BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 December, 2004, 16:59 GMT 21:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری مذاکرات، پیش رفت نہیں
کہوٹہ ریسرٹ لیبارٹری
کہوٹہ ریسرٹ لیبارٹری
پاک بھارت مذاکرات میں’سر کریک‘ کے پاس سمندری حدود کے تعین کے لیے آئندہ جنوری میں مشترکہ سروے کرنے پر اتفاق کیا گیاہے لیکن جوہری اور روایتی اسلحہ کے متعلق اعتماد سازی کے اقدامات کے بارے میں دو روزہ بات چیت بغیر کسی بڑی پیش رفت کے ختم ہوگئی۔

تاہم دونوں ممالک نے اس ضمن میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت دفاع میں راولپنڈی میں ہونے والی بات چیت میں سرحدی حدود کے تعین کے لیے تین جنوری کو مشترکہ سروے شروع کرنے کے فیصلہ کو اہم پیش رفت کہا جارہا ہے کیونکہ اس سے پہلے دونوں ممالک میں یہ اتفاق نہیں ہوپا رہا تھا۔

اس بات چیت کے دوران پاکستانی وفد کی قیادت سرویئر جنرل میجر جنرل جمیل الرحمٰن آفریدی جبکہ بھارتی وفد کی سربراہی ڈپٹی سرویئر جنرل بریگیڈیئر گرش کمار نے کی۔

جوہری ہتھیاروں کے حادثاتی استعمال کو روکنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کے بارے میں ماہرین کی سطح کی بات چیت کے بارے میں پاکستانی وفد کے سربراہ طارق عثمان حیدر نے کہا: ’اب جنوبی ایشیا جوہری فلیش پوائنٹ نہیں ہے کیونکہ دونوں ممالک میں بعض تجاویز پر پیش رفت ہوئی ہے اور ہمیں بات چیت آگے بڑھانی ہے۔‘

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خارجہ سیکریٹریوں میں محفوظ ہاٹ لائین رابطہ قائم کرنے اور فوجی نمائندوں میں موجود ایسے رابطے کو اپ گریڈ کرنے پر دونوں ممالک میں اتفاق ہے لیکن اس کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔

اس موقع پر میزائیل تجربات سے قبل پیشگی اطلاع کے متعلق معاہدے میں رکاوٹوں کے بارے میں سوال پر بھارتی وفد کی سربراہ میرا شنکر نے کہا: ’اس نوعیت کے معاہدوں میں پیچیدگیاں ہوتی ہیں اور کئی سوالات بھی اٹھتے ہیں اور ہم نے دونوں ممالک کے لیے قابل قبول نکات کے بارے میں بحث کی ہے جو جاری رہے گی۔‘

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چھ ماہ قبل دہلی میں جوہری اعتماد سازی کے متعلق ہونے والی بات چیت میں فوجی سطح کے’ہاٹ لائین‘ کو ’اپ گریڈ‘ کرنے اور خارجہ سیکریٹریوں کے درمیاں ’محفوظ ہاٹ لائین‘ قائم کرنے کی تجاویز پر جلد عملدرآمد کرنے پر بات ہوئی۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ سن ننانوے میں لاہور کے یاداشت نامے کے مطابق طےشدہ جوہری اعتماد سازی کے ’فریم ورک‘ کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں نے عمل درآمد جاری رکھنے کی خواہشات کا اظہار کیا۔

جوہری اعتماد سازی کی مختلف تجاویز اور میزائل تجربات سے قبل ایک دوسرے کو باضابطہ طور پرآگاہ کرنے کے لیے معاہدہ نہ ہونے کی بظاہر کوئی وجہ تو نہیں بتائی گئی کہ اس میں کیا رکاوٹ تھی، البتہ بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ ستائیس دسمبر کو خارجہ سیکریٹریوں کے درمیاں ہونے والی بات چیت میں جوہری اعتماد سازی کے بارے میں پیش رفت پر غور ہوگا اور ماہرین کی سطح کی آئندہ ملاقات کی تاریخ بھی مقرر ہوگی۔

وزارت دفاع کی جانب سے سرکریک کے متعلق بات چیت کے بارے میں جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ مشترکہ سروے کے بعد دونوں ممالک مشترکہ رپورٹ اپنی اپنی حکومتوں کو پیش کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے جاری کردہ بیان میں روایتی اعتماد سازی کے متعلق بات چیت کی تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا ہے کہ دونوں وفود کے درمیان بات چیت تعمیری اور خوشگوار ماحول میں ہوئی اور کئی تجاویز کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

بیان کے مطابق ’روایتی اعتماد سازی کے بارے میں ہونے والی بحث کے نتائج سے خارجہ سیکریٹریز کو آگاہ کیا جائے گا۔‘ ان معاملات پر پاکستانی وفد کی قیادت تو طارق عثمان حیدر نے ہی کی البتہ بھارتی وفد کی سربراہی ارون کمار نے کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد