کھوکھرا پار: دونوں کے لئے اہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کھوکھراپار مونا باؤ سرحد ہند اور سندھ کے لوگوں کے لئے دیوار برلن سے کم نہیں - کوریا اور ماضی میں جرمنی کے لوگوں کی طرح دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے ترس رہے ہیں- سندھ اور راجستھان کے علاقوں میں آباد لوگ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان کئی کے عزیز و اقارب سرحد کے اس پار رہائش پذیر ہیں جن سے ملے ہوئےانہیں کئی برس بیت گئے ہیں- واہگہ کے ذریعے لاہور دہلی بس سروس اور سمجھوتہ ایکسپریس شروع ہونے کے بعد سندھ راجستھان سرحد کھولنے کے لئے پہلی مرتبہ منگل کواسلام آباد میں سنجیدہ مذاکرات ہوئے ہیں جن میں ریلوے ٹریک کی موجودہ حالت، امیگریشن اور دیگرسٹاف کے لئے مطلوبہ انفرا اسٹرکچر، بس سروس کے لئے ہفتہ روزہ ٹائم ٹیبل اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں تفصیلات پر بات چیت ہوئی- اس وقت سندھ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو بھارت جانے کے لئے پہلے لاہور اور وہاں سے دہلی جا کر پھر واپس راجستھان آنا پڑتا ہے- اس وجہ سے ان کا وقت اور پیسہ زیادہ خرچ ہوتا ہے- اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان جب بھی تعلقات میں کچھ بہتری آئی تو واہگہ سرحد کھلتی رہی اور فضائی رابطے بھی بحال ہوئے لیکن کھوکھراپار سرحد کے بارے میں سنجیدہ مذاکرات نہیں ہوسکے- کھوکھراپار سرحد کھلنے کی صورت میں دو طریقوں یعنی ریلوے یا بس کے ذریعے آمدورفت ہو سکتی ہے- کھوکھراپار ریلوے سٹیشن اٹھارہ سو اسی میں قائم ہوا- اور انیس سو چونسٹھ تک اس راستے دونوں ملکوں کے درمیاں ٹرین چلتی رہی- کھوکھراپار جس کا اصل نام کھوکھروپار ہے اس ریلوے لائن پر پاکستان کا آخری سٹیشن ہے جبکہ اسی لائن پر مونا باؤ بھارت کا پہلا سٹیشن ہے- کھوکھراپار اور موناباؤ کے درمیان میرپورخاص سے کھوکھراپار تک مرمت طلب اس ٹریک پر آج بھی ہفتے میں ایک مرتبہ ٹرین کھوکھراپار اور میرپورخاص کے درمیان چلتی ہے- ٹریک کی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کی رفتار بمشکل پچیس سے تیس کلومیٹر فی گھنٹہ ہے- ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریک کی مرمت کے بعد یہ رفتار پچاس کلومیٹر تک ہوسکتی ہے اور کھوکھراپار اور میرپورخاص کا فاصلہ تین گھنٹے میں طے کیا جا سکتا ہے-
کھوکھراپار سے موناباؤ جانے والی ریلوے ٹریک کی پٹڑی ریت میں دھنس گئی ہے اور کچھ حصے میں پٹڑیاں موجود بھی نہیں ہیں- کھوکھراپار میں بجلی پہنچ چکی ہے- ریلوے سٹیشن پر جونیجو دور میں ہی بھارت اور پاکستان کے مسافروں کے لئے علیحدہ علیحدہ انتظارگاہیں بنا دی گئی تھیں اورامیگریشن اور کسٹم حکام کے دفاتر تعمیر کرائے گئے تھے جو آج بھی موجود ہیں- پاکستان کے وزیر ریلوے غوث بخش مہر کا کہنا ہے کہ کھوکھراپار سے ٹرین سروس بحال کرنے کے لئے ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہوگا - ریلوے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریک اور رولنگ سٹاک ناکارہ ہو چکے ہیں جن کے لئے ساٹھ کروڑ روپے کی رقم درکار ہوگی- کھوکھروپار اپنے قیام سے لے کر اب تک کئی مرتبہ اجڑا اور آباد ہوا- انیس سو سینتالیس میں ہندو آبادی بھارت چلی گئی اور اس کی جگہ پر مسلمان آکر آباد ہوئے- انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے دوران کھوکھراپار اور اس کے گردونواح کے گاؤں خالی ہوگئے- اکہتر کی جنگ میں بھارتی فوج نے کھوکھراپار پر قبضہ کر لیا- اس وقت بھی یہاں کی آبادی کو نقل مکانی کرنی پڑی- کھوکھراپار موناباؤ کے راستے انیس سو باون تک بھارت کے گجرات، راجستھان، یوپی اور سی پی سے لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے پاکستان آتے رہے اور سندھ میں آباد ہوتے رہے- یہ آمدورفت بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے ہوتی رہی- اس کے بعد جب پاسپورٹ اور ویزے کا دور آیا تو بھی لوگوں کی آمدورفت ہوتی رہی جو انیس سو چونسٹھ تک جاری رہی تاوقتیکہ یہ سرحد باقاعدہ بند ہوگئی- اس زمانے میں چھ ماہ تک پاکستانی ٹرین مونا باؤ ( بھارت) جاتی تھی اور اگلے چھ ماہ بھارتی ٹرین کھوکھراپار ( پاکستان) آتی تھی۔ سندھ اور راجستھان سرحد کھولنے کی بس سروس کو زیادہ قابل عمل سمجھا جا رہاہے- گڈڑو روڈ پاکستان میں واقع ہے اور گڈڑو شہر بھارت میں ہے- قیام پاکستان سے پہلے سندھ اور راجستھان کے درمیان گڈڑو روڈ اور گڈڑو شہر تک اونٹوں اور لاریوں کے ذریعے آمدورفت اور تجارت ہوتی تھی- میرپورخاص سے کھوکھراپار ایک سو چالیس کلومیٹر ہے- میرپورخاص سے عمرکوٹ تک سڑک اچھی حالت میں موجود ہے- ادھر موناباؤ سے کھوکھراپار پانچ کلومیٹر ہے لیکن موناباؤ کی طرف بھارت میں پاک بھارت سرحد کے زیرو پوائنٹ تک ڈیڑھ کلومیٹر روڈ تعمیر کرنی پڑے گی۔ مقامی ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ہنگامی بنیادوں پر یہ روڈ بنانے میں دلچسپی لے تو دو ماہ کے اندر سڑک تیار ہو سکتی ہے- بس سروس کے لئے عمرکوٹ کے مشہور ٹرانسپورٹر صدیق ناگوری جن کا آبائی گاؤں باستی راجستھان میں ہے کہتے ہیں کہ پرائیویٹ سیکٹر کو بس چلانے کی اجازت ملنے کی صورت میں وہ چار ایئر کنڈیشنڈ کوچز کراچی سے جودھ پور تک چلانے کے لئے تیار ہیں- ایک مقامی مستری محبت سمیجو کا کہنا ہے کہا اگر کراچی سے جالو جو چونرو تک بسیں چلنی شروع ہو گئیں تو کھوکھراپار سے موناباؤ تک ان کے جی ایم سی کیکڑوں (ٹرک) کو بس میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی کارآمد ثابت ہوگی- یہ کیکڑا بسیں تھر کے یگستانی علاقوں میں کامیابی سے چل سکیں گی- ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ کھوکھراپار مونا باؤ سرحد کھولنے کے بعد براستہ سڑک آمدورفت رکھنے کی صورت میں یہ سب سے سستا سفر ہوگا کیونکہ جودھ پور سے کھوکھراپار کا کرایہ صرف اسی روپے اور باڑمیر سے کھوکھراپار کا کرایہ ساٹھ روپے ہوگا- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||