’کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھارت کے دو روز کے دورے کے اختتام پر بتایا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور دوسرے رہنماؤں سے مذاکرات مثبت رہے اور باہمی امور کے ہر موضوع پر بات ہوئی لیکن یہ مذاکرات کشمیر کے سوال پر آکر ایک بار پھر رک گئے۔ دورے کا جائزہ لیتے ہوئے دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ بظاہر پاکستانی وزیرِ اعظم کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ شوکت عزیز کے دورے سے پہلے یوں دکھائی دیتا تھا جیسے کوئی بڑی کامیابی ہوگی۔ دونوں رہنماؤں نے بات چیت کے بعد دورے کومثبت قرار دیا لیکن بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سری نگر مظفر آباد بس سروس شروع کرنے کا معاملہ جوں کا توں ہے اور ایران گیس پائپ لائن کی صورتِ حال میں بھی بظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ دونوں حکومتوں کے درمیان پہلے جو معاملات طے پائے تھے اور پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ممبئی میں پاکستانی قونصل خانہ کھولنے کے لیے ابھی تک زمین تک حاصل نہیں کی جا سکی۔ پہلے جن مسائل پر بات چیت ہو رہی تھی وہ اب سست ہو گئی ہے۔ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے پر اگرچہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن بھارت نے ایسے کوئی اشارہ نہیں دیا۔ اعتماد سازی کے اقدامات تقریباً رک گئے ہیں اور جامع مذاکرات ہو رہے ہیں مگر ان کی سمت کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ دنوں ملکوں میں کشمیر کے معاملے پر اختلافات ہیں لیکن بین الاقوامی دباؤ کے باعث دونوں ہی بات چیت سے کنارہ کش نہیں ہو رہے۔ اس بات چیت پر پاکستان میں بھی بجھا بجھا سا رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستانی مبصروں نے بس اتنا کہا ہے کہ ’اس ابتدائی بات چیت سے ہم بہت زیادہ توقعات نہیں رکھتے تھے۔‘ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگوں کو امید تھی کہ بھارت صدر مشرف کی اتنی بڑی پیش کش کا بڑھ کر خیر مقدم کرے گا جس میں انہوں نے کشمیریوں کے حق خود ارادی کا مطالبہ ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||