’ کشمیر سے مزید فوج بلاسکتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپنے پہلے دورۂ کشمیر کے موقع پر ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امن کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ منموہن سنگھ نے اس موقع پر کشمیر سے مزید بھارتی فوج کی واپسی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ وزیرِ اعظم کے دورۂ کشمیر کے موقع پر بھارت نے پہلے بھی متنازعہ علاقے سے اپنی کچھ فوج واپس بلانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سری نگر سے پچپن کلومیٹر دور اننت ناگ سے بھارت فوج کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔ یہ 1989 کے بعد پہلا موقع ہے کہ فوج کی تعداد میں کمی کی گئی ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ عمل سفارتی اور فوجی نقطہ نگاہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ادھر بھارتی زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی آمد سے چند گھنٹے قبل عسکریت پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان جھڑپ میں دو عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپ سری نگر میں امر سنگھ کرکٹ اسٹیڈیم کے نزدیک ہوئی جہاں منموہن سنگھ کو ایک عوامی جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ وزیراعظم کی آمد کے پیش نظر سری نگر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ وادی میں منموہن سنگھ کے دورہ کشمیر کے موقع پر علیحدگی پسند گروہوں کی ہڑتال کی اپیل پر تمام کاروباری مراکز بند رہے۔ سرکاری طور پر منموہن سنگھ کی ریلی کو کامیاب بنانے کےلیے کوششیں کی جا رہی تھیں۔ سری نگر کے باہر سے بھی لوگوں کو خصوصی بسوں کے ذریعے جلسہ گاہ میں لایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||