BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 December, 2004, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشترکہ فلم سازی ہونی چاہیے‘

News image
پوجا بھٹ کی فلم ’پاپ‘ کا ٹائیٹل گانا پاکستانی گلوکار علی عظمت نے گایا تھا
کارا فلم میلے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے بھارتی فلم اداکاروں نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فلمسازی کے لیے ایک مشترکہ فلم کمپنی کے قیام پر زور دیا۔

ہدایتکار مہیش بھٹ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں قائم کی جانے والی پروڈکشن کمپنی دبئی میں قائم ہونی چاہیے، جس میں تکنیکی مہارت بھارت سے لی جائے اور ادا کاری کے لیے پاکستانی ادا کاروں سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

مہیش بھٹ کا کہنا تھا اس مشترکہ کمپنی کے تحت بننے والی فلمیں عالمی معیار کی ہونی چاہییں اور ان کی ریلیز پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے کی جانی چاہیے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے کو عملی شکل دینے کے لیے دونوں ممالک کے تجارتی حلقوں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔

News image
مہیش بھٹ پہلے بھی پاکستان آچکے ہیں

بھارتی فلمی اداکارہ و ہدایت کارہ پوجا بھٹ اور ان کے ہدایت کار والد مہیش بھٹ سمیت اوم پوری اور عرفان خان بھی اس پریس کانفرنس میں موجود تھے۔

صحافیوں نے جہاں مہیش بھٹ سے پاک بھارت فلمی صنعت کے درمیان مشترکہ فلم سازی کے مستقبل کے بارے میں سوالات کیے وہاں یہ سوال بھی اٹھا کہ کراچی آنے والے ان تمام اداکاروں کے پاکستان کے بارے میں تاثرات کیسے ہیں۔

پوجا بھٹ نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ میں اپنے گھر آئی ہوں ۔یہاں ملنے والا پیار محبت گھر سے کم تو نہیں مگر زیادہ ضرور ہو سکتا ہے۔ سب سے خاص دوست جو میں نے بنائے وہ یہیں بنائے ہیں۔

عرفان خان گو کہ اس دوران کم ہی بولے لیکن ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور کراچی والوں سے ملنے کا یہ تجربہ خوشگوار اور تاریخی ہے۔

اوم پوری جب اچانک وارد ہوئے تو سب کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوگئی اور صحافیوں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں یہاں آنا کیسا لگا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ تو میرے چہرے سے ظاہر ہے، میں جتنا بشاش اور خوش ہوں اس سے آپ لوگ اندازہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان آنا کیسا رہا ہے۔

بیشتر صحافیوں نے پوجا بھٹ سے یہ ضرور پوچھا کہ ان کی فلموں میں سیکس کے سین اس قدر زیادہ کیوں ہوتے ہیں۔ پوجا اس سوال سے کترائی تو نہیں مگر کوئی ایسا جواب بھی نہ دے پائیں جو صحافیوں کو مطمئن کر پاتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کومیری فلموں کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ یاد کیوں نہیں رہتا۔

سیکس کے بارے میں جب بھی کوئی سوال ہو مجھ سے ہی کیوں کیا جاتا ہے۔ میری پہلی فلم ’تمنا‘ تھی، پھر ’دشمن ‘اور پھر ’جسم‘ بنائی لیکن سب کو صرف ’جسم‘ ہی کیوں یاد رہتی ہے۔

پوجا سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ کارا کے پلیٹ فارم سے اپنی فلم ’روگ‘ کا ورلڈ پریمیئر کیوں کرنا چاہتی ہیں جبکہ بھارت کے مقابلےمیں پاکستانی فلمی صنعت اتنی کامیاب و کمرشل نہیں۔ اس کے جواب میں پوجا نے بڑی گرمجوشی سے کہا کہ میں یہاں سے کچھ لینے نہیں بلکہ کچھ دینے آتی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے رینبو سینٹر سے ’روگ‘ کی موسیقی کی پائیرٹڈ سی ڈی خریدی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی اداکاروں کی آمد سے کارا فلم میلے کو انڈیا میں بہت شہرت ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ’ میری فلموں سے اگر فائدہ ہو تو پاکستان کو ہو یا بھارت کو امریکہ کیوں فائدہ حاصل کرے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد