کرکٹ تو بہانہ ہے دوستی کو بڑھانا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بچوں پر مشتمل ایک غیر سرکاری کرکٹ ٹیم منگل کو واہگہ کے راستے بھارت جا رہی ہے جہاں وہ امن کے میچ کھیلیں گے اور پیار کے گیت گائیں گے۔ بائیس رکنی ٹیم کے علاوہ وفد میں ایک این جی او سے تعلق رکھنے والے سات دیگر افراد بھی شامل ہیں جبکہ کرکٹ ٹیم میں بارہ کم عمر لڑکے اور دس بچیاں شامل ہیں۔ تمام کا تعلق پنجاب اور سندھ کے پسماندہ علاقوں اور غریب گھرانوں سے ہے۔ یہ بچے بھارت کے نو شہروں، امرتسر ، دہلی ، آگرہ ،کولکتہ ،ممبئی ،بھوپال ، احمد آباد،اور حیدر آباد جائیں گےاور گلی محلوں میں پلنے والے غریب بچوں سے ملیں گے۔ اس وفد کی سربراہ غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی این جی او ’ایکشن ایڈ انٹر نیشنل‘ کی پروگرام منیجر نصرت شیخ ہیں انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سال اپریل اور مئی میں بھارتی بچوں کی ایک کرکٹ ٹیم پاکستان آئی تھی ان کا دورہ امن کے پیغام کے حوالے سے بے حد کامیاب رہا اور اب جوابی طور پر پاکستانی ٹیم وہاں جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پہنچنےکے بعد پاکستان اور بھارت کے بچوں پر مشتمل دو ایسی مشترکہ ٹیمیں بنائی جائیں گی کہ ہر ٹیم میں دونوں ملکوں کے کھلاڑی ہوں گے۔ سکور بورڈ کا نام دوستی ہوگا۔ چھکے کے مطلب تعلیم اور چوکے کا مطلب امن ہوگا۔ ڈبل رنز صاف پانی اور سنگل رن صحت کی علامت ہوگا۔ تین ہفتے کے دورے کے دوران یہ بچے امن و دوستی کے موضوع پر مصوری کریں گے اور بھارتی بچوں کے ساتھ ملکر پیار کے گیت گائیں گے۔ ان بچوں کے ساتھ دو ڈھولچی جارہے ہیں جو میچ کو دلچسپ بنانے کے لیے ڈھول بجائیں گے۔ پروگرام کے مطابق یہ بچے بھارت کے شہروں میں گلی محلوں میں پلنے والے بچوں سے ملاقاتیں کریں گے ان کے ساتھ کھیلیں گے اور انہیں پاکستان کی طرف سے امن اور دوستی کا پیغام دیں گے۔ پیر کو وفد کے اراکین نے لاہور کے جناح باغ کا دورہ کیا اور ایک بڑے بینر پر کھلتے رنگوں سے امن اور دوستی پر مشتمل موضوع پر مصوری کی انہوں نے گیت بھی گاۓ اور سیر کے لیے آئے شہریوں سے ہندوستان کے شہریوں کے لیے پیغامات ریکارڈ کیے۔ نصرت شیخ نے بتایا کہ یہ پیغامات بھارت میں سنائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے امن کا پیغام دینے کے علاوہ بچوں کے حقوق کے بارےمیں بھی بھارتی بچوں کو بتائیں گے۔ وفد کی ایک کم سن رکن شمائلہ نے کہا کہ وہ بھارت سے دوستی کے لیے جا رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ممالک میں دوستی ہوگی تو وہ اور دیگر پاکستانی بچے بھارت کی علی گڑھ یونیورسیٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں پڑھ سکیں گے اور اسی طرح بھارتی بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان آسکیں گے۔ حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے ایک بچے نے بتایاکہ جنگ نہیں ہونا چاہیے اور دونوں ملکوں کوپیار میں اس قدر آگے بڑھ جانا چاہیے کہ انہی ایک سمجھا جاۓ۔انہوں نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ اس دیش میں بھی اچھے لوگ رہتے ہیں۔ ان بچوں نے نعرے لگاۓ کہ کرکٹ تو بہانہ ہے دوستی کو بڑھانا ہے بھارت کے دورے کے دوران پاکستانی بچے ایڈز کے مریض بچوں سے بھی ملیں گے اس کے علاوہ یہ بچے بھارتی سیاستدانوں اور فلمی اداکاروں سے بھی ملاقات کریں گے اور انہیں امن و دوستی کا پیغام دیں گے۔ ان کی واپسی پانچ جنوری کو متوقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||