BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 March, 2005, 02:50 GMT 07:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر بس: تیاریاں زوروں پر

کمان پوسٹ
دریائے جہلم پر کمان پوسٹ کا پل جسے بس کے مسافر پیدل عبور کریں گے۔
دو سال پہلے انڈیا اور پاکستان کی جو فوجیں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار لئے اپنے بنکرز میں چوکس بیٹھی تھیں آج وہ فوجی دریائے جہلم کے اوپر لائن آف کنٹرل پر کمان پوسٹ کے اسُ پل کی تعمیر میں مصروف ہیں جو کشمیر کے دونوں حصوں کو آپس میں ملاتا ہے۔

سات اپریل کو مظفر آباد اور سری نگر کے درمیان چلنے والی بس کے مسافر کمان پوسٹ کے اسی پل کے ذریعے لائن آف کنٹرول کو پار کر کے اپنا تاریخی سفر مکمل کریں گے۔

دونوں ملکوں کے درمیان حال میں ہونے والے امن مذاکرات کے نتیجے میں اس سڑک پر پہلے لگائی گئی خاردار تار اب ہٹا دی گئی ہے۔ انڈین حکام کا کہناہے کہ اب اس علاقے میں لگائی جانے والی بارودی سرنگیں بھی مکمل طور پر ہٹا دی گئی ہیں۔

News image
اووڑی کے قریب اٹھارہ کلومیٹر لمبا ایک ٹکڑا ابھی تک بری حالت میں ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرحدی علاقے اووڑی کے قریب اٹھارہ کلومیٹر لمبا سڑک کا ایک ٹکڑا اب بھی بہت بری حالت میں ہے لیکن بارڈر روڈ آرگنائزیشن کا عملہ اس کی مرمت میں دن رات مصروف ہے۔

دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ واقع یہ سڑک جو پہلے راولپنڈی روڈ کے نام سے جانی جاتی تھی، ہندوستان کی تقسیم سے پہلے جموں اور کشمیر اور باقی تمام انڈیا کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ تھی۔ 1947 کے بعد سے یہ سڑک استعمال میں نہیں تھی لیکن اب سات اپریل سے اس میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔

اگرچے نئی بس سروس میں مسافر ایک ہی بس میں پورا سفر کرنے کی بجائے کمان پوسٹ پر اتر کر دریائے جہلم پر واقع پل پیدل عبور کریں گے اور دوسری بس میں سوار ہو کر آگے روانہ ہونگے، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی ابتدا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی سعید نے تیرہ مارچ کو کمان پوسٹ کے ایک دورے کے موقع پر کشمیر بس سروس کو دونوں ملکوں میں اعتماد کی بحالی کے لئے ایک بہت اہم قدم قرار دیا۔

سڑک کے ساتھ واقع سرحدی قصبوں میں بھی بس سروس کے آغازسے پہلے ہی گہما گہمی شروع ہوگئی ہے اور دکانوں کو سجایا جارہا ہے۔

تاہم سری نگر میں حکام کا کہنا ہے کہ مظفر آباد کے برعکس جہاں ہزاروں کی تعداد میں فارم جاری کئے گئے ہیں، ابھی تک انہیں جاری کردہ ڈیڑھ سو فارموں میں سے صرف تریسٹھ فارم وصول ہوئے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ابھی تک درخواستوں میں کمی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ زیادہ تر منقسم خاندان سری نگر سے دور آباد ہیں جبکہ حکام نے فارم صرف سری نگر میں جاری کئے ہیں۔

 غلام حسنسری نگر بائے روڈ
نو سال سرینگر- راولپنڈی کےدرمیان بس چلائی‘۔
کشمیر:ماضی،مستقبل
کیا نئے سال میں امنگیں برآئیں گی؟
کشمیریوں کی امیدیںکشمیریوں کی امیدیں
بس سروس کی بحالی کے بعد کیا ہوناچاہیے؟
جہاں بس چلے گی
سری نگر سے مظفر آباد 183 کلو میٹر
کشمیری’جنت‘ کے دکھی
کشمیریوں کو روتا دیکھ کر دل رو دیتا ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد