BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 December, 2004, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ماضی اور مستقبل

News image
شاید کشمیری بھی ایک دن دوسرے انسانوں کی طرح زندگی گزاریں گے
گزشتہ ستاون برس سے مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا رہا ہے۔ گزشتہ پندرہ برس میں کشمیر میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔ پوری ایک نسل تشدد اور جبر کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ پچھلے پندرہ سال سے کشمیری عوام کا مستقبل بے یقینی میں گھرا ہوا ہے۔

کشمیری عوام دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح ایک پُرامن، باعزت اور خوشحال زندگی کے خواہاں ہیں۔ تو کیا کشمیر کے عوام کی تمنائیں اور امنگیں و احساسات تکمیل کے مراحل میں ہیں؟ یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن گزشتہ چند برس میں عالمی سطح پر یہ احساس شدت اختیار کر گیا ہے کہ کشمیر ایک خطرناک مسئلہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اسے حل کرنے کے لیے پوری دنیا میں کئی سطحوں پر پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔ خود پاکستان اور ہندوستان نے بھی بین الاقوامی دباؤ میں صورت حال بہتر بنانے کے لیے چند اقدامات کیے ہیں۔

دلی میں زیرِعلاج سخت گیر کشمیری علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کا کہنا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔۔۔ وہ کہتے ہیں ’ہندوستان کی طرف سے فوج اپنے بے پناہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جدوجہد آزادی کو کچلنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہاں آج بھی چھاپے مارے جاتے ہیں، مکانوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے۔ دھماکے کیے جاتے ہیں اور بےقصور افراد پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے انہیں ہلاک کیا جا رہا ہے‘۔

کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق کا خیال ہے کہ اب ہر جانب مسئلے کے حل کے لیے خواہش پیداہو رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’تمام جانب سے، ہماری طرف سے، آزاد کشمیر کی طرف سے، ہر طرف تمام فریقین میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے‘۔

اس ماہ کے وسط میں کشمیر تنازعے کا کوئی حل تلاش کرنے کے لیے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔اس میں پہلی بار دونوں جانب کے کشمیری رہنما ایک ساتھ شریک ہوئے۔

News image

اس کانفرنس کا اہتمام پگواش نامی تنظیم نے کیا تھا۔ اس کے سیکریٹری جنرل پاؤلو کوتارومیی سینو نے کہا کہ ’ہم نے مذاکرات کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی ہے۔ ستاون سال گزر جانے کے بعد بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور اس مسئلے کو ایک دن میں حل کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی‘۔

حریت کانفرنس کے سینیئر رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ کا خیال ہے کہ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگي کا سب سے اہم سبب ہے۔ اور بقول ان کے اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

کشمیر کے بارے میں ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایک عرصے سے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس میں فرق صرف اتنا آیا ہے کہ دونوں فریق کشمیر پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔

نئی سوچ
 ’مسئلہ حل کرنے کے لیے جو پرانا طریقہ تھا وہ ناکام ہو چکا ہے۔ معاملہ بہت پرانا ہے اور اب اس میں نئی سوچ آنی چاہیے ‘
سجاد لون

جموں و کشمیر کی پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد لون کہتے ہیں کہ کشمیر کے بارے میں ایک نئی سوچ اور نئے طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

’57 سال سے ہندوستان اور پاکستان اس مسئلے کے حل کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔ مسئلہ حل کرنے کے لیے جو پرانا طریقہ تھا وہ ناکام ہو چکا ہے۔ معاملہ بہت پرانا ہے اور اب اس میں نئی سوچ آنی چاہیے ۔ آج کے زمانے کے اعتبار سے ہمیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘۔

News image

حالیہ مہینوں میں کشمیر پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے تنازعے کے حل سے متعلق نئی تجاویز بھی آئیں۔ خود ہندوستان کا بات چیت کے لیے راضی ہو جانا ہی کشمیر سے متعلق اس کے سخت موقف میں نرمی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے سابق خارجہ سیکریٹری جی پارتھا سارتھی ان دنوں کشمیر تنازعے سے متعلق ٹریک ٹو ڈپلومیسی یا غیر سرکاری کوششوں میں مصروف ہیں۔ مسٹر پارتھا سارتھی کا خیال ہے کہ عوامی سطح پر صورت حال یقیناً بدل رہی ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کشمیر کے حوالے سے متعدد اقدامات کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جب کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ حقیقتاً دونوں ملکوں کے سفارتخانے دونوں ملکوں کے شہریوں کو ہراساں کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے شہری ایک دوسرے کے یہاں عام انسان نہیں بلکہ جاسوس کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور جو بس و ریل گاڑی سروس چل رہی ہے ان میں سفر میں جو دشواریاں اور سختیاں جھیلنی ہوتی ہیں ان کے بارے میں مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ سروس نہیں انسانی تہذیب کا المیہ ہیں۔

آج کشمیری عوام بے بسی اور لاچاری کی ایک تصویر ہیں۔ جنگ بندی کے بعد وادی میں حالات نسبتاً بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئي ہے۔ شورس زدہ وادی سے دور دلی اور اسلام آباد اور کئی دیگر مقامات پر اکثر سنائی دیتا ہے کہ مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں تو اس لحاظ سے کیا مستقبل قریب میں کوئی حل سامنے آنے والا ہے؟

خود ارادیت
 ’جب تک ہندوستان کشمیر کے سلسلے میں حقیقت پسندی کا ثبوت نہیں دیتا اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم نہیں کرتا تب تک موجودہ صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی‘۔
سید علی شاہ گیلانی

سید علی شاہ گیلانی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ’صحافیوں، گلوکاروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل وفود کے ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جب تک ہندوستان کشمیر کے سلسلے میں حقیقت پسندی کا ثبوت نہیں دیتا اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم نہیں کرتا تب تک موجودہ صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی‘۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عتیق احمد خاں کہتے ہیں کہ کشمیر اب پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور اب اس کے حل سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ ’پوری دنیا کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور ٹکراؤ کی سب سے اہم وجہ تصور کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا جوہری ٹکراؤ کا خطرہ برقرار رہےگا‘۔

امید اور ناامیدی کے درمیان کشمیر کے عوام کسی حل کے انتظار میں تھک تو ضرور گئے ہیں لیکن مایوس نہیں ہوئے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ شاید اس منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں جب وہ کسی پر اعتبار نہیں کر سکیں گے۔

پورا کشمیر بے بسی کی ایک تصویر ہے۔ سون مرگ، پہلگام اور گلمرگ کی برف پوش پہاڑیوں میں فطرت کے حسین اور بے داغ مناظر توپ کے دہانوں اور فوجی بوٹوں کی دھمک اور موت کے سناٹے کے حقائق میں کہیں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اور یہاں پائی جانے والی خاموشی بہت کچھ بیان کرتی ہے۔

شاید کشمیر کے عوام بھی ایک دن دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح خود داری، وقار، عزت اور امن کی زندگی گزار سکیں گے۔ کشمیری اس وقت صرف تمنا کر سکتے ہیں۔

تبدیلیوں کا سال
2004 ہندوستانی سیاست میں ہنگامہ خیز سال رہا
اس سال کی مقبول اور بہترین تصویری کہانیوں سے انتخاببہترین تصویر کہانیاں
اس سال کی بہترین تصویری کہانیاں
جھنڈےپاک ہند رابطے
2004 پاک و ہند دوستی کے اظہار کا سال تھا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد