تجارت کا فروغ مسئلہ کشمیر کا حل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین بہتر تجارتی تعلقات سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تیزی آ سکتی ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ پاکستانی وزیرِاعظم کے دورہ بھارت کے بعد صحافیوں سے باتیں کر رہے تھے۔ ادھر اسلام آباد میں شوکت عزیز نے سیاسی اور فوجی حکام کو اپنے دورۂ بھارت کے بارے تفصیلات بتائیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاک بھارت بات چیت کے اس دور میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ نئی دہلی میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے نٹور سنگھ نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے پاکستان کو بھارت اور چین کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادیات ایک قابلِ قبول سیاسی نتیجے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کہ بھی اعلان کیا کہ بھارت کے سیکرٹری خارجہ شیام شرن اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ سری نگر- مظفر آباد بس سروس کے آغاز پر بات چیت ہوگی۔ بھارتی دورہ کے دوران شوکت عزیز نے کشمیری رہنماؤں سے عشائیہ پر ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے کشمیر کو آزاد دیکھنے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والے دونوں گروہوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ بھارتی وزیرِ اعظم کے ساتھ مذاکرات کے بعد پاکستانی وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے کہا تھا کہ باہمی مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھنے کا انحصار متنازعہ علاقے کا حل ڈھونڈنے میں ترقی پر ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||