’ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ مسائل کے حل میں پاکستان اور بھارت ناکام نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک میں بات چیت جاری ہے اور پاکستان پرامید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا پاکستان اور بھارت مسائل کے حل میں ناکام ہوگئے ہیں کہ ایک امریکی تنظیم کے زیرِانتظام کٹھمنڈو میں دونوں جانب کے کشمیری رہنماؤں کی ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے؟ ترجمان نے کہا ’ہم نہیں سمجھتے کہ ہم ناکام ہوئے ہیں۔ بات چیت جاری ہے اور ہم پرامید ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ کٹھمنڈو کانفرنس میں دونوں جانب کے کشمیری رہنما اور سیکورٹی کے عالمی ماہرین بھی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں پائیدار حل کے لیے مشاورت ہورہی ہے اور پاکستان دیکھ رہا ہے کیا نتائج نکلتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اسلحہ کے حصول کے بارے میں بھارتی تشویش مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت خود دنیا بھر سے جدید اسلحہ خرید رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آئندہ پندرہ برس میں پچانوے ارب ڈالرز کا اسلحہ خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی بیانات مذاکرات کے ماحول کے لیے خلل آمیز ہیں اور بھارتی قیادت کو ایسا نہیں کرنا چاہیِے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی بندوقوں اور طیاروں کے برابر اسلحہ حاصل نہیں کرنا چاہتا بلکہ روایتی اسلحے کا توازن چاہتا ہے جو گزشتہ دہائی میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے شدید طور پر متاثر ہوا تھا۔ سرینگر۔مظفر آباد بس سروس کی بحالی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں مذاکرات کے مزید دور ہونے ہیں اور سفری دستاویزات کے بارے میں بھارت کے وزیر خارجہ کہہ چکے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ وزرائے خارجہ کی ملاقات میں یہ معاملہ حل ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے کہ کنٹرول لائن کو مستقل حیثیت نہیں دی جاسکتی اس لیے بھارت کو پاسپورٹ استمعال کرنے کی تجویز ختم کرنی چاہیے۔ بغلیار ڈیم کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عوام کی خواہش ہے کہ حکومت کو اب تک عالمی بینک سے ثالثی کے لیے رجوع کرلینا چاہیے تھا۔ لیکن انہوں نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ دوطرفہ سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے اور بھارتی قیادت کی بھی یہ ہی خواہش ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسا نہیں ہوا تو پاکستان عالمی بینک سے غیرجانبدار ماہرین مقرر کرنے کی درخواست کرے گا اور پاکستان ذہن بنا چکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اسامہ بن لادن چترال سمیت پاکستان کے کسی حصے میں نظر نہیں آئے اور نہ ہی امریکی فورسز چترال میں کوئی آپریشن شروع کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کی تمام خبریں محض افواہیں ہیں اور افغان صدر حامد کرزئی خود کہہ چکے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان میں ہوں۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان القاعدہ کے مشتبہ افراد کی تلاش جاری رکھےگا۔ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے بھارت جانے اور پاکستان نہ آنے کے متعلق انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حال ہی میں امریکی صدر سمیت ان کی کابینہ کے اہم اراکین سے واشنگٹن میں ملاقات ہوچکی ہے اور مختلف معاملات پر بات بھی ہوئی ۔ ترجمان نے بتایا کہ جوہری اور روایتی اسلحہ کے شعبوں میں اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے بارے میں پاکستان اور بھارت کے ماہرین کی سطح پر دو روزہ بات چیت منگل چودہ دسمبر کو اسلا آباد میں شروع ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان روابط بڑھانے اور خارجہ سیکریٹریوں کے درمیاں ’ہاٹ لائن، رابطہ بحال کرنا چاہیے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیاں قابل اعتماد رابطے قائم ہو سکیں۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز چودہ سے اٹھارہ دسمبر تک چین کے دورے پر روانہ ہورہے جہاں وہ چینی قیادت سے ملیں گے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے بارے میں بات کریں گے۔ وہ چین کی مختلف کارپوریشن کے سربراہان سے ملیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||