آئی ٹی کے شعبے میں تعاون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے انفرمیشن ٹیکنالوجی’آئی ٹی، سے وابستہ کمپنیوں کی تنظیموں کے رہنماؤں نے جمعرات کے روز ایک یاداشت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اس یاداشت نامے کا مقصد دونوں ممالک کے نجی شعبوں میں انفرمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون وسیع کرنا بتایا گیا ہے۔ یہ دستخط اسلام آباد میں ہونے والی’انفرمیشن ٹیکنالوجی، کانفرنس میں کیے گئے، اس موقع پر پاکستان کے متعلقہ وزارت کے وفاقی وزیر اویس احمد لغاری بھی موجود تھے۔ بھارت کی ’آئی ٹی، کمپنیز کی تنظیم’نیسکام، کے چیئرمین کرن کارنک اور پاکستانی کمپنیوں کی تنظیم ’پاشا، کی سربراہ جہان آراء نے اس یاداشت نامے پر دستخط کیے۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انفرمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اویس احمد لغاری نے کہا کہ بھارت اس شعبے میں پاکستان سے خاصا آگے ہے اور پاکستان کا ان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ انہوں دونوں ممالک کے نجی شعبوں میں تعاون وسیع کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے تمام سہولتیں دینے کی یقین دہانی کرائی۔ البتہ انہوں نے دونوں ممالک کے نمائندوں کی جانب سے کی گئی تقریروں میں اس شعبے کی درآمدات پر ڈیوٹی کی شرح کم بلکہ صفر کرنے کے متعلق جو تجویز پیش کی اس پر وزیر نے کچھ نہیں کہا۔ وزیر کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ممالک مشترکہ طور پر اس شعبے میں آگے بڑھیں تو دنیا میں اہم حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا دونوں ممالک میں کاروبار بڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کو ’جوائنٹ وینچر، شروع کرنے چاہیے۔ بھارت کی تنظیم کے نمائندوں کرن کارنک اور جیری راؤ نے بھارت کیے ’آئی ٹی، شعبے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اس شعبے کے کل کاروبار میں بھارت کا حصہ تین فیصد بنتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت نےگزشتہ پانچ برسوں میں’آئی ٹی، کے شعبے کی سالانہ ترقی میں اضافے کی شرح پچاس فیصد رہی ہے۔ انہوں نے کہا بیرونی سرمایاکاری کی اجازت اور سہولتیں دی جائیں تو یہ شعبہ خاصی ترقی کر سکتا ہے۔ گزشتہ سال اس صنعت نے بھارت میں سوا دس ارب امریکی ڈالر کا کاروبار کیا جس میں سات ارب اسی کروڑ کی برآمدات بھی شامل ہیں۔ جیری راؤ نے کہا کہ ’ہم خدمات اور پیداوری اشیاء کے خریدار ہیں اور پاکستان سے وسیع تعاون چاہتے ہیں تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے وسائل، تجربات اور ٹیکنالونجی سے استفادہ کر سکیں۔ اس موقع پر پاکستانی تنظیم کے نمائندوں جہان آراء اور ضیاء چشتی نے کہا کہ مہمان مقررین کا خیر مقدم کیا اور پاکستان میں اس صنعت کے اندر سرمایہ کاری کے مواقع کا خلاصہ پیش کیا۔ ضیاء چشتی نے امریکہ میں پیش آنے والےگیارہ ستمبر کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حالات بدلے اور جہاں پاکستان میں بیرونی سرمایہ آیا وہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ، فنی ماہرین اور ’ٹیلنٹ، بھی واپس آیا اور کچھ برسوں سے ’آئی ٹی، کی صنعت نے خاصی ترقی کی ہے۔ دونوں ممالک کے کاروباروں نے میل ملاقاتیں اور قریبی رابطہ جاری رکھنے کے عزم کا اعائدہ کیا۔ بھارتی تنظیم کے صدر نے پاکستان کے وزیر برائے انفرمیشن ٹیکنالوجی کو آئندہ سال فروری میں دلی میں ہونے والی سالانہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||