انتخابی ریلی پر حملہ، آٹھ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک انتخابی ریلی پر حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس حملے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر بال بال بچ گئیں تاہم ریاست کے وزیر خزانہ مظفر حسین بیگ اور وزیر سیاحت غلام حسن میر زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق مشتبہ عسکریت پسندوں نے سرحدی ضلع اُڑی میں کشمیر کی حکمراں جماعت پییلز ڈیمو کریٹک پارٹی پر دستی بم پھینکا۔ جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر چار بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ پچیس دوسرے افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایک تنظیم جمیعت المجاہدین نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پی ڈی پی سرینگر سے مظفرآباد کے درمیان بس سروس سے متعلق مذاکرات بحال کرنے پر زور دینے کے لیے یہ ریلی کررہی تھی۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو لشکرِ طیبہ کے ایک ضلعی کمانڈر کو ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق یہ جھڑپ سری نگر سے ایک سو کلومیٹر شمال میں واقع کپواڑہ ضلع کے علاقے گاچی میں ہوئی۔ بدھ کو کل جماعتی حریت کانفرنس نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔ ہلاک کیے جانے والے کمانڈر کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کا نام محمد شکیل تھا اور وہ پاکستان کا رہنے والا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ جب اس مبینہ کمانڈر کی نعش ہٹائی ہٹائی جا رہی تھی تو ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں چار فوجی ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ایک قریبی فوجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور ان میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ ترجمان نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ سوغام کے علاقے میں ایک جھڑپ میں جیش محمد کے سالار اعلیٰ صحرائی بابا اور چار دوسرے شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ صحرائی بابا کو غازی بابا کی ہلاکت کے بعد جیش محمد کا سالار بنایا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بارے میں جیش محمد کی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||