے۔ باڑ میر اور موناباؤ کے درمیان اچھی سڑک بھی بنی ہوئی ہے۔لیکن پاکستان میں چالیس کلو میٹر تک کوئی سڑک نہیں ہے۔ ان حالات مین ایسا نہیں لگتا کہ یہ ریل سروس جلد شروع ہوجاۓ گی۔

باڑ میر میں سندھی مسلم سماج کے سابق صدر عیسیٰ خان راجبڑ کہتے ہیں '' ہم برسوں سے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کی شکل نہیں دیکھ پاۓ ہیں'' سابق رکن پارلمان کلدیپ نیّر کہتے ہیں کہ جب وہ پاکستان گئے تھے تو وہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے سندھ راجستھان ریل سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

موناباؤ اور کھوکھرا پار کے درمیان محض گیارہ کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔دونوں اسٹیشن ابھی ویران اور سنسان پڑے ہیں۔ مونا باؤ میں سرحدی محافظوں کی گاڑیوں کی دھمک سناٹے کو ضرور توڑے گی۔ لیکن سیاست کو انسانی رشتوں کی میٹھی دھن نہیں شاید ایسے ہی سناٹے کی خواہش ہے۔ شاید اسی لیے ریل کا پہیہ نہیں گھوم رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد