’مثبت ہے‘ ، ’ نہیں فریبِ نظر ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے سیاسی اور عسکریت پسند رہنماؤں نے کشمیر میں فوج میں کمی کے بھارتی اعلان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کشمیری سیاستدان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی حکومتی جماعت مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عبدالقیوم خان نے کشمیر میں بھارتی فوج میں کمی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔انہوں نے اس عمل کو کشمیر کے زیادہ آبادی والے علاقے سے شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کشمیریوں کو کچھ سکون میسر آئے گا۔ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے سابق وزیرِاعظم چوہدری سلطان محمود کا کہنا تھا کہ کشمیر میں فوجوں میں کمی کا عمل ایک بھارتی چال ہے اور اس سے وادی کے حالات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ اور مخلص ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کشمیر سے اپنی تمام افواج واپس بلا لے یا کم از کم پہلے مرحلہ میں کشمیر کے تمام شہروں اور قصبوں سے فوج کو ہٹایا جائے۔ متعدد عسکریت پسند گروہوں کے نمائندہ اتحاد یونائٹڈ جہاد کونسل نے بھارت کے اس عمل کو فریبِ نظر قرار دیا ہے۔ کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہے کہ یہ عمل نہ صرف دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے بلکہ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی پردہ پوشی کے لیے بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری ان بھارتی چالوں سے واقف ہیں اور وہ اس دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ 75000 فوجیوں میں سے 40000 کی واپسی بالکل بےمعنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارتی فوجوں میں کمی کے لیے نہیں بلکہ کشمیر سے فوجوں کی مکمل واپسی کے لیے برسرِ پیکار ہیں اور ان کی جدوجہد بھارت سے آزادی تک جاری رہے گی۔ کشمیر کی مکمل خودمختاری کے حامی آل پارٹیز نیشنل الائنس(APNA) نے بھارت کے اس عمل کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس گروہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو کشمیر سے اپنی اپنی افواج ہٹا لینی چاہییں اور وادی کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ ان کی خواہشات کے مطابق کرنے دینا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||