مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہئے، بھٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے معروف فلم ساز مہیش بھٹ نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بحال نہیں ہوسکتے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی وفود کے تبادلے اور دیگر رابطے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک وہ مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کر لیتے۔ وہ پیر کو کراچی سے لاہور پہنچنے کے بعد پاکستان میں فلمی صنعت کے مسائل کے موضوع پر ’رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ ‘کے زیراہتمام ہونےوالے ایک سیمینارمیں شرکت کے بعداخبارنویسوں سےگفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور جب تک اس بارے میں آنکھیں بند رکھی جائیں گی یہ مسئلہ حل ہوپائےگا نہ ہی دونوں ملکوں میں حقیقی امن ہو سکےگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک اپنے اپنے موقف پر اڑے رہے تو یہ مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا پرآج امریکہ کا وہی کردار ہے جو ماضی میں برطانیہ کا تھامغرب آج بھی یہاں کے عوام کا استحصال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس خطے کے ممالک متحد نہیں ہونگے ہمارا استحصال جاری رہے گا۔ قبل ازیں انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی فلم انڈسٹری کے حالات بھی کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں وہاں بھی سال میں پانچ سو فلمیں بنتی ہیں تو ہٹ صرف آٹھ دس ہی ہو پاتی ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ بھارت میں نت نئے تجربات جاری رہتے ہیں۔ اب بھارتی فلمی صنعت پاکستان کے اشتراک سے فلمیں بنانے کا تجربہ کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنی نئی فلم ’نظر‘ کی مثال دی اور کہا کہ اس فلم کی ہیئروئن پاکستانی اداکارہ میرا ہیں۔ اداکارہ میرا نے کہا کہ ان کی بھارتی فلم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور امید ہے کہ یہ فلم جنوری میں ریلیز ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ وہ مہیش بھٹ جیسے عظیم فلم ساز و ہدائت کار کے ساتھ کام کر پائی ہیں۔ عثمان پیرزادہ نے کہا کہ پاکستان میں کبھی کوئی آرٹ اکیڈیمی نہیں رہی ہے اور لوگ خود بخود سیکھ کر کام کرتے رہے ہیں لیکن اب نیشنل سکول آف آرٹس میں ایک فلم اکیڈیمی قائم کر دی گئی ہے امید ہے حالات بہتر ہونگے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||