کشمیر: ماضی اور مستقبل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ ستاون برس سے مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا رہا ہے۔ گزشتہ پندرہ برس میں کشمیر میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔ پوری ایک نسل تشدد اور جبر کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ پچھلے پندرہ سال سے کشمیری عوام کا مستقبل بے یقینی میں گھرا ہوا ہے۔ کشمیری عوام دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح ایک پُرامن، باعزت اور خوشحال زندگی کے خواہاں ہیں۔ تو کیا کشمیر کے عوام کی تمنائیں اور امنگیں و احساسات تکمیل کے مراحل میں ہیں؟ یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن گزشتہ چند برس میں عالمی سطح پر یہ احساس شدت اختیار کر گیا ہے کہ کشمیر ایک خطرناک مسئلہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسے حل کرنے کے لیے پوری دنیا میں کئی سطحوں پر پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔ خود پاکستان اور ہندوستان نے بھی بین الاقوامی دباؤ میں صورت حال بہتر بنانے کے لیے چند اقدامات کیے ہیں۔ دلی میں زیرِعلاج سخت گیر کشمیری علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کا کہنا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔۔۔ وہ کہتے ہیں ’ہندوستان کی طرف سے فوج اپنے بے پناہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جدوجہد آزادی کو کچلنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہاں آج بھی چھاپے مارے جاتے ہیں، مکانوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے۔ دھماکے کیے جاتے ہیں اور بےقصور افراد پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے انہیں ہلاک کیا جا رہا ہے‘۔ کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق کا خیال ہے کہ اب ہر جانب مسئلے کے حل کے لیے خواہش پیداہو رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’تمام جانب سے، ہماری طرف سے، آزاد کشمیر کی طرف سے، ہر طرف تمام فریقین میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے‘۔ اس ماہ کے وسط میں کشمیر تنازعے کا کوئی حل تلاش کرنے کے لیے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔اس میں پہلی بار دونوں جانب کے کشمیری رہنما ایک ساتھ شریک ہوئے۔
اس کانفرنس کا اہتمام پگواش نامی تنظیم نے کیا تھا۔ اس کے سیکریٹری جنرل پاؤلو کوتارومیی سینو نے کہا کہ ’ہم نے مذاکرات کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی ہے۔ ستاون سال گزر جانے کے بعد بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور اس مسئلے کو ایک دن میں حل کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی‘۔ حریت کانفرنس کے سینیئر رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ کا خیال ہے کہ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگي کا سب سے اہم سبب ہے۔ اور بقول ان کے اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ کشمیر کے بارے میں ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایک عرصے سے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس میں فرق صرف اتنا آیا ہے کہ دونوں فریق کشمیر پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔
جموں و کشمیر کی پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد لون کہتے ہیں کہ کشمیر کے بارے میں ایک نئی سوچ اور نئے طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ ’57 سال سے ہندوستان اور پاکستان اس مسئلے کے حل کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔ مسئلہ حل کرنے کے لیے جو پرانا طریقہ تھا وہ ناکام ہو چکا ہے۔ معاملہ بہت پرانا ہے اور اب اس میں نئی سوچ آنی چاہیے ۔ آج کے زمانے کے اعتبار سے ہمیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘۔
حالیہ مہینوں میں کشمیر پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے تنازعے کے حل سے متعلق نئی تجاویز بھی آئیں۔ خود ہندوستان کا بات چیت کے لیے راضی ہو جانا ہی کشمیر سے متعلق اس کے سخت موقف میں نرمی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے سابق خارجہ سیکریٹری جی پارتھا سارتھی ان دنوں کشمیر تنازعے سے متعلق ٹریک ٹو ڈپلومیسی یا غیر سرکاری کوششوں میں مصروف ہیں۔ مسٹر پارتھا سارتھی کا خیال ہے کہ عوامی سطح پر صورت حال یقیناً بدل رہی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کشمیر کے حوالے سے متعدد اقدامات کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جب کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ حقیقتاً دونوں ملکوں کے سفارتخانے دونوں ملکوں کے شہریوں کو ہراساں کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے شہری ایک دوسرے کے یہاں عام انسان نہیں بلکہ جاسوس کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور جو بس و ریل گاڑی سروس چل رہی ہے ان میں سفر میں جو دشواریاں اور سختیاں جھیلنی ہوتی ہیں ان کے بارے میں مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ سروس نہیں انسانی تہذیب کا المیہ ہیں۔ آج کشمیری عوام بے بسی اور لاچاری کی ایک تصویر ہیں۔ جنگ بندی کے بعد وادی میں حالات نسبتاً بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئي ہے۔ شورس زدہ وادی سے دور دلی اور اسلام آباد اور کئی دیگر مقامات پر اکثر سنائی دیتا ہے کہ مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں تو اس لحاظ سے کیا مستقبل قریب میں کوئی حل سامنے آنے والا ہے؟
سید علی شاہ گیلانی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ’صحافیوں، گلوکاروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل وفود کے ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جب تک ہندوستان کشمیر کے سلسلے میں حقیقت پسندی کا ثبوت نہیں دیتا اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم نہیں کرتا تب تک موجودہ صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی‘۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عتیق احمد خاں کہتے ہیں کہ کشمیر اب پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور اب اس کے حل سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ ’پوری دنیا کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور ٹکراؤ کی سب سے اہم وجہ تصور کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا جوہری ٹکراؤ کا خطرہ برقرار رہےگا‘۔ امید اور ناامیدی کے درمیان کشمیر کے عوام کسی حل کے انتظار میں تھک تو ضرور گئے ہیں لیکن مایوس نہیں ہوئے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ شاید اس منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں جب وہ کسی پر اعتبار نہیں کر سکیں گے۔ پورا کشمیر بے بسی کی ایک تصویر ہے۔ سون مرگ، پہلگام اور گلمرگ کی برف پوش پہاڑیوں میں فطرت کے حسین اور بے داغ مناظر توپ کے دہانوں اور فوجی بوٹوں کی دھمک اور موت کے سناٹے کے حقائق میں کہیں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اور یہاں پائی جانے والی خاموشی بہت کچھ بیان کرتی ہے۔ شاید کشمیر کے عوام بھی ایک دن دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح خود داری، وقار، عزت اور امن کی زندگی گزار سکیں گے۔ کشمیری اس وقت صرف تمنا کر سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||