BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 December, 2004, 19:43 GMT 00:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری رہنماؤں کی پہلی ملاقات
کشمیر
وہ پل جو بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے
مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہنما پہلی بار نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ملاقات کررہے ہیں۔

اس غیر رسمی ملاقات کا انتظام کینیڈا کی ایک غیر سرکاری تنظیم پگواش نے کیا ہے۔

امن کے لیے نوبل انعام یافتہ تنظیم پگواش عالمی مسائل پر معروف سکالرز اور رہنماؤں کو دعوت فکر دیتی ہے تاکہ وہ تنازعات کے غیرمسلح حل کے لیے بات چیت کرسکیں گے۔

اس کانفرنس میں حریت کانفرنس کے رہنما عمر فاروق، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے رہنما شبیر شاہ اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک شریک ہیں۔ لیکن سید علی شاہ گیلانی کو، جو حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کی رہنمائی کرتے ہیں، اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

اے پی ایچ سی کے ترجمان میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کی جانب سے اس کانفرنس میں شرکت کی اجازت دیئے جانے کو ایک اچھا اقدام قرار دیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرکردہ رہنماؤں میں سردار عتیق احمد شامل ہیں جو حکمراں مسلم کانفرنس کے صدر ہیں۔

کھٹمنڈو سے بی بی سی اردو سروس کے شکیل اختر نے اطلاع دی ہے کہ یہ کانفرنس دو دن تک جاری رہی گی اور کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ قرار داد بھی منظور کی جائے گی۔

کانفرنس کا مقصد دونوں ملک کے عوام کو مسئلہ کشمیر کے پر امن کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا بھی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد