BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 December, 2004, 18:38 GMT 23:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک و ہند: دوستی کےاظہار کا سال

واہگہ
کیا اب ہم دشمن کی بجائے دوست بن چکےہیں؟
پاکستان اور ہندوستان کے تناظر میں سن دو ہزار چار کی خاص بات دونوں ممالک کے عوام اور حکمرانوں کے درمیان جاری رہنے والے رابطے اور مسلسل دوستی کا اظہار تھا۔

اس بات کا تعین ابھی مشکل ہے کہ اب یہ دونوں ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھتے، ان میں بے اعتباری اور شک کی فضا ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے اور اب پاک ہند جنگ کبھی نہیں ہو گی۔ عالمی ماحول کی وجہ سے لڑائی کا امکان تو شاید معدوم ہو جائے لیکن اسلحہ کی دوڑ اور دفاعی اخراجات بحرحال جاری ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعے کی بنیادی وجہ کشمیر ہے جو فریقین کے درمیان قومی وقار کا معاملہ بن چکا ہے۔ اس تنازعے کے حل کے لیے کوششوں کا ایک مثبت پہلو فریقین کا فوجی حل کے امکان کو رد کرنا ہے۔

سندھ، کشمیر سرحد پار رابطے
 سفری سہولتوں کے معاملے کو پاک ہند تناظر میں ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ لیکن سرحد کے دونوں طرف منقسم خاندانوں کے لیے کشیدگی کی قیمت اپنوں سے علحیدگی ہے۔
پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں متحرک نیاز اے نائک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے آٹھ نکات کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے کشمیر، جوہری ہتھیار اور سلامتی کو اہمیت حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کشمیر کے معاملے میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض ہندوستانی وزرا کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نقطہ نظر سخت ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان بیانات میں کشمیر کو ہندوستان کا ’اٹوٹ انگ‘ بھی کہا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر کا مسئلہ اس کی ہندوستان کے آئین میں حیثیت تبدیل کیے بغیر تلاش کرنا ہوگا۔

نیاز نائک کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کچھ حل تجویز کیے ہیں لیکن ہندوستان کی طرف سے کوئی تجویز سامنے نہیں آئی۔

ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں فوج کی کمی کے اعلان کو اعتماد کی بحالی کے لیے کافی اہمیت حاصل ہے۔

ہندوستان ٹائمز سے وابستہ صحافی ونود شرما اس سال کے دوران پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک ہند تعلقات کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔

معاہدوں سے دوستی نہیں ہوگی
 پاک ہند کے بارے میں یہ سمجھنا پڑے گا کے ان کے تعلقات کسی ’اقرار نامے‘ پر دستخط سے درست نہیں ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے عوام امن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں گے اور بات اگے بڑھتی رہے گی
ونود شرما
انہوں نے کہا بات چیت کا عمل شروع کیا گیا جو اب بھی جاری ہے اور یہی سال دو ہزار چار کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے عمل کو اب واپس نہیں موڑا جا سکتا۔

ونود شرما نے کہا کہ پاک ہند کے بارے میں یہ سمجھنا پڑے گا کے ان کے تعلقات کسی ’اقرار نامے‘ پر دستخط سے درست نہیں ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے عوام امن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں گے اور بات اگے بڑھتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سے لوگوں کا آنا جانا اس سلسلے میں اہم ثابت ہوگا۔

سن دو ہزار چار کو بجا طور ہر رابطوں کا سال کہا جا سکتا ہے۔ رابطے جو سربراہی، عوامی، ثقافتی اور خفیہ سطح پر سال بھر جاری رہے۔

بالی وڈ کی معروف اداکارائیں اور اداکار پاکستان آئے، پاکستانی اداکاراؤں نے بالی وڈ کی مہمان نوازی دیکھی۔ دونوں طرف سے طالب علموں، وکلاء اور صحافیوں کے وفود بھی سرحد پار آتے جاتے رہے۔

پاکستان سے بچے علاج کے لیے ہندوستان گئے اور مزید لوگوں کو علاج کی پیشکش کی گئی۔

سال بھر دوستی کے اقتصادی فوائد اور اس کے خطے کے عوام کے لیے امکانات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت ہندوستان اور پاکستان کا ایک دوسرے کے صحافیوں کو اپنے اپنے زیر انتظام کشمیر کے دورے کرنے کی اجازت دینا تھا۔

حالیہ دو برسوں کے دوران جاری رہنے والی کشیدگی اور سرحدوں پر تناؤ کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ رابطے معمولی پیش رفت نہیں تھے۔ خاص طور پر جب ان کوششوں کے ساتھ ساتھ میزائلوں کے تجربات، اسلحہ کا حصول اور اس بابت ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پاکستان اور ہندوستان اس سے پہلے بھی امن کے لیے مذاکرات کا آغاز کرتے رہے ہیں لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہیں رہتا تھا۔ اس سلسلے میں انیس سو نناوے میں کے’لاہور ڈکلیریشن‘ کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ یہ عمل کارگل کی لڑائی کی نذر ہو گیا۔

سن دو ہزار چار کے رابطوں کا آغاز جنوری میں، اسلام آباد میں ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی سے ملاقات کے ساتھ، اس اُمید پر ہوا تھا کہ مذاکرات کا عمل مستقل امن کا باعث بنےگا۔

وقت لگے گا
 پانچ سال قبل ’لاہور ڈکلیریشن‘ میں بھی ’حادثاتی جوہری جنگ‘ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا تھا۔ ان رکاوٹوں کے پیچھے یقیناً پانچ دہائیوں کی بداعتمادی کی فضا ہے جو چھٹنے میں اپنا وقت لے گی۔
سال کے اختتام پر اس عمل کی سب سے بڑی کامیابی یہی سمجھی جارہی ہے کہ اختلافات کے باوجود مایوسی کی بجائے حکومتی سطح پر بات چیت جاری رکھنے کا اعادہ کیا جاتا اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے وفود کے ہندوستان اور پاکستان کے دورے جاری ہیں۔

لیکن کیا یہ کامیابی کافی ہے؟ مشرف واجپئی کی طرف سے امید کے اظہار کے بارہ ماہ بعد بعض حلقوں کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بے چینی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

اس کی ایک مثال حال ہی میں جوہری جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے نہ ہونا ہے۔

پانچ سال قبل ’لاہور ڈکلیریشن‘ میں بھی ’حادثاتی جوہری جنگ‘ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا تھا۔

ان رکاوٹوں کے پیچھے یقیناً پانچ دہائیوں کی بداعتمادی کی فضا ہے جو چھٹنے میں اپنا وقت لے گی۔

ستمبر کے پہلے ہفتے میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی دِلّی میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں بہت سی کمیٹیوں کا اعلان کیا گیا۔

ملاقات کے بعد وزرائے خارجہ نے اہم موضوعات پر اپنے اختلافات کا بھی کھل کر اظہار کیا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ کشمیر میں پاکستانی شدت پسندوں کی در اندازی جاری ہے۔ پاکستان نے ’بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔

لیکن تجزیہ نگاروں نے اختلاف رائے کے اسی اظہار کو کامیابی قرار دیا کیونکہ ان کے خیال میں اس کو بات چیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا گیا۔

اہم کامیابی
 تجزیہ نگاروں نے اختلاف رائے کے اسی اظہار کو کامیابی قرار دیا کیونکہ ان کے خیال میں اس کو بات چیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا گیا۔
دیگر معاملات میں تجارت اور سفری سہولتیں شامل تھیں۔ سفری سہولتوں کے معاملے کو پاک ہند تناظر میں ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ لیکن سرحد کے دونوں طرف منقسم خاندانوں کے لیے کشیدگی کی قیمت اپنوں سے علحیدگی ہے۔

ان خاندانوں کے لیے سندھ اور کشمیر میں بس یا ریل سروس کا آغاز انتہائی راحت کا باعث ہوگا۔ لیکن ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

سال دو ہزار چار کے دوران پاک ہند رابطے

جنوری
پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی
اسلام آباد میں ملاقات۔

کشمیری علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس اور بھارت حکومت کے درمیان دِلّی میں پہلی ملاقات۔

فروری
تین سال میں پہلی بار پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ بات چیت جس میں کشمیر ایجنڈے پر شامل تھا۔

مارچ
پندرہ سال بعد بھارت کرکٹ ٹیم کا پاکستان کا دورہ اور زبردست استقبال۔

مئی
ہندوستان کے نئے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا اعادہ۔

جون
پاکستان اور بھارت کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر پابندی جاری رکھنے کا فیصلہ۔

ستمبر
پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی دِلّی میں ملاقات۔ کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہو سکا لیکن فریقین نے کچھ پیش رفت کی بات کی۔

صدر مشرف اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کی نیو یارک میں ملاقات۔ کشمیر تنازعہ کی تاریخ میں پہلی بار دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس مسئلہ کے حل کے لیے مختلف امکانات پر بات چیت کی۔

اکتوبر
صدر مشرف نے مسئلہ کشمیر کے لیے کچھ اہم تجاویز پیش کیں۔ ان میں کشمیر کو ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دے کر پاکستان اور بھارت کے مشترکہ انتظامی کنٹرول میں دینے کی تجویز شامل ہے۔

صدر مشرف نے کشمیر میں استصواب رائے کے مطالبے سے دستبرداری کے امکان کی بات کی۔

بھارت نے ان تجاویز پر زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا اور پاکستان سے سرکاری ضابطے کے ذریعے بات چیت کرنے کے لیے کہا۔

نومبر
بھارت نے کشمیر میں فوج کم کرنے کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد