BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 October, 2004, 16:06 GMT 21:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی وڈ اور لالی وڈ کی دوستی

معمر رانا
معمر رانا بالی ووڈ کی فلم میں
پاکستان اور ہندوستان کی ریاستوں کے درمیان دوستی میں تو شاید ابھی وقت لگے لیکن ان کی فلمی صنعتوں اور آرٹسٹوں نے تو جھٹ پٹ دوستی کرلی ہے اور دونوں طرف کے فنکار ، گلوکار اور موسیقار مشترکہ منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔

پاکستانی فلمساز اور ہدایتکار ممبئی کے گلوکار سونو نگم اور دیوداس کی موسیقی دینے والے یوگیش کے پیچھے دوڑ رہے ہیں تو ہندوستان سے موسیقار ونود بھٹ زیرتکمیل فلم جلن کے دوگانے عطا اللہ عیسٰی خیلوی کی آواز میں ریکارڈ کرنے کے لیے پچھلے دنوں لاہور آئے اور اب عطا اللہ عیسٰی خیلوی ممبئی جاکر گانوں کی ریکارڈنگ کرائیں گے۔

اداکار معمر رانا نے ہدایت کار ششی رنجن کی فلم ’دوبارہ‘ میں کردار ادا کیا ہے جو حال ہی میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے۔ اس فلم میں مرکزی کردار ماہیما چودھری، روینہ ٹنڈن اور جیکی شروف کا ہے۔

معمر رانا جیو ٹیلی وژن کے لیے انڈین ڈائریکٹر روی رائے کے ٹی وی کھیل محبت کا سحر میں بھی کام کررہے ہیں جس میں ہندوستانی اور پاکستانی اداکار شامل ہیں۔

اداکارہ میرا چند مہینوں سے ممبئی میں ہیں۔ وہ ہدایتکار سوہنی رازدان کی فلم ’نظر کے سامنے‘ میں کام کررہی ہیں جبکہ اس فلم کو بنانے والوں میں مہیش بھٹ او پوجا بھٹ بھی شامل ہیں۔ مِیرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ممبئی میں اپنی فلم بھی بنائیں گی اور انھیں اور فلمیں مل رہی ہیں اس لیے انھوں نے ممبئی میں اپنا قیام بڑھا دیا ہے۔

پریتی اور شاہ رخ
بالی ووڈ کی نئی نئی فلمیں پاکستان میں کیبل کے ذریعے نشر کردی جاتی ہیں

اداکارہ وینا ملک نے ممبئی میں بننے والی پنجابی فلم پنڈ دی کڑی میں ایک کردار ادا کیا ہے۔ یہ فلم پاکستان کی مشہور پنجابی فلم باؤ جی کی نقل ہے جس کا گانا ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے‘ نہایت مقبول ہوا۔ اس فلم میں پاکستان سےاشرف راہی اور شیبا بٹ نے بھی کام کیا ہے۔

اداکار جاوید شیح نے بالی وڈ کی فلم ’دس‘ میں کام کیا جس کی شوٹنگ کنیڈا میں ہوئی ہے۔ اس فلم میں ان کے ہمراہ سنجے دت، ابھیشک بچن، شیلپا سیٹھی وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ جاوید شیخ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر بننے والی فلم ’پاک‘ میں بھی کام کریں گے اور ہیروئن ثنا کے ساتھ ممبئی کی فلم ’ستم‘ میں بھی کام کررہے ہیں جس کی شوٹنگ انڈیا کے علاوہ دبئی میں بھی کی گئی۔

صرف یہی نہیں بلکہ پاکستانی فلمساز اپنی فلموں میں موسیقی کے لیے اور شوٹنگ کے لیے ممبئی کے اسٹوڈیوز کا رخ کررہے ہیں۔

شہزاد گل جو نئی فلم بنا رہے ہیں اس کے موسیقار تو پاکستان کے امجد بوبی ہیں لیکن اس کے انتظامات یوگیش نے کیے ہیں جنھوں نے انڈین فلم دیوداس کے لیے کام کیا تھا۔ اس کے علاہ ادیت نرائن، الکا یوگنیک، سادھنا سرگم اور شریا وپال اس فلم کے لیے گانے گائیں گے۔

جاوید شیخ نے اپنی نئی فلم ’آسمان کے نیچے‘ کے لیے ممبئی کے گلوکار سونو نگم ، سونیدی چوہان ، الکا اور کمار سانو کا انتخاب کیا اور ممبئی کے اسٹوڈیوز میں شوٹنگ کی۔ جاوید شیخ کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی فلم کےلیے جن بڑے بڑے سیٹوں کی ضرورت تھی وہ پاکستان میں میسر نہیں ہیں۔ وہ اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے آسٹریلیا جانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

صرف فلمساز ہی نہیں ٹی وی ڈرامہ بنانے والے بھی ممبئی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمایوں سعید نے پندرہ قسطوں پر مشتمل اپنی نئی ٹی وی سیریل ’انا‘ کے لیے انڈیا کی ٹی وی اداکاراؤں آمنہ شریف عرف کشش اور نوشین عرف کسم کا انتخاب کیا ہے۔ انھوں نے بھی اپنے ڈرامہ کی موسیقی کے لیے انڈیا کے گلوکار سونو نگم اور موسیقار جوڑے جتن لطیف کو چنا۔

پاپ موسیقی کے گروپ جنون نے بھی ہندوستانی فنکاروں اور گلوکاروں سے مل کر اپنا نیا البم نکالا ہے جس کا گانا ’گھوم تانا‘ کو لاہور اور پٹیالہ میں فلمایا گیا۔اس گانے کو سلمان احمد اور شوبھا نے مل کر گایا۔ اس گانے میں سلمان احمد کے ساتھ انڈین اداکارہ نندیتا داس ہیں اور اس میں نصیرالدین شاہ کی آواز کو بھی استعمال کیا گیا ہے جبکہ ہدایتکار ثاقب ملک کے ساتھ کیمرا مین سنجے کپور ہیں۔

وینا ملک
اقبال ڈھلوں نے وینا ملک کے مقابل سربجیت چیمہ کو مرکزی کردار کے لئے منتخب کیا ہے

اسی طرح تھیٹر گروپ اجوکا نے امرتسر کے اسکول اسپرنگ ڈیل کے بچوں اور لاہور کے بچوں کو ملا کر ’بارڈر بارڈر‘ اسٹیج ڈرامہ بنایا ہے جس کاموضوع ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں اور دوستی ہے۔ اس ڈرامہ کو شاہد ندیم نے تحریر کیا جبکہ لاہور کے بچوں نے امرتسر جا کر اور امرتسر کے بچوں نے لاہور آکر یہ اسٹیج ڈرامہ پیش کیا۔

انڈیا کی مس یونیورس پنو شری دتہ نے لاہور کی ڈریس ڈیزائنر بی جی کے ڈریسز کے لیے گزشتہ ماہ دلی میں ہونے والے ڈریس شو میں ماڈلنگ کی ۔ اس ڈریس شو میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے لیے ایک کیٹ واک بھی شامل تھی جس میں انھوں نے پاکستانی اداکارہ میرا کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کیٹ واک کی۔ اب وہ فاطمید کے کینسر کے مرض میں مبتلا بچوں کے لیے پروگراموں شرکت کے لیے لاہور آئیں گی۔

آخر پاکستان میں کیا قباحتیں ہیں جو فلمساز ممبئی کا رخ کررہے ہیں؟ اس بات کا جواب فلمساز شہزاد گل یوں دیتے ہیں کہ ’ہندوستانی پیشہ وارانہ مہارت میں ہم سے زیادہ آگے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ چند بڑے ناموں کو چھوڑ کر پاکستان کے موسیقاروں اور گلوکاروں میں پیشہ وارانہ مہارت کی کمی ہے۔

فلم سازوں کا کہنا ہے کہ ایک اچھی موسیقی کے لیے سو سے دو سو وائلن درکار ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں کسی موسیقار کے پاس پندرہ سے زیادہ وائلن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں گانے ریکارڈ کرانے کا کوئی مناسب ریکارڈنگ نظام نہیں جبکہ انڈیا میں کمپیوٹرائزڈ ریکارڈنگ بھی ہورہی ہے۔

یہی حال کوریو گرافی کا ہے۔ شہزاد گل کا کہنا ہے کہ کسی کوریو گرافر کے پاس مناسب ایکسٹرا نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بالی وڈ میں اگر کسی گانے میں پچاس ایکسٹرا ہیں تو ان سب کا ایک جیسا قد بت ہوگا لیکن ہمارے ہاں دس ایکسٹرا ہوں گی اور باقی ہیجڑے۔

معمر رانا
معمر رانا فلم میں ماہیما چودھری اور علیشا کے ساتھ کام کر رہے ہیں

کیبل پر دن رات سی ڈیز کے ذریعے جو ہندوستانی فلمیں چلتی ہیں اس سے پاکستانی فلمی صنعت کو ایک نۓ چیلنج کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں نے پاکستانی فلموں کے کم معیار کی وجہ سے بھی سینما گھروں کا رخ کرنا کم کردیا ہے۔ سینما مالکان کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک میں بیس سال پہلے پندرہ سو سینما گھر تھے اب ان کی تعداد کم ہوکر دو سو ستر رہ گئی ہے۔ صرف اس سال کے دوران پچاس کے قریب سینما گھر بند کئے گئے ہیں۔

ملک میں فلمیں بننے کی تعداد کم ہوگئی ہے جہاں چند سال پہلے ایک سال میں سو کے قریب فلمیں بنتی تھیں اب وہاں گزشتہ سال ان کی تعداد بیس پچیس رہ گئی ہے۔ سینما گھروں کی ایسوسی ایشن کےمطابق انھیں اپنے کاروبار کے لیے ہر ہفتہ ایک نئی فلم کی ضرورت ہے۔

فلمسازوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہندوستانی گلوکاروں ، موسیقاروں اور ممبئی کے اسٹوڈیوز کا رخ کیا ہے۔ لیکن اس طرح بنائی جانے والی فلمیں کیا پاکستانی فلمی صنعت کو بحران سے نکال سکیں گی یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال بالی وڈ اور لالی وڈ کے اشتراک اور تعاون کا ایسا دور چل رہا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد