کشمیر: کٹھمنڈو میں بات چیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے موضوع پر معروف غیرسرکاری تنظیم پگواش کی جانب سے آئندہ ماہ نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں چار روزہ کانفرنس منقعد کی جارہی ہے جس میں دونوں جانب کے کشمیری رہنما شرکت کرسکیں گے۔ امن کے لیے نوبل انعام یافتہ تنظیم پگواش عالمی مسائل پر معروف سکالرز اور رہنماؤں کو دعوت فکر دیتی ہے تاکہ وہ تنازعات کے غیرمسلح حل کے لیے بات چیت کرسکیں گے۔ کٹھمنڈو کانفرنس کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے رہنماؤں کے علاوہ لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب سے کشمیری رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔ پگواش نے ان رہنماؤں کو لکھے اپنے خط میں کہا ہے کہ حال میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ’نئی مثبت پیش رفت‘ ہوئی ہے اور ’بہتر تعلقات کے لیے پرخلوص دلچسپی‘ دیکھی جارہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ڈائیلاگ ایک ایسے فریم ورک میں ہونا چاہئے جس میں جموں اور کشمیر کے عوام کی رائے کا اظہار ممکن ہوسکے۔ اس کانفرنس میں حریت کانفرنس کے رہنما عمر فاروق، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے رہنما شبیر شاہ اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک شرکت کریں گے۔ لیکن سید علی شاہ گیلانی کو، جو حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کی رہنمائی کرتے ہیں، اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ کٹھمنڈو کانفرنس کے دوران شرکاء جنرل پرویز مشرف کی تجاویز پر غور کریں گے۔ پگواش کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے شرکاء اپنی تنظیم کی نمائندگی نہیں کریں گے، بلکہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں بات چیت کریں گے۔ پگواش نے کہا کہ اس بات کی کوشش نہیں کی جائے گی کہ کانفرنس کسی حتمی اتفاق رائے پر پہنچے بلکہ کوشش یہ ہوگی کہ خیالات کا تبادلہ ہو۔ اس کانفرنس کے بعد کوئی بیان یا اعلامیہ نہیں جاری کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||