کشمیری رہنماؤں کی پہلی ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گذشتہ کئی دہائیوں میں پہلی بار لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے کشمیری رہنما ایک ساتھ بیٹھ کر کشمیر کے سوال پر نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں گفتگو کررہے ہیں۔ ان کی یہ گفتگو تین دن تک جاری رہے گی۔ اس کانفرنس کا اہتمام امن کے لیے کام کرنے والی غیرسکاری تنظیم پگواش نے کیا ہے۔امن کے لیے نوبل انعام یافتہ تنظیم پگواش عالمی مسائل پر معروف سکالرز اور رہنماؤں کو دعوت فکر دیتی ہے تاکہ وہ تنازعات کے غیرمسلح حل کے لیے بات چیت کرسکیں گے۔ پگواش کے سیکرٹری جنرل پروفیسر پاؤلو کوٹا راموسینو کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ہندوستان اور پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک ساتھ جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم نے انہیں کشمیر کے دیرینہ تنازعہ پر بحث و مباحثے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔‘ یہ کانفرنس اتوار کی صبح کٹھمنڈو کے ہوٹل ہائٹ ریجنسی میں شروع ہوئی اور اس میں دونوں کشمیر کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے تقریبا پچاس نمایاں سیاست داں، سابق بیوروکریٹ، سابق فوجی جنرل اور دانشور حصہ لے رہے ہیں۔ کشمیری رہنماؤں میں پاکستان کی جانب کے کشمیر سے سردار عتیق احمد خان، بیرسٹر سلطان محمود اور خالد ابراہیم خاں، اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے میرواعظ عمرفاروق، پروفیسر عبدالغنی بھٹ، سجاد لون اور محمد عبداللہ طاری کے نام قابل ذکر ہیں جو اس کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔ امان اللہ خان اور یسین ملک نے بھی اس کانفرنس کے لیے اپنے نمائندے بھیجے ہیں جبکہ نیویارک سے کشمیر اسٹڈی گروپ کے فاروق کاٹھواری یہاں موجود ہیں۔ کانفرنس کے ایجنڈے کے بارے میں منتظمین نے ابھی تک میڈیا کو کچھ نہیں بتایا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق اس میں کشمیر سے متعلق تین بنیادی سوالوں پر غور و خوض کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلے دونوں جانب کے کشمیر کے درمیان براہ راست بحث و مباحثے کا آغاز کرنا ہے۔ ایجنڈے کا دوسرا موضوع اس پہلو پر غور کرنا ہے کہ کشمیر کے اندر اعتماد سازی کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ اور آخر میں اس پر غور کیا جانا ہے کہ ہند پاک مذاکرات اور اعتمادسازی کے عمل کو کس طرح تیز کیا جائے۔ کشمیر کے تنازعہ کے ان تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے لیے تین ورکنگ گروپ تشکیل دیے گئے ہیں۔ مختلف رہنما اور دانشور اس سلسلے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ یہ کانفرنس پیر اور منگل کو بھی جاری رہے گی۔ کانفرنس کے دوران بیشتر رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی کانفرنس سے کشمیر کے مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ ایک پہلو پر کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے اور وہ یہ کہ مسئلہ کشمیر حل کیا جائے اور اس عمل میں کشمیریوں کو ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||